صحيح مسلم
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور رقت انگیز باتیں
باب التَّثَبُّتِ فِي الْحَدِيثِ وَحُكْمِ كِتَابَةِ الْعِلْمِ: باب: حدیث مبارکہ کو سمجھ کر پڑھنا اور علم کو لکھنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَكْتُبُوا عَنِّي ، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ ، فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي ، وَلَا حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ " ، قَالَ هَمَّامٌ : أَحْسِبُهُ ، قَالَ : مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ .ہداب بن خالد ازدی نے کہا: ہمیں ہمام نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی، انہوں نے عطاء بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے (سنی ہوئی باتیں) مت لکھو، جس نے قرآن مجید (کