صحيح مسلم
كتاب التفسير— قران مجيد كي تفسير كا بيان
باب فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: {أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ}: باب: اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ”کیا وقت نہیں آیا ان کے لیے جو ایمان لائیں کہ گڑگڑائیں ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے“ کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 3027
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الصَّدَفِيُّ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " مَا كَانَ بَيْنَ إِسْلَامِنَا وَبَيْنَ أَنْ عَاتَبَنَا اللَّهُ بِهَذِهِ الْآيَةِ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ سورة الحديد آية 16 إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ " .عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا: "کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یاد کرتے ہوئے گڑگڑائیں۔"
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے اسلام لانے اور ہمیں اس آیت کے ذریعہ عتاب فرمانے کے درمیان صرف چار سال کافاصلہ ہے،(کیا مومنوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کےذکر سے پسیج جائیں،"(الحدید،آیت نمبر16) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7550]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
الم يان: کسی چیز کا وقت ہوجانا۔
فوائد ومسائل: اس آیت کے اصل مخاطب وہ لوگ ہیں، جنہوں نے موقع کی مناسبت سے اسلام کو تو قبول کرلیا تھا، مگر ابھی تک اس کے لیے جان کو جوکھوں میں ڈالنے اور کسی قسم کی قربانی کے لیے تیار نہیں تھے۔
الم يان: کسی چیز کا وقت ہوجانا۔
فوائد ومسائل: اس آیت کے اصل مخاطب وہ لوگ ہیں، جنہوں نے موقع کی مناسبت سے اسلام کو تو قبول کرلیا تھا، مگر ابھی تک اس کے لیے جان کو جوکھوں میں ڈالنے اور کسی قسم کی قربانی کے لیے تیار نہیں تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3027 سے ماخوذ ہے۔