صحيح مسلم
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل
باب الْقَدْرِ الْمُسْتَحَبِّ مِنَ الْمَاءِ فِي غُسْلِ الْجَنَابَةِ وَغُسْلِ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ فِي حَالَةٍ وَاحِدَةٍ وَغُسْلِ أَحَدِهِمَا بِفَضْلِ الآخَرِ: باب: غسل جنابت کے لیے پانی کی مستحب مقدار، اور شوہر اور بیوی کا ایک برتن سے پانی لے کر ایک حالت میں غسل کرنا، اور ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرنا۔
وحَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَفْصٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، أَنَا وَأَخُوهَا مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَسَأَلَهَا عَنْ غُسْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ : " فَدَعَتْ بِإِنَاءٍ قَدْرِ الصَّاعِ ، فَاغْتَسَلَتْ ، وَبَيْنَنَا وَبَيْنَهَا سِتْرٌ ، وَأَفْرَغَتْ عَلَى رَأْسِهَا ثَلَاثًا " ، قَالَ : وَكَانَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذْنَ مِنْ رُءُوسِهِنَّ ، حَتَّى تَكُونَ كَالْوَفْرَة .ابوبکر بن حفص نے ابوسلمہ بن عبدالرحمن (بن عوف جو حضرت عائشہ کے رضاعی بھانجے تھے) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا رضاعی بھائی (عبداللہ بن یزید) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا، چنانچہ انہوں نے ایک صاع کے بقدر برتن منگوایا اور اس سے غسل کیا، ہمارے اور ان کے درمیان (دیوار وغیرہ کا) پردہ حائل تھا، اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا۔ ابوسلمہ نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات اپنے سر (کے بالوں) کو کاٹ لیتی تھیں یہاں تک کہ وہ وفرہ (کانوں کے نچلے حصے کی لمبائی کے بال) کی طرح ہو جاتے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
يَأْخُذْنَ مِنْ رَؤُسِهِنَّ: اپنے سر کے بال وفرۃ کی طرح بنا لیتیں، عورتیں جب غسل کرتی ہیں اگر ان کے بال کھلے ہوں تو وہ ان کو اکٹھا کر کے، سر یا گدی پر رکھ لیتی ہیں، تاکہ جسم پر پانی بہانا آسان ہو جائے، اگر بال کھلے ہوں اور پشت پر پڑے رہے ہوں تو ان کے نیچے سے جسم کو دھونا دقت اور کلفت کا باعث بنتا ہے، اس لیے اخذ کا معنی پکڑنا ہے، کاٹنا نہیں ہے۔
(2)
وفرة: عام اہل لغت کے نزدیک کانوں تک کے بال اور امام اصمعی کے نزدیک کندھوں پر پڑنے والے بال کو کہتے ہیں۔
فوائد ومسائل: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اپنے رضاعی بھائی عبداللہ بن یزید اور رضاعی بھانجے ابوسلمہ کو غسل کر کے دکھایا تاکہ انہیں غسل کے پانی کے لیے پانی کی مقدار اور غسل کی کیفیت دونوں کا علم ہو سکے نیز اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ محرم کے لیے عورت کے بدن کا اوپر والا حصہ دیکھنا جائز ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سر کے دھونے کا طریقہ دکھلایا تھا اور باقی بدن مستور تھا۔
ابوسلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن ام کلثوم نے دودھ پلایا تھا۔
(فتح المهلم ج: 1 ص 472)