حدیث نمبر: 3011
سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ قُوتُ كُلِّ رَجُلٍ مِنَّا فِي كُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً ، فَكَانَ يَمَصُّهَا ثُمَّ يَصُرُّهَا فِي ثَوْبِهِ وَكُنَّا نَخْتَبِطُ بِقِسِيِّنَا ، وَنَأْكُلُ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ، فَأُقْسِمُ أُخْطِئَهَا رَجُلٌ مِنَّا يَوْمًا ، فَانْطَلَقْنَا بِهِ نَنْعَشُهُ ، فَشَهِدْنَا أَنَّهُ لَمْ يُعْطَهَا ، فَأُعْطِيَهَا ، فَقَامَ فَأَخَذَهَا

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے اور روزانہ ہم میں سے ہر آدمی کی خوراک ایک کھجورتھی،جسے وہ چوستا،پھر اسے اپنے کپڑے میں باندھ لیتا(تاکہ پھر چوس سکے)اورہم اپنی کمانوں سے پتے جھاڑتے اور کھالیتے،حتیٰ کہ ہماری باچھیں چھل گئیں،میں قسم کھاتا ہوں،ایک دن ہم میں سے ایک آدمی کو چوک کرنہ دی گئی،تو ہم اس کو اٹھا کرلے گئے اور ہم نے گواہی دی کہ اس کو کھجور نہیں دی گئی،تو اسے کھجور دی گئی اور اس نے کھڑے ہوکر کھالی۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 3011
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چل رہے تھے اور روزانہ ہم میں سے ہر آدمی کی خوراک ایک کھجورتھی،جسے وہ چوستا،پھر اسے اپنے کپڑے میں باندھ لیتا(تاکہ پھر چوس سکے)اورہم اپنی کمانوں سے پتے جھاڑتے اور کھالیتے،حتیٰ کہ ہماری باچھیں چھل گئیں،میں قسم کھاتا ہوں،ایک دن ہم میں سے ایک آدمی کو چوک کرنہ دی گئی،تو ہم اس کو اٹھا کرلے گئے اور ہم نے گواہی دی کہ اس کو کھجور نہیں دی گئی،تو اسے کھجور دی گئی اور اس نے کھڑے ہوکر کھالی۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7517]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
يصرها: وہ اسےباندھ یا لپیٹ لیتا۔
(2)
نختبط: ہم پتے جھاڑتے۔
(3)
نعشه: ہم اس کو سہارے سے اٹھاتے تھے اور بقول قاضی عیاض، ہم اس کے دعویٰ کو مضبوط کرتے تھے کہ واقعی غلطی سے اس کو کھجور نہیں دی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 3011 سے ماخوذ ہے۔