حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَهُشَيْمٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ مُنْذِرِ بْنِ يَعْلَى وَيُكْنَى أَبَا يَعْلَى ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً ، وَكُنْتُ أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَانِ ابْنَتِهِ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " يَغْسِلُ ذَكَرَهُ ، وَيَتَوَضَّأُ " .وکیع، ابومعاویہ اور ہشیم نے اعمش سے حدیث بیان کی، انہوں نے منذر بن یعلیٰ سے (جن کی کنیت ابویعلیٰ ہے) انہوں نے ابن حنفیہ سے، انہوں نے (اپنے والد) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: مجھے مذی (منی سے مختلف رطوبت جو اسی راستے سے خارج ہوتی ہے) زیادہ آتی تھی اور میں آپ کی بیٹی کے (ساتھ) رشتے کی وجہ سے براہ راست نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتا تھا۔ میں نے مقداد بن اسود سے کہا، انہوں نے آپ سے پوچھا، آپ نے فرمایا: ”(اس میں متبلا آدمی) اپنا عضو مخصوص دھوئے اور وضو کر لے۔“
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُنْذِرًا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنَّهُ قَالَ : اسْتَحْيَيْتُ أَنْ أَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَذْيِ ، مِنْ أَجْلِ فَاطِمَةَ ، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ ، فَسَأَلَهُ ، فَقَالَ : " مِنْهُ الْوُضُوءُ " .شعبہ نے سلیمان اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا (کے ساتھ رشتے) کی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی کے بارے میں پوچھنے میں شرم محسوس کی تو میں نے مقداد کو کہا، انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ نے فرمایا: ”اس سے وضو (کرنا پڑتا) ہے۔“
وحَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الأَيْلِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : " أَرْسَلْنَا الْمِقْدَادَ بْنَ الأَسْوَدِ ، إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَسَأَلَهُ عَنِ الْمَذْيِ يَخْرُجُ مِنَ الإِنْسَانِ ، كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : تَوَضَّأْ وَانْضَحْ فَرْجَكَ " .حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انسان سے نکلنے والی مذی کے بارے میں پوچھا کہ وہ اس کا کیا کرے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو کر اور شرم گاہ کو دھو لے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
مذي: وہ سفید اور باریک (پتلا)
مادہ جو بیوی سے ملاعبت ہنسی مذاق کرتے وقت بعض دفعہ غیر شعوری طور پر ہی نکل جاتا ہے۔
1۔
مذی اس رطوبت کوکہتے ہیں جو بیوی سے ملاعبت اور بوس وکنار کے وقت خارج ہوتی ہے۔
اس میں اور منی میں کئی لحاظ سے فرق ہے: *۔
منی گاڑھی لیس دار ہوتی ہے، جبکہ مذی ایک رقیق لیس دار مادہ ہے۔
*۔
منی بھر پور شہوت سے خارج ہوتی ہے، جبکہ مذی میں شہوت کمزور ہوتی ہے۔
*۔
منی کے خروج سے غسل واجب ہوتا ہے، جبکہ مذی سے صرف وضو کرنا ضروری ہے۔
*۔
منی کی طہارت کھرچنے سے بھی ہوسکتی ہے، جبکہ مذی کو دھونا ضروری ہے۔
بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی ؓ نے خود بھی سوال کیا تھا، لیکن مذکورہ حدیث میں ہے کہ حضرت علی ؓ رسول اللہ ﷺ سے تعلق دامادی کی بنا پر براہ راست خود اس قسم کا سوال کرنے سے شرماتے تھے۔
محدثین نے تطبیق کی یہ صورت نکالی ہے کہ پہلے آپ نے حضرت عمار ؓ اور حضرت مقداد ؓ سے سوال کرنے کے متعلق کہا، جب ان کے دریافت کرنے پر جواب مل گیا تو مزید اطمینان کے لیے کسی موقع پر خود بھی دریافت کر لیا ہو گا۔
صحیح اور صریح احادیث کے پیش نظر تینوں کی طرف سوال کی نسبت حقیقی ہے۔
(عمدۃ القاري: 44/3)
2۔
علامہ عینی ؒ نے اس حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل کا استنباط کیا ہے:۔
مسئلہ پوچھنے میں دوسروں کو وکیل بنایا جا سکتا ہے۔
۔
خبر مقطوع پر قدرت کے باوجود خبر مظنون پر اعتماد درست ہے۔
۔
دامادی اور سسرالی رشتوں کی رعایت کرنا ایک اچھااقدام ہے۔
۔
شوہر کو خاص طورپر نسوانی تعلق کی باتیں اپنے قریبی (سسرالی)
رشتے داروں کے سامنے نہیں کہنی چائیں۔
۔
مذی کے خروج سے صرف وضو واجب ہوتا ہے، غسل کی ضرورت نہیں۔
۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو رسول اللہ ﷺ کی انتہائی تعظیم وتوقیر ملحوظ ہوا کرتی تھی۔
۔
شرم وحیا کی بات براہ راست نہ کرنے میں ادب واحترام کا پہلو نمایاں ہوتا ہے۔
(عمدة القاري: 45/3)
1۔
اس حدیث کو امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس لیے بیان فرمایا ہے کہ یہ خروج مذی سے وضو کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے اور اس کا خروج بھی بول وبراز کے راستے سے ہوتا ہے۔
مذی اس رطوبت کو کہتے ہیں جو بیوی سے بوس وکنار کرتے وقت عضو مستور سے خارج ہوتی ہے۔
اس کے آنے کی صورت میں طہارت کے لیے صرف وضو ہی کافی ہے، غسل کی ضرورت نہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عقد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لخت جگرحضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تھیں، اس رشتے داری کی وجہ سے خود پوچھنا مناسب نہ سمجھا، اس لیے حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعے سے مسئلہ دریافت کیا۔
یہ حدیث پہلے (نمبر: 132)
کتاب العلم کے تحت گزر چکی ہے۔
وہاں دیگر فوائد دیکھے جاسکتے ہیں۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اسے کتاب الغسل (حدیث: 269)
میں بھی بیان کیا ہے، اس روایت میں ہے: آپ نے فرمایا: ’’وضو کرے اور اپنے عضو مستور کو دھولے۔
‘‘ 2۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا براہ راست ایسے مسائل پوچھنے سے احتراز کرنا قابل تعریف وصف ہے۔
اس فعل سے معلوم ہوا کہ سسر کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آنا چاہیے اور اس کی موجودگی میں داماد کو چاہیے کہ بیوی سے دل لگی سے متعلق کوئی تذکرہ نہ کرے۔
3۔
حضرت مقداد کے والد کا نام عمرو بن ثعلبہ ہے۔
انھیں ابن اسود اس لیے کہا جاتا ہے کہ اسود بن عبد یغوث نے ان کی تربیت کی تھی یا انھیں لے پالک بنایا تھا یا ان سے عقد حلف کیا تھا یا ان کی والدہ سے نکاح کیا تھا۔
پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں۔
انھوں نے غزوہ بدر میں بھی شرکت فرمائی۔
4۔
آخر میں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس روایت کا ایک دوسرا طریق بیان فرمایا ہے کہ اس روایت کو امام اعمش سے حضرت شعبہ نے بھی بیان کیا ہے۔
اسے ابوداود طیالسی نے اپنی مسند میں ذکر کیا ہے۔
(فتح الباري: 370/1)
«. . . عَنْ عَلِيِّ، قَالَ: كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: فِيهِ الْوُضُوءُ . . .»
”. . . وہ علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` میں ایسا شخص تھا جسے جریان مذی کی شکایت تھی، تو میں نے (اپنے شاگرد) مقداد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں۔ تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس (مرض) میں غسل نہیں ہے (ہاں) وضو فرض ہے . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ:: 132]
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے رشتہ دامادی کی بنا پر اس مسئلے کے بارے میں شرم محسوس کی مگر مسئلہ معلوم کرنا ضروری تھا تو وہ دوسرے صحابی کے ذریعے دریافت کرایا۔ اسی سے ترجمۃ الباب ثابت ہوتا ہے۔
«. . . عَنْ عَلِيِّ، قَالَ: " كُنْتُ رَجُلًا مَذَّاءً، فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ أَنْ يَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَهُ، فَقَالَ: فِيهِ الْوُضُوءُ . . .»
”. . . علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ` میں ایسا شخص تھا جسے جریان مذی کی شکایت تھی، تو میں نے (اپنے شاگرد) مقداد کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں۔ تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس (مرض) میں غسل نہیں ہے (ہاں) وضو فرض ہے۔ . . .“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِلْمِ/بَابُ مَنِ اسْتَحْيَا فَأَمَرَ غَيْرَهُ بِالسُّؤَالِ: 132]
[175۔ البخاري فى: 4 كتاب الوضوء: 34 باب من لم ير الوضوء إلا من المخرجين 132، مسلم 303]
لغوی توضیح:
«الْمَذِیّ» ایسا باریک پانی جو کمزور شہوت کے وقت، یا اپنی بیوی سے کھیلتے وقت، یا اسی کی مثل کسی کام میں بغیر اچھلنے کے شرمگاہ سے خارج ہو۔
«مَـــدَّاء» جسے بہت زیادہ مذی آتی ہو۔ مذی نجس و پلید ہے اور اس پر اجماع ہے۔ [المجموع 552/2، نيل الأوطار 103/1، بداية المجتهد 73/1، المهذب 46/1]
اور جسے مذی آئے اس پر لازم ہے کہ اسے دھوئے اور پھر اگر نماز پڑھنی ہے تو وضو کرے، اس سے غسل واجب نہیں ہوتا، جیسا کہ حدیث کے الفاظ ”اس میں صرف وضو لازم ہے“ سے واضح ہے۔
1۔
دوسری روایت میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ براہ راست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مسئلہ دریافت نہ کر سکے۔
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کے نکاح میں تھیں۔
(صحیح البخاري، الغسل، حدیث: 269)
اس خاص رشتے داری کی وجہ سے خود پوچھنا مناسب خیال نہ کیا۔
اس طرح کی شرم میں کوئی قباحت نہیں جبکہ کسی دوسرے کے ذریعے سے مسئلہ دریافت کر لیا جائے، چنانچہ آپ نے پہلے حضرت عمار کو کہا پھر مقداد کو حکم دیا کہ وہ اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کریں بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں یہ مسئلہ دریافت کیا۔
(فتح الباري: 493/1)
2۔
بیوی کے ساتھ بوس و کنار کی صورت میں عضو مخصوص سے رطوبت خارج ہوتی ہے۔
اسے مذی کہا جاتا ہے۔
یہ پیشاب کی طرح ناقض وضو ہے۔
اس کے خارج ہونے سے غسل ضروری نہیں بلکہ صرف وضو ہی کافی ہے۔
اس حدیث سے متعلق دیگر احکام ومسائل کتاب الوضو اور کتاب الغسل میں بیان ہوں گے۔
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا: ” مذی سے وضو ہے اور منی سے غسل “ ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 114]
1؎:
حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ مذی کے نکلنے سے غسل واجب نہیں ہوتا، اس سے صرف وضو ٹوٹتا ہے، مذی سفید، پتلا لیس دار پانی ہے جو بیوی سے چھیڑ چھاڑ کے وقت اور جماع کے ارادے کے وقت مرد کی شرم گاہ سے خارج ہوتا ہے۔
2؎:
خواہ یہ منی جماع سے نکلے یا چھیڑ چھاڑ سے، یا خواب (نیند) میں، بہر حال اس سے غسل واجب ہو جاتا ہے۔
نوٹ:
(سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
«. . . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَفْعَلْ إِذَا رَأَيْتَ الْمَذْيَ، فَاغْسِلْ ذَكَرَكَ وَتَوَضَّأْ وُضُوءَكَ لِلصَّلَاةِ، فَإِذَا فَضَخْتَ الْمَاءَ فَاغْتَسِلْ . . .»
