صحيح مسلم
كتاب التفسير— قران مجيد كي تفسير كا بيان
بَابٌ فِي تَفْسِيرِ آيَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٍ باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
حدیث نمبر: 3026
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، عَنْ شُعْبَةَ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ ، يَقُولَ : " كَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا ، فَرَجَعُوا لَمْ يَدْخُلُوا الْبُيُوتَ إِلَّا مِنْ ظُهُورِهَا ، قَالَ : فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ ، فَدَخَلَ مِنْ بَابِهِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا سورة البقرة آية 189 " .حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،انصار جب حج کرکے واپس آتے،توگھروں میں صرف ان کے پچھواڑوں سے داخل ہوتے،چنانچہ ایک آدمی آیا،تو وہ ا پنے(گھر) کے دروازے سے داخل ہوگیا،تو اس سلسلہ میں اسے طعنہ دیا،جس پر یہ آیت اتری،"یہ نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پچھلی طرف سے آؤ،(پچھواڑوں سےآؤ)۔"
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،انصار جب حج کرکے واپس آتے،توگھروں میں صرف ان کے پچھواڑوں سے داخل ہوتے،چنانچہ ایک آدمی آیا،تو وہ ا پنے(گھر) کے دروازے سے داخل ہوگیا،تو اس سلسلہ میں اسے طعنہ دیا،جس پر یہ آیت اتری،"یہ نیکی نہیں ہے کہ تم گھروں میں ان کی پچھلی طرف سے آؤ،(پچھواڑوں سےآؤ)۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7549]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حمس (قریشی اور خزاعہ وغیرھا)
کے سوا، عرب لوگ اور انصار، جب گھر سے حج اور عمرہ کے لیے نکلتے اور پھر کسی وجہ سے گھر آنے کی ضرورت پیش آتی، تو وہ گھر میں دروازہ سے داخل ہونا صحیح نہیں سمجھتے تھے، اسی طرح حج وعمرہ سے فراغت کے بعد، دروازوں کی بجائے مکانوں کے پچھواڑوں سے یا کسی دوسرے راستہ سے داخل ہوتے، شاید اس عجیب و غریب حرکت کا محرک یہ وہم ہو کہ جن دروازوں سے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے نکلے تھے، پاک ہوجانے کے بعد انھی دروازوں سے گھروں میں داخل ہونا، درست نہیں ہے۔
کے سوا، عرب لوگ اور انصار، جب گھر سے حج اور عمرہ کے لیے نکلتے اور پھر کسی وجہ سے گھر آنے کی ضرورت پیش آتی، تو وہ گھر میں دروازہ سے داخل ہونا صحیح نہیں سمجھتے تھے، اسی طرح حج وعمرہ سے فراغت کے بعد، دروازوں کی بجائے مکانوں کے پچھواڑوں سے یا کسی دوسرے راستہ سے داخل ہوتے، شاید اس عجیب و غریب حرکت کا محرک یہ وہم ہو کہ جن دروازوں سے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے نکلے تھے، پاک ہوجانے کے بعد انھی دروازوں سے گھروں میں داخل ہونا، درست نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3026 سے ماخوذ ہے۔