حدیث نمبر: 3030
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ سورة الإسراء آية 57 ، قَالَ : كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا ، وَكَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَى عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ " .

عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے، انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کون زیادہ نزدیک ہو گا۔" (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہو گئی تھی اور (اس سے پہلے) ان کی پوجا کی جاتی تھی، تو جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، ان کی عبادت پر قائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔

حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ " أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 ، قَالَ : كَانَ نَفَرٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ ، فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنَ الْجِنِّ وَاسْتَمْسَكَ الْإِنْسُ بِعِبَادَتِهِمْ ، فَنَزَلَتْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 " ،

سفیان نے اعمش سے انہوں نے ابراہیم سے، انہوں نے ابومعمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے متعلق) روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔" (ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے) کہا: انسانوں کی ایک جماعت جنوں کی ایک جماعت کی پرستش کرتی تھی، تو جنوں کی جماعت نے اسلام قبول کر لیا اور انسان بدستور ان کی عبادت سے لگے رہے۔ اس پر (یہ آیت) نازل ہوئی: "وہ لوگ جنھیں یہ پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف (کسی نیک عمل کا) وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔"

وحَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .

شعبہ نے سلیمان (اعمش) سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت کی۔

وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ " أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنَ الْعَرَبِ كَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ ، فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ وَالْإِنْسُ الَّذِينَ كَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ، فَنَزَلَتْ أُولَئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ سورة الإسراء آية 57 " .

عبداللہ بن عتبہ نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے (اس آیت کے متعلق) روایت کی: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف (کسی نیک عمل کا) وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔" انہوں نے کہا: یہ (آیت) عربوں کے ایک ایسے گروہ کے بارے میں نازل ہوئی جو جنوں کے ایک گروہ کی عبادت کیا کرتے تھے۔ جنوں نے اسلام قبول کر لیا جبکہ وہ انسان جو ان کی عبادت کیا کرتے تھے، انھیں پتہ تک نہ چلا۔ اس پر یہ آیت اتری: "وہ لوگ جنھیں یہ (کافر) پکارتے ہیں، وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التفسير / حدیث: 3030
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی:"وہ لوگ جنھیں یہ(کافر) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا۔"(ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے) کہا:جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور(اس سے پہلے) ان کی پوجاکی جاتی تھی،تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے،ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7554]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: وسیلہ کا معنی تقرب و نزدیکی ہے، مقصود یہ ہے کہ جن لوگوں کی یہ مشرک بندگی کرتے ہیں، وہ جن ہوں، یا ملائکہ یا انبیاء، وہ توخود اللہ کی بندگی کرتے ہیں اور اس کا تقرب حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر اس کی اطاعت کرتے ہیں، وہ کیسے چاہ سکتے ہیں کہ کوئی ان کی عبادت یا بندگی کرے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3030 سے ماخوذ ہے۔