صحيح مسلم
كتاب التفسير— قران مجيد كي تفسير كا بيان
بَابٌ فِي تَفْسِيرِ آيَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٍ باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله " وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6 ، قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ " .عبدہ بن سلیمان نے ہشام (بن عروہ) سے انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان: "اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھا لے" کے متعلق روایت کی (عائشہ رضی اللہ عنہا نے) فرمایا: "یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا (بڑھاتا) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے (خود بھی) کھا سکتا ہے۔"
(حديث موقوف) وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله تَعَالَى " وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ سورة النساء آية 6 ، قَالَتْ : أُنْزِلَتْ فِي وَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يُصِيبَ مِنْ مَالِهِ إِذَا كَانَ مُحْتَاجًا بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ " ،حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ارشاد"اور جو مستغنی ہو،بے نیاز ہو،وہ بچے(کچھ نہ لے) اور جو محتاج ہو،وہ دستور کے مطابق کھالے،"کے بارے میں فرماتی ہیں،یہ آیت یتیم بچے کےنگران کے بارے میں اتری ہے،وہ اس کے مال سے لے سکتا ہے،اگر محتاج(ضرورت مند) ہو،دستور کےمطابق،مال کی مقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔
وحَدَّثَنَاه أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ .امام صاحب یہی روایت ایک اوراستاد سے بھی بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
1۔
وہ یتیم کے مال سے اپنے عمل، کارکردگی کے مطابق لے سکتا ہے، حضرت عائشہ، حسن بصری، عکرمہ سے اور ابن عباس کا ایک قول یہی ہے۔
2۔
وہ یتیم کے مال سے ضرورت مندہونے کی صورت میں کھا سکتا ہے، یعنی بقدر ضروت لے سکتا ہے، حسن بصری، ابراہیم، عطاءاور مکحول کایہی نظریہ ہے، صحیح نظریہ یہی ہے کہ وہ ضرورت مند ہونے کی صورت میں بقدر ضرورت لے سکتا ہے، اگر ضرورت مند نہ ہوپھر نہیں لے سکتا۔
3۔
وہ یتیم کے مال سے بطور اجرت یا نان ونفقہ کے لیے نہیں لے سکتا، ہاں بطور قرض لے سکتا ہے اور آسودگی پیدا ہونے پر قرض چکادے گا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ، عبیدہ سلمانی، سعید بن جبیر اور مجاہد وغیرہم کا یہی نظریہ ہے۔
4۔
اگر مال سونا، چاندی یعنی نقدی ہوتو صرف بصورت قرض لے سکتا ہے، اگر غلہ ہوتو بقدر حاجت لے سکتا ہے، شعمی، ابوالعالیہ اور ابن عباس کا اصح قول یہی ہے)
۔
5۔
اجرت ومزدوری اور نان ونفقہ میں سے جو کم خرچ ہے، وہ لے سکتا ہے، امام شافعی کا نظریہ یہ ہے(تفصیل کے لیے احکام القرآن للجصاص اور فتح الباری دیکھئے)
۔