صحيح مسلم
كتاب التفسير— قران مجيد كي تفسير كا بيان
بَابٌ فِي تَفْسِيرِ آيَاتٍ مُّتَفَرِّقَةٍ باب: متفرق آیات کی تفسیر کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ ، قَالُوا لِعُمَرَ " إِنَّكُمْ تَقْرَءُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ ، وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ ، أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ ، قَالَ سُفْيَانُ : أَشُكُّ كَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي سورة المائدة آية 3 " .سفیان نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ لوگ (مسلمان) ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں جانتا ہوں، وہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی تھی اور جس وقت وہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے۔ یہ آیت عرفہ (کے مقام) پر نازل ہوئی تھی اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں تھے۔ سفیان نے کہا مجھے شک ہے کہ (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا تھا) جمعہ کا دن تھا یا نہیں؟ ان کی مراد اس آیت سے تھی: ”آج میں تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ " لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ ، لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، قَالَ : فَقَالَ عُمَرُ : فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ ، وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ ، نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ ، وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ " .عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد سے، انہوں نے قیس بن مسلم سے اور انہوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی، کہا: یہود نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: اگر یہ آیت ہم یہودیوں کی جماعت پر نازل ہوتی: "آج میں نے تمھارے لیے تمھارا دین مکمل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کر دیا اور تمھارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا۔" ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ کس دن نازل ہوئی ہے تو ہم اس دن کو عید قرار دیتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں وہ دن اور وہ گھڑی جس میں یہ آیت اتری تھی، اور اس کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس جگہ تھے (سب کچھ) جانتا ہوں۔ یہ (آیت) مزدلفہ کی رات (آنے والی تھی، تب) اتری تھی، اور (اس وقت) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عرفات میں تھے۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَى عُمَرَ ، فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ " آيَةٌ فِي كِتَابِكُمْ تَقْرَءُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِكَ الْيَوْمَ عِيدًا ، قَالَ : وَأَيُّ آيَةٍ ؟ ، قَالَ : الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الإِسْلامَ دِينًا سورة المائدة آية 3 ، فَقَالَ عُمَرُ : إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ ، وَالْمَكَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ ، نَزَلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ " .حضرت طارق بن شہاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا:امیر المومنین!آپ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے،آپ اسے پڑھتے ہیں،اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن وعید قرار دیتے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:وہ کون سی آیت ہے؟اس نے کہا:"آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا۔تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا:میں دو دن بھی جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی وہ جگہ بھی جہاں یہ نازل ہوئی،یہ(آیت) عرفات میں جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
بعض حضرات نے اس حدیث سےاستدلال کرتے ہوئے لکھا ہے، (اس سے معلوم ہوا کہ کسی دینی کامیابی کےدن کو خوشی کا دن مناناجائز اور صحابہ سے ثابت ہے، ورنہ حضرت عمرو، ابن عباس رضی اللہ عنھم صاف فرمادیتے کہ جس دن کوئی خوشی کاواقعہ ہواس کی یادگار قائم کرنا اور اس روز کو عید منانا ہم بدعت جانتےہیں، اس سے ثابت ہوا کہ عید میلاد منانا جائز ہے، کیونکہ وہ اعظم نعم الٰہیہ کی یادگار و شکر گزاری ہے۔
''(خزائن العرفان از مولانا نعیم مراد آبادی، ص171)
سوال یہ ہے کہ اگر کسی خوشی کے واقعہ کی یادگار قائم کرنااور اس روز کو عید مناناصحابہ کرام کے نزدیک جائز تھا، تو انہوں نے ہر سال تکمیل قرآن کی یادگار کیوں نہیں منائی اور اس کے لیے عید والا جشن کیوں قائم نہ کیا اور کیا آج مسلمان تکمیل قرآن کا جشن، نوذالحجہ کو مناتے ہیں اور عید میلادالنبی کی طرح جلسے اور جلوس نکالتے ہیں، صحابہ کرام نے غزوہ بدر کا جشن منایا، فتح مکہ کے دن کو عیدکا دن قرار پایایاعیدمیلادالنبی کےلیے، آپ کی پیدائش کے دن کو عید کا دن قرار دیا، ائمہ اربعہ میں سے کسی نے کسی تیسری عید کی نشان دہی کی اور عیدین کی طرح اپنی کتابوں میں اس کے لیے ابواب قائم کیے؟عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردیں ہیں اسی طرح عرفہ اور جمعہ کا دن پہلے سے عید کا دن ہے نہ کہ قرآن کے نزول کی تکمیل کے بعد۔