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ایسا نہ کرو، جب تم مذی دیکھو تو صرف اپنے عضو مخصوص کو دھو ڈالو اور وضو کر لو، جیسے نماز کے لیے وضو کرتے ہو، البتہ جب پانی ۳؎ اچھلتے ہوئے نکلے تو غسل کرو . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 206]
”منی“ وہ مادہ ہوتا ہے جو انزال کے وقت (تیزی سے اور اچھل کر) نکلتا ہے۔ اور ”مذی“ وہ رطوبت ہوتی ہے جو بوس و کنار یا شدت جذبات کے اثر سے لیس دار شکل میں نکلتی ہے۔ ”ودی“ وہ لیس دار پانی ہوتا ہے جو پیشاب سے پہلے یا بعد نکل آتا ہے۔ غسل صرف منی کے نکلنے سے واجب ہے۔ اگر انتہائی کمزوری کے باعث یا کوئی وزن وغیرہ اٹھانے سے یا کسی اور وجہ سے منی نکل آئے اور اس میں ”زور اور اچھل کر نکلنے“ کی کیفیت نہ ہو، تو غسل واجب نہ ہو گا۔
ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک ایسا آدمی تھا جسے کثرت سے مذی ۱؎ آتی تھی، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی (فاطمہ رضی اللہ عنہا) میرے عقد نکاح میں تھیں، جس کی وجہ سے میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے میں شرم محسوس کی، تو میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے ایک آدمی سے کہا: تم پوچھو، تو اس نے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اس میں وضو ہے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/صفة الوضوء/حدیث: 152]
➋ پہلو میں بیٹھے ہوئے شخص حضرت مقداد رضی اللہ عنہ تھے۔ دیکھیے: [صحیح البخاري، العلم، حدیث: 132، و صحیح مسلم، الحیض، حدیث: 303]
سنن نسائی کی روایت میں ہے کہ حضرت علی نے حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو کہا کہ وہ پوچھیں۔ دیکھیے: [سنن النسائي، الطھارۃ، حدیث: 154]
لیکن شیخ البانی رحمہ اللہ اس کے متعلق لکھتے ہیں کہ حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما سے اس مسئلے کے متعلق پوچھنے والی روایت منکر ہے۔ محفوظ روایت وہی ہے جس میں حضرت علی نے حضرت مقداد کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھنے کا کہا ہے۔ دیکھیے: [ضعیف سنن النسائي، رقم: 154، 155]
جبکہ بعض روایات میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ مسئلہ خود پوچھا:۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ ان کے درمیان تطبیق دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے حضرت مقداد کو کہا: ہو گا اور بعد میں حضرت عمار کو کہہ دیا اور پھر خود بھی پوچھ لیا ہو گا۔ لیکن جن روایات میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خود پوچھنے کا ذکر ہے، وہ ان کے اپنے قول کے خلاف ہے جو صحیح روایات میں منقول ہے کہ میں نے خود پوچھنے میں شرم محسوس کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے حبالۂ عقد میں تھیں، لہٰذا جن راویوں نے سوال کی نسبت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف کی ہے، وہ اس لیے کہ اصل مسئلہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو درپیش تھا اور وہ اس موقع پر حاضر تھے جیسا کہ امام عبدالرزاق نے عائش بن انس کے واسطے سے بیان کیا ہے کہ حضرت علی، مقداد اور اسود رضی اللہ عنھم نے آپس میں مذی کا ذکر کیا تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے بہت زیادہ مذی آتی ہے، تم دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کرو تو ان دونوں میں سے ایک نے پوچھا:۔ اس بنا پر سوال کی نسبت حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی طرف مجازی ہے، درحقیقت حضرت مقداد رضی اللہ عنہ ہی نے مسئلہ دریافت کیا تھا جیسا کہ صحیحین کی روایت سے ثابت ہے۔ مزید دیکھیے: [فتح الباري: 493/1، تحت حدیث: 269]
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک ایسا شخص تھا جسے کثرت سے مذی آتی تھی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” جب مذی دیکھو تو اپنا ذکر دھو لو، اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لو، اور جب پانی (منی) کودتا ہوا نکلے تو غسل کرو۔“ [سنن نسائي/ذكر ما يوجب الغسل وما لا يوجبه/حدیث: 193]
➋ حدیث: «الماء من الماء» ’’خروج منی سے غسل ہے“ اگرچہ مطلق ہے اسے مقید حدیث پر محمول کیا جائے گا۔
