حدیث نمبر: 313
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ : " جَاءَتْ أَمُّ سُلَيْمٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ ، فَهَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ مِنْ غُسْلٍ إِذَا احْتَلَمَتْ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ ، إِذَا رَأَتِ الْمَاءَ ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَتَحْتَلِمُ الْمَرْأَةُ ؟ فَقَالَ : تَرِبَتْ يَدَاكِ ، فَبِمَ يُشْبِهُهَا وَلَدُهَا ".

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! اللہ تعالیٰ حق کے بارے میں پوچھنے اور بیان کرنے میں حیا محسوس نہیں کرتا، تو کیا جب عورت کو احتلام ہو جائے، تو وہ نہائے گی؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، جب منی کا پانی دیکھے۔“ تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! عورت کو بھی احتلام ہو جاتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ جَمِيعًا ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الإِسْنَادِ ، مِثْلَ مَعْنَاهُ وَزَادَ ، قَالَتْ : قُلْتُ : " فَضَحْتِ النِّسَاءَ " .

ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی (سابقہ حدیث) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے: ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ میں نے کہا: تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا۔ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں موجود تھیں، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی۔)

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 313
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»