حدیث نمبر: 3028
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كَانَتِ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ ، فَتَقُولُ : مَنْ يُعِيرُنِي تِطْوَافًا تَجْعَلُهُ عَلَى فَرْجِهَا ، وَتَقُولُ : . الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ كُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ " " فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ خُذُوا زِينَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ سورة الأعراف آية 31 .

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: (جاہلی دور میں) ایک عورت برہنہ ہو کر بیت اللہ کا طواف کرتی تھی اور کہتی تھی: کون مجھے طواف کرنے والا ایک کپڑا دے گا؟ کہ وہ اس کو اپنی شرمگاہ پر ڈالے، اور (یہ شعر) کہتی: آج (بدن کا) کچھ حصہ یا پورے کا پورا کھل جائے گا اور اس میں سے جو بھی کھل گیا میں اسے (دیکھنا کسی کے لیے) حلال نہیں کر رہی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی: "ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التفسير / حدیث: 3028
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ کاطواف کرتی تھی اور کہتی تھی:کون مجھے طواف کرنے والا ایک کپڑا دے گا؟کہ وہ اس کو اپنی شرمگاہ پر ڈالے،اور(یہ شعر) کہتی:آج(بدن کا) کچھ حصہ یا پورے کا پورا کھل جائےگا اور اس میں سے جو بھی کھل گیا میں اسے(دیکھنا کسی کے لئے) حلال نہیں کررہی۔اس پر یہ آیت نازل ہوئی:"ہرمسجد میں اپنی زینت کویعنی لباس کو زیب تن کرو،"(اعراف۔آیت نمبر۔31) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7551]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
تطواف: وہ لباس جس میں وہ طواف کرسکے۔
(2)
اليوم يبدو بعضة اوكله: آج اگر لباس پورا نہ ملا، تو شرم گاہ کا کچھ حصہ کھل جائے گا اور لباس بالکل نہ ملا تو شرم گاہ مکمل ہی کھل جائے گی۔
فما بدا منه فلا احله، شرم گاہ کابعض یا کل جو بھی کھلے، میں کسی کے لیے اس کی طرف دیکھنا یا نظر بازی کرنا جائز قرار نہیں دیتی۔
فوائد ومسائل: حمس کے سوا باقی قبائل کا یہ نظریہ تھا کہ جن کپڑوں میں ہم نے گناہ کیے ہیں، ان میں حج یا عمرہ کا طواف کرنا جائز نہیں ہے، اس لیے اگر انہیں قریش یا ان کے حلیف لباس دے دیتے، تو وہ لباس پہن کر طواف کرلیتے، وگرنہ اپنے کپڑے اتار دیتے اور ننگے طواف کرتے یا پھر اپنے ان کپڑوں کو وہیں پڑے رہنے دیتے اور بقول بعض اگر اپنے کپڑوں میں طواف کرلیتے، تو پھر طواف کے بعدان کپڑوں کو استعمال نہیں کرسکتے تھے، اگر ننگے طواف کر لیتے، پھر پہن سکتے تھے، اس لیے اگر عورتوں کو حمس سے کپڑے نہ ملتے، تو وہ ننگے طواف کرتی تھیں اور اپنی شرم گاہ پر ہاتھ رکھ لیتیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3028 سے ماخوذ ہے۔