حدیث نمبر: 312
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الأَشْجَعِيُّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَأَلَتِ امْرَأَةٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنَ الْمَرْأَةِ ، تَرَى فِي مَنَامِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي مَنَامِهِ ؟ فَقَالَ : " إِذَا كَانَ مِنْهَا مَا يَكُونُ مِنَ الرَّجُلِ فَلْتَغْتَسِلْ " .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے بارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الحيض / حدیث: 312
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 195 | صحيح مسلم: 310 | صحيح مسلم: 311 | سنن ابن ماجه: 601

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 195 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´احتلام ہونے پر عورت کے غسل کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب وہ انزال کرے تو غسل کرے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 195]
195۔ اردو حاشیہ: خواب مرد اور عورت دونوں کو آ سکتا ہے۔ خواب میں جماع والا عمل بھی نظر آ سکتا ہے مگر غسل تب واجب ہوتا ہے جب منی نکلے، خواہ مرد ہو یا عورت۔ اگر منی نہ نکلے تو، خواہ خواب میں اس نے مکمل جماع بھی کیا ہو، غسل واجب نہ ہو گا۔ اور اگر خواب کے بغیر بلاشہوت سوتے میں منی نکل جائے تو غسل واجب ہو جاتا ہے، مرد ہو یا عورت۔ گویا احتلام میں غسل کا سبب منی کا نکلنا ہی ہے، چاہے منی مرد کی نکلے یا عورت کی۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 195 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 310 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ام سلیم رضی اللہ تعالی عنہا (جو اسحاق کی دادی ہیں) رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی موجودگی میں آپﷺ سے پوچھا: اے اللہ کے رسول ﷺ! عورت نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنے بارے میں دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے) تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نے کہا: اے ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو تو آپﷺ نے فرمایا: ’’بلکہ تیرا ہاتھ خاک... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:709]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
فَضِحْتِ النِّسَاء: (تو نے ایسی بات کر کے جس کے اظہار میں شرم محسوس کی جاتی ہے)
انہیں رسوا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے، ان کے اندر، مرد کے پاس جانے کی شدید خواہش ہے۔
(2)
تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ: عربی محاورہ کی رو سے یہ کلمہ ایسے وقت بولتے ہیں جب کسی کی بات پسند نہ ہو، یا اس پر ناراض اور ناگواری کا اظہار کرنا مقصود ہو یا اس بات کا انکار اور اس پر زجروتوبیخ کرنی ہو یا حیرت وتعجب کا اظہار مقصود ہو، لفظی معنی یا بددعا مقصود نہیں ہوتی، اس لیے آپﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں الفاظ کو استعمال فرمایا، کہ تیری بات قابل انکار ہے، اس نے تو ایک ایسا دینی مسئلہ پوچھا ہے، جو پوچھنا ہی چاہیے تھا۔
فوائد ومسائل: جس طرح احتلام کی صورت میں مرد کے لیے غسل لازم ہے اگر کبھی عورت کو احتلام ہو جائے تو اسے بھی نہانا پڑے گا محض مخصوص جگہ کے دھونے اور وضو کرنے پر کفایت نہیں کر سکے گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 310 سے ماخوذ ہے۔