صحيح مسلم
كتاب التفسير— قران مجيد كي تفسير كا بيان
بَابٌ فِي تَفْسِيرِ آيَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٍ باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : اخْتَلَفَ أَهْلُ الْكُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ " وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ سورة النساء آية 93 ، فَرَحَلْتُ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا ، فَقَالَ : لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ " ،معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے حدیث بیان کی انہوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: کہ اہل کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا "جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے" چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے اس (آیت) کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ آیت آخر میں نازل ہوئی پھر کسی چیز (قرآن کی کسی دوسری آیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان) نے اس کو منسوخ نہیں کیا۔
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، قَالَا جَمِيعًا : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ ، وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ إِنَّهَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ .محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا: ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے یہ آیت آخر میں اترنے والی آیات میں اتری۔ اور نضر کی روایت میں ہے یہ (آیت) یقیناً ان آیتوں میں سے ہے جو آخر میں اتریں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : " أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَى ، أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ ، عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا سورة النساء آية 93 ، فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْءٌ ، وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 ، قَالَ : نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْكِ " .منصور نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا: مجھ سے عبدالرحمٰن بن ایزدی نے کہا: کہ میں (ان کے لیے) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ان دو آیتوں کے متعلق دریافت کروں: "اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے، اس کی سزا جہنم ہے اور اس میں ہمیشہ رہے گا۔" میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا۔ اور اس آیت کے متعلق (پوچھا) "اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کو اللہ نے حرام کیا ہے۔" تو انہوں نے کہا: مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِمَكَّةَ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى قَوْله مُهَانًا سورة الفرقان آية 68 - 69 ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ : وَمَا يُغْنِي عَنَّا الْإِسْلَامُ ، وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ ، وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ ، وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلا صَالِحًا سورة الفرقان آية 70 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ وَعَقَلَهُ ، ثُمَّ قَتَلَ فَلَا تَوْبَةَ لَهُ " .حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتےہیں،یہ آیت مکہ میں اتری،وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور الٰہ کونہیں پکارتے ہیں،اس آیت کومُھانا تک پڑھا،اس پرمشرکوں نے کہا،ہمیں اسلام لانے کا کیافائدہ(وہ عذاب سے ہمیں کیسے بچائے گا) ہم تو اللہ کے ساتھ شریک کرچکے ہیں اور اس نفس کو بھی ہم نے قتل کیا ہے،جس کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اور بے حیائیوں کا بھی ہم نے ارتکاب کیا ہے؟اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حصہ اتارا،مگرجس نے توبہ کی،ایمان لایا اور اچھے عمل کیے،(آیت نمبر70)کےآخر تک،حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:رہاوہ مسلمان جو مسلمان ہوگیا اوراسلام کو سمجھ لیا اور اچھے عمل کیے،پھر قتل کا ارتکاب کیا،تواس کی توبہ کا اعتبار نہیں ہے۔
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ " أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ ؟ ، قَالَ : لَا ، قَالَ : فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلا بِالْحَقِّ سورة الفرقان آية 68 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : هَذِهِ آيَةٌ مَكِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ ، وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا سورة النساء آية 93 . وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ ، فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ إِلا مَنْ تَابَ سورة الفرقان آية 70 " .عبداللہ بن ہاشم اور عبدالرحمٰن بن بشر عبدی نے مجھے حدیث بیان کی دونوں نے کہا: ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی انہوں نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمداً قتل کر دیا اس کے لیے توبہ (کی گنجائش) ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں (سعید بن جبیر نے) کہا: پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی: "وہ لوگ جو اللہ کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے" آیت کے آخر تک انہوں نے کہا: یہ مکی آیت ہے اس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا: "اور جو کسی مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا۔"