حدیث نمبر: 3014
وَشَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ ، فَقَالَ : عَسَى اللَّهُ أَنْ يُطْعِمَكُمْ ، فَأَتَيْنَا سِيفَ الْبَحْرِ ، فَزَخَرَ الْبَحْرُ زَخْرَةً ، فَأَلْقَى دَابَّةً فَأَوْرَيْنَا عَلَى شِقِّهَا النَّارَ ، فَاطَّبَخْنَا وَاشْتَوَيْنَا وَأَكَلْنَا حَتَّى شَبِعْنَا ، قَالَ جَابِرٌ : فَدَخَلْتُ أَنَا وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّى عَدَّ خَمْسَةً فِي حِجَاجِ عَيْنِهَا مَا يَرَانَا أَحَدٌ حَتَّى خَرَجْنَا ، فَأَخَذْنَا ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ ، فَقَوَّسْنَاهُ ثُمَّ دَعَوْنَا بِأَعْظَمِ رَجُلٍ فِي الرَّكْبِ ، وَأَعْظَمِ جَمَلٍ فِي الرَّكْبِ ، وَأَعْظَمِ كِفْلٍ فِي الرَّكْبِ فَدَخَلَ تَحْتَهُ مَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ " .

اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں کھانا دے گا۔"پھر ہم سمندر کے کنارے پہنچے،سمندر نے جوش مارا (ایک لہر سی آئی) اور اس نے ایک سمندری جانور(باہر) پھینک دیا،ہم نے سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس(کے گوشت) کو پکایا، بھونا،کھایا اور یہ سیر ہوگئے(حضرت جابر نے کہا:میں اور فلاں اور فلاں،انھوں نے پانچ آدمی گئے اس کی آنکھ کے گوشے مین گھس گئے تو کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا حتیٰ کہ ہم باہر نکل آئے اور ہم نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی (ایک جانب ایک بڑا کانٹا)لےکر اس کو کمان کی ہیت میں کھڑا کردیا،پھر قافلے میں سب سے بڑے (قد کے) آدمی کو بلایا اور قافلے میں سب سے بڑے اونٹ کو اور قافلے کے سب سے بڑے پالان کو لیا،سو وہ اس کے نیچے سرجھکائے بغیر چلاگیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3014
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ صحیح مسلم شرح نووی
´قصہ ابی الیسر کا بیان`
«. . . وَشَكَا النَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ، فَقَالَ: عَسَى اللَّهُ أَنْ يُطْعِمَكُمْ . . .»
. . . اور لوگوں نے شکایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قریب ہے کہ اللہ تم کو کھلا دے . . . [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ: 7520]
تشریح:
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کئی معجزے مذکور ہیں . درختوں کا رام ہو جانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلنا، قبر والوں کا عذاب معلوم کرنا، پانی کا بڑھا دینا۔ اس حدیث سے یہ بھی نکلا کہ دریا کا جانور کھانا درست ہے اور یہی صحیح ہے کہ دریا کا ہر جانور حلال ہے۔
درج بالا اقتباس مختصر شرح نووی، حدیث/صفحہ نمبر: 3014 سے ماخوذ ہے۔

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھوک کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"عنقریب اللہ تعالیٰ تمھیں کھانا دے گا۔"پھر ہم سمندر کے کنارے پہنچے،سمندر نے جوش مارا (ایک لہر سی آئی) اور اس نے ایک سمندری جانور(باہر) پھینک دیا،ہم نے سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس(کے گوشت) کو پکایا، بھونا،کھایا اور یہ سیر ہوگئے(حضرت جابر نے کہا:میں اور فلاں اور فلاں،انھوں نے پانچ آدمی گئے اس کی آنکھ کے گوشے مین گھس گئے تو کوئی ہمیں دیکھ نہیں سکتا تھا حتیٰ کہ ہم باہر نکل آئے اور ہم... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7520]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
سيف البحر: سمندر کا ساحل، (2)
دخر البحر زخرة: سمندر نے ٹھاٹھیں ماریں۔
(3)
حجاج: آنکھ کاخول۔
(4)
كفل: وہ کپڑا جو اونٹ کی کوہان کے اردگرد لپیٹا جاتا ہے، یہاں مراد پالان ہے۔
فوائد ومسائل: ان احادیث میں آپ کے مختلف معجزات کو بیان کیا گیا ہے اورمعجزات پر قیاس نہیں ہوسکتا، اگر آپ کو دوقبروں کے عذاب کا علم دیا گیا ہے، تو اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ آپ کو دنیا میں برزخ کے حالات کا پتہ تھا اور برزخ (قبر)
میں دنیا کے حالات کا علم ہے اور اگر ترشاخ رکھنے سے عذاب میں تخفیف ہوئی ہے، تو قبر پر پڑھنے سے بالاولیٰ ہوگی، کیونکہ عذاب کی تخفیف میں شاخ تر کا کوئی دخل نہیں ہے اور اگر تر شاخ تسبیح پڑھتی ہے، تو کیا خشک شاخ تسبیح نہیں پڑھتی، اللہ کا فرمان تو یہ ہے، وَإِن مِّن شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمْدِهِ ہر چیز حمدکےساتھ تسبیح کہہ رہی ہے، پھر یہ کہنے کی کیا ضرورت، جب تک یہ تر رہیں گی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3014 سے ماخوذ ہے۔