حدیث نمبر: 3029
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ ، يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ " اذْهَبِي فَابْغِينَا شَيْئًا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُكْرِههُّنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِكْرَاهِهِنَّ سورة النور آية 33 لَهُنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33 " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا:جا اور(بذریعہ بدکاری) ہمارے لیے کچھ ک کرلا،تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی؛" اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ(خصوصاً) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد"ان کے لیے" بڑا بخشنے والا،بڑا رحم کرنے والا ہے۔"(نور:آیت نمبر33)

وحَدَّثَنِي وحَدَّثَنِي أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، " أَنَّ جَارِيَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْكَةُ ، وَأُخْرَى يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ ، فَكَانَ يُكْرِهُهُمَا عَلَى الزِّنَا ، فَشَكَتَا ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِلَى قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 33 " .

حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی،اس کا نام مسیکہ تھا،اوردوسری(باندی) کو امیمہ کہا جاتا تھا۔وہ ان دونوں سے (زبردستی) زنا کرانا چاہتا تھا۔ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت:"اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں۔"اس(اللہ) کے فرمان:"غَفُورٌ رَّحِيمٌ "تک نازل فرمائی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التفسير / حدیث: 3029
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا:جا اور(بذریعہ بدکاری) ہمارے لیے کچھ ک کرلا،تو اللہ عزوجل نے (یہ آیت) نازل فرمائی؛" اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ(خصوصاً) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد"ان کے لیے" بڑا بخشنے والا،بڑا رحم کرنے والا ہے۔"(نور:آیت نمبر33) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7552]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: کچھ بد بخت آزاد لوگ دنیوی مال کی حرص ولالچ میں اپنی لونڈیوں سے، جبکہ وہ لونڈی ہونے کے باوجود اپنی عزت کی حفاظت کرنا چاہتی تھی، بدکاری کرواتے، اس کے لیے انہیں مجبور کرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے ایسی باندیوں کو جو مجبورا یہ نازیبا حرکت کریں، معذور قرار دیا اور مجرم ان کےمالکوں اور آقاؤں کو قرار دیا، جس سے معلوم ہوا، مجبور اور مقہور مرد قابل مواخذہ نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3029 سے ماخوذ ہے۔