➌ منی کا نکلنا، خواہ جماع سے ہو یا احتلام سے یا ویسے شہوت سے، غسل کو واجب کر دیتا ہے، البتہ اگر کسی کو بغیر شہوت کے کسی بیماری کی بنا پر یا قضائے حاجت کے وقت زور لگانے سے منی نکل آئے تو جمہور اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہیں ہوتا۔ لیکن احتلام میں جس طرح بھی منی خارج ہو جائے، شہوت سے یا گرمی سے، خواب یاد ہو یا نہ ہو، زور سے نکلے یا آرام سے، ہر حال میں غسل واجب ہو جاتا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک منی بیماری سے یا جیسے بھی نکلے، غسل واجب ہو جاتا ہے لیکن حدیث کے ظاہر الفاظ کے مقابلے میں یہ موقف محل نظر ہے۔ واللہ أعلم۔
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے مذی ۱؎ کے بارے میں پوچھا گیا، تو آپ نے فرمایا: ” اس میں وضو ہے، اور منی ۲؎ میں غسل ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 504]
مذی سے مراد وہ لیس دار پانی ہے جو بیوی سے دل لگی کے دوران میں صنفی خواہش کی وجہ سے عضو خاص سے خارج ہوتا ہے۔
اس کے خروج سے شہوت ختم نہیں ہوتی۔
منی سے مراد وہ گاڑھا پانی ہے جو صنفی عمل کی تکمیل پر خارج ہوتا ہے اور اس سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔
(2)
مذی سے غسل فرض نہیں ہوتا صرف وضو کرلینا کافی ہے۔
وضو کا یہ فائدہ ہے کہ اس سے ذہن ان خیالات سے دوسری طرف منتقل ہوجاتا ہےاور انتشار کی کیفیت ختم ہوجاتی ہے۔
(3)
یہ مسئلہ پوچھنے کی ضرورت تو حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پیش آئی تھی لیکن آپ نے رسول اللہﷺسے براہ راست نہیں پوچھا کیونکہ آپﷺ سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رشتہ ایسا تھا جس کی وجہ سے شرم وحیا یہ مسئلہ پوچھنے میں حائل تھی، اس لیے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کے واسطے سے دریافت کیا۔ (صحیح البخاری، العلم، باب من استحیا فامرہ غیرہ بالسؤال، حدیث: 132)
اس سے معلوم ہوا کہ بالواسطہ معلوم ہونے والی حدیث یا مسئلہ بھی اسی طرح قابل اعتماد اور واجب العمل ہے جس طرح براہ راست حاصل ہونے والا علم بشرطیکہ واسطہ ثقہ (قابل اعتماد)
ہو۔
«. . . وعن على بن ابي طالب رضى الله عنه قال: كنت رجلا مذاء فامرت المقداد ان يسال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم، فساله فقال: فيه الوضوء . . .»
”. . . سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں کثرت سے مذی کے خارج ہونے کا مریض تھا۔ میں نے مقداد رضی اللہ عنہ سے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت کریں۔ مقداد رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں دریافت کیا (کہ اس کی وجہ سے وضو کرنا ہو گا یا غسل جنابت؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسی حالت میں وضو ہی ہے . . .“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة: 64]
«مَذَّاءً» ”ذال“ پر تشدید ہے۔ یہ معالغے کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے بکثرت مذی آتی ہے۔ مذی کیا ہے؟ مذی رقیق اور لیس دار پانی ہے جو بیوی سے بوس و کنار اور جماع کی یاد اور ارادے کے وقت مرد کی شرمگاہ سے خارج ہوتا ہے۔
«فَأَمَرْتُ الْمِقْدَادَ بْنَ الْأَسْوَدِ» سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کو مسئلے کی بابت پوچھنے کے لیے کہا، اس لیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زوجیت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی لخت جگر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ حیاداری کے پیش نظر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے براہ راست سوال کرنے سے گریز کیا۔
راوی حدیث:
سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ ”میم“ کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ سلسلہ نسب یوں ہے: مقداد بن عمرو بن ثعلبة البھراني اور حلف کی وجہ سے الکندی کہلائے۔ ان کی کنیت ابوالاسود یا ابوعمرو ہے اور مقداد بن اسود کے نام سے مشہور ہیں۔ اور اسود سے مراد اسود بن یغوث زہری ہے۔ چونکہ اس نے مقداد کو متبنی (منہ بولا بیٹا) بنا لیا تھا اور جاہلیت میں اس کے ساتھ حلیفانہ تعلقات و روابط قائم کر لیے تھے، چنانچہ اس کی طرف نسبت کے ساتھ مشہور ہو گئے۔ اسلام لانے والوں میں ان کا چھٹا نمبر ہے۔ دو مرتبہ ہجرت کے شرف سے شرف یاب ہوئے۔ کبار، فضلاء اور بہترین اوصاف و خصائل کے مالک صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ عہد رسالت میں واقع ہونے والے تمام غزوات میں شریک رہے۔ معرکہ بدر کے روز گھڑ سواروں میں شامل تھے۔ فتح مصر میں حاضر تھے۔ 33 ہجری میں جوف کے مقام پر، جو مدینہ سے تین میل کے فاصلے پر واقع ہے، وفات پائی۔ ان کی میت کو مدینہ لایا گیا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور بقیع میں دفن کیے گئے۔ اس وقت ان کی عمر 70 برس تھی۔