صحيح مسلم
كتاب الحيض— حیض کے احکام و مسائل
باب وُجُوبِ الْغُسْلِ عَلَى الْمَرْأَةِ بِخُرُوجِ الْمَنِيِّ مِنْهَا: باب: عورت سے منی نکلے پر غسل واجب ہے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : قَالَ إِسْحَاق بْنُ أَبِي طَلْحَةَ ، حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَ : " جَاءَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ وَهِيَ جَدَّةُ إِسْحَاق إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ لَهُ وعَائِشَةُ عِنْدَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَرْأَةُ تَرَى مَا يَرَى الرَّجُلُ فِي الْمَنَامِ ، فَتَرَى مِنْ نَفْسِهَا مَا يَرَى الرَّجُلُ مِنْ نَفْسِهِ ؟ فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، فَضَحْتِ النِّسَاءَ ، تَرِبَتْ يَمِينُكِ ، فَقَالَ لِعَائِشَةَ : بَلْ أَنْتِ ، فَتَرِبَتْ يَمِينُكِ ، نَعَم ، فَلْتَغْتَسِلْ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ ، إِذَا رَأَتْ ذَاكِ .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا (جو اسحاق کی دادی ہیں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! عورت نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنے بارے میں دیکھتا ہے (تو وہ کیا کرے) تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے ام سلیم! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بلکہ تیرا ہاتھ خاک آلود ہو، ہاں اے ام سلیم! جب وہ یہ منظر دیکھے تو غسل کرے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
فَضِحْتِ النِّسَاء: (تو نے ایسی بات کر کے جس کے اظہار میں شرم محسوس کی جاتی ہے)
انہیں رسوا کر دیا ہے، کیونکہ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے، ان کے اندر، مرد کے پاس جانے کی شدید خواہش ہے۔
(2)
تَرِبَتْ يَمِيْنُكِ: عربی محاورہ کی رو سے یہ کلمہ ایسے وقت بولتے ہیں جب کسی کی بات پسند نہ ہو، یا اس پر ناراض اور ناگواری کا اظہار کرنا مقصود ہو یا اس بات کا انکار اور اس پر زجروتوبیخ کرنی ہو یا حیرت وتعجب کا اظہار مقصود ہو، لفظی معنی یا بددعا مقصود نہیں ہوتی، اس لیے آپﷺ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے انہیں الفاظ کو استعمال فرمایا، کہ تیری بات قابل انکار ہے، اس نے تو ایک ایسا دینی مسئلہ پوچھا ہے، جو پوچھنا ہی چاہیے تھا۔
فوائد ومسائل: جس طرح احتلام کی صورت میں مرد کے لیے غسل لازم ہے اگر کبھی عورت کو احتلام ہو جائے تو اسے بھی نہانا پڑے گا محض مخصوص جگہ کے دھونے اور وضو کرنے پر کفایت نہیں کر سکے گی۔
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس عورت کے متعلق دریافت کیا جو اپنے خواب میں وہ چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جب وہ انزال کرے تو غسل کرے۔" [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 195]