حدیث نمبر: 3021
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ " وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 الْآيَةَ ، قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ ، فَتَطُولُ صُحْبَتُهَا ، فَيُرِيدُ طَلَاقَهَا ، فَتَقُولُ : لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِكْنِي ، وَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنِّي فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ " .

عبدہ بن سلیمان نے کہا: ہمیں ہشام (ابن عروہ) نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے (آیت): "اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سے بے رغبتی یا روگردانی کا اندیشہ محسوس کرے" مکمل آیت کے بارے میں روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: یہ آیت اس عورت کے متعلق نازل ہوئی تھی جو کسی مرد کے نکاح میں ہو۔ اس کی صحبت میں لمبا عرصہ بیت کیا ہو وہ اسے طلاق دینا چاہے تو وہ (عورت) کہے مجھے طلاق نہ دو اپنے پاس رکھو۔ تم میری طرف سے (میرے واجبات سے) بری الذمہ ہو، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلّ " وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا سورة النساء آية 128 ، قَالَتْ : نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَكُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ ، فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَسْتَكْثِرَ مِنْهَا وَتَكُونُ لَهَا صُحْبَةٌ وَوَلَدٌ ، فَتَكْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا ، فَتَقُولُ لَهُ : أَنْتَ فِي حِلٍّ مِنْ شَأْنِي " .

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اللہ عزوجل کے فرمان،"اور اگر عورت کو اپنے خاوند کی بدسلوکی اور بے رخی کا خوف ہو،"کےبارے میں فرماتی ہیں،یہ آیت اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی،جو کسی مرد کی بیوی ہے،شاید وہ اس سے زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا،وہ اس کوپسند نہیں ہے،لیکن وہ اس کے ساتھ عرصہ گزارچکی ہے اور اولاد بھی ہے اور اس کویہ بات ناپسند ہے کہ خاوند اس کو چھوڑدے،اس لیے وہ اس کو کہتی ہے،تجھے میرے معاملہ میں آزادی ہے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التفسير / حدیث: 3021
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،اس آیت اوراگرعورت کو اپنے خاوند سے نفرت وکراہت(بدسلوکی) اور اعراض (بے رخی) کا خطرہ ہو،(نساء نمبر128) کے بارے میں فرماتی ہیں،یہ اس عورت کے بارے میں اتری ہے،جو کسی مرد کی صحبت ورفاقت میں طویل عرصہ گزارتی ہے،اب وہ اسے طلاق دینا چاہتا ہے،تو وہ اسے کہتی ہے،مجھے طلاق نہ دو اور مجھے اپنے پاس رکھو اور میں تمھیں اجازت دیتی ہوں،(تم میری باری دوسری بیوی کو دے دویا دوسری شادی کرلو،"تو یہ آیت اتری۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7537]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
نشوز: رفعت وبلندی، اپنے آپ کو بڑا خیال کرکے، اس سے کراہت ونفرت کا اظہار کرنا، اس پر ظلم وزیادتی کرنا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3021 سے ماخوذ ہے۔