حدیث نمبر: 3025
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَقِيَ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ ، فَقَالَ : السَّلَامُ عَلَيْكُمْ ، فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْكَ الْغُنَيْمَةَ ، فَنَزَلَتْ 0 وَلا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا 0 وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ " .

عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک شخص کو ملے جو بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے (ان کو دیکھ کر) کہا: السلام علیکم۔ تو (اس کے باوجود) انہوں نے اس کو پکڑا اسے قتل کیا اور بکریوں کا وہ چھوٹا سا ریوڑ لے لیا۔ تو یہ آیت اتری: "اور اسے جو تم سے سلام کہے یہ مت کہو کہ تم مومن نہیں ہو۔" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس (السلم) کو السلام پڑھا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التفسير / حدیث: 3025
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں،کچھ مسلمانوں کی ایک آدمی سے اس کی چند بکریوں کے ساتھ ملاقات ہوئی،تو اس نے کہا،السلام علیکم،سو انہوں نے اسے پکڑ کر قتل کردیا اور ان چند بکریوں پر قبضہ کرلیا،اس پر یہ آیت نازل ہوئی،"جو شخص تم کو سلام پیش کرے،اس کے بارے میں یہ نہ کہو،تم مومن نہیں ہو،"(نساء آیت نمبر94)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے"السَلَم" كی جگہ "السَلامَ"پڑھا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7548]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: حافظ ابن حجر رحمہُ اللہُ نے اسی آیت کے شان نزول میں مختلف واقعات بیان کیے ہیں اور ایسے سب واقعات اس آیت کا مصداق ہوں گے، کیونکہ اصل مقصد تو یہ ہے، اسلام کا اظہار کرنے والے پر بلاوجہ بدگمانی کرنا صحیح نہیں ہے، اس کو اس وقت تک مسلمان تصور کیا جائے گا، جب تک اس سے اس دعویٰ کے خلاف کوئی حرکت سرزد نہ ہو اور اس آیت میں لفظ السلم كو السلام اور السِلم بھی پڑھا گیا ہے، مقصود ایک ہی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3025 سے ماخوذ ہے۔