حدیث نمبر: 3032
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَطَبَ عُمَرُ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ أَلَا وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ ، وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَاءَ مِنَ الْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالزَّبِيبِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ ، وَثَلَاثَةُ أَشْيَاءَ وَدِدْتُ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهَا الْجَدُّ ، وَالْكَلَالَةُ ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا " .

علی بن مسہر نے ابوحیان سے، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر (کھڑے ہو کر) خطبہ دیا، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: اس کے بعد: سنو! شراب کی حرمت نازل ہوئی، جس دن وہ نازل ہوئی (اس وقت) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی: گندم، جو، خشک کھجور، انگور اور شہد سے، خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔ اور لوگو! تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا: دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے ابواب میں سے چند ابواب۔

وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولَ : " أَمَّا بَعْدُ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ ، مِنَ الْعِنَبِ ، وَالتَّمْرِ ، وَالْعَسَلِ ، وَالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرِ ، وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ ، وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ ، الْجَدُّ ، وَالْكَلَالَةُ ، وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا " ،

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا:حمد وثنا کےبعد،لوگو!شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی،انگور،کھجور،شہد،گندم اور جو سے اور خمر(شراب) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے۔لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اور زیادہ قطیعت سے واضح فرمادیتے:دادا اور کلالہ کی میراث اور ابواب ربا کے مسائل۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ كِلَاهُمَا ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا ، غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِي حَدِيثِهِ الْعِنَبِ كَمَا ، قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَى الزَّبِيبِ كَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ .

امام صاحب یہی روایت دو اور اساتذہ سے بیان کرتے ہیں،ابن علیہ کی روایت میں،ابن ادریس کی طرح انگور کا لفظ ہےاور عیسیٰ کی حدیث میں ابن مسہر کی طرح منقہ(زبیب) کا لفظ ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التفسير / حدیث: 3032
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں:حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر(کھڑے ہوکر) خطبہ دیا،اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی،پھر کہا:اس کے بعد: سنو!شراب کی حرمت نازل ہوئی،جس دن وہ نازل ہوئی(اس وقت) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی۔گندم،جو،خشک کھجور،انگور اور شہد سے،خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے۔اورلوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا:دادا اور کلالہ کی میراث اور... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7559]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، ہر وہ مشروب جو عقل کو ماؤف کرے، عقل پر اثر انداز ہو، وہ خمر ہے، لہٰذااس کا استعمال اور خریدوفروخت ناجائز ہے اور وہ نجس پلید ہے، تفصیلات، کتاب الا شربہ میں گزرچکی ہیں، دادا کی وراثت اور کلالہ کے بارے میں تفصیلات، کتاب الفرائض میں گزر چکی ہیں اور رباء(سود)
کی دوصورتیں ہیں، (1)
ربا النسئة ادھار پر سود، اس کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے، اس لیے اس کی حرمت میں اختلاف نہیں ہے، (2)
ربا الفضل ایک قسم کی اشیاء کا کمی وبیش کے ساتھ تبادلہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، چھ قسم کی اشیاء کی تعیین کی ہے، اس لیے ان کی علت نکالنے میں اختلاف ہے اور بعض لوگ اس میں علت کے قائل نہیں ہیں، اس لیے اس میں اختلاف ہے، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خواہش تھی کہ آپ ان تینوں اشیاء کی تفصیل بیان کردیتے کہ ان میں اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رہتی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3032 سے ماخوذ ہے۔