حدیث نمبر: 3016
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرٍ النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ " أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّى تُوُفِّيَ ، وَأَكْثَرُ مَا كَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں،اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ پر وحی لگاتار اتاری،حتی کہ آپ فوت ہوگئے اور آپ کی وفات کے عہد وزمانہ میں وحی کانزول بہت بڑھ گیا تھا،یعنی آپ کی زندگی کے آخری ایام میں وحی کی آمد زیادہ ہوگئی تھی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب التفسير / حدیث: 3016
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 4982

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4982 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
4982. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول ﷺ پر آپ کی وفات سے پہلے مسلسل وحی اتاری اور آپ کی وفات کے قریبی زمانے میں بہت وحی نازل ہوئی پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4982]
حدیث حاشیہ: مطلب یہ ہے کہ ابتدائی زمانہ نبوت میں تو سورۃ اقرأ اتر کر پھر ایک مدت تک وحی موقوف رہی اس کے بعد برابر پے درپے اترتی رہی پھر جب آپ مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کی عمر کے آخری حصہ میں بہت قرآن اترا کیونکہ اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا۔
معاملات اور مقدمات نبوت ہونے لگے تو قرآن بھی زیادہ اترا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 4982 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 4982 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
4982. سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالٰی نے اپنے رسول ﷺ پر آپ کی وفات سے پہلے مسلسل وحی اتاری اور آپ کی وفات کے قریبی زمانے میں بہت وحی نازل ہوئی پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:4982]
حدیث حاشیہ:

ابتدائی زمانہ نبوت میں تو سورہ علق کی ابتدائی آیات اترنے کے بعد ایک مدت تک وحی موقوف رہی۔
اس کے بعد وحی کا مسلسل سلسلہ شروع ہوا، پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے توضروریات زیادہ ہوئیں اوروحی کا نزول بھی زیادہ ہوا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے قریب لگاتار، متواتر اور زیادہ وحی نازل ہوئی کیونکہ فتح مکہ کے بعد کثرت سے وفود کا سلسلہ شروع ہوا جنھوں نے احکام و مسائل کے متعلق بہت سے سوال کیے جن کے جوابات بذریعہ وحی دیے گئے۔
جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا تومعاملات جب اسلامی فتوحات کا سلسلہ بڑھ گیا تو معاملات و مقدمات کے پیش نظر قرآن کریم بھی زیادہ نازل ہوا، نیز مکہ مکرمہ میں نزول وحی کے دوران میں لمبی لمبی سورتیں نازل نہیں ہوئیں۔
ہجرت کے بعد لمبی سورتوں کا نزول ہوا، یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آخری وقت میں بہت زیادہ وحی نازل ہوئی۔
اس کیفیت کے اعتبار سے یہ حدیث عنوان کے مطابق ہے۔

واضح رہے کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے امام زہری نے پوچھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے وحی کا سلسلہ منقطع ہوگیا تھا؟ تو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہوا بلکہ آپ کی و فات سے پہلے بہت زیادہ وحی نازل ہوئی کیونکہ اس کی ضرورت بڑھ گئی تھی۔
(فتح الباري: 11/9)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 4982 سے ماخوذ ہے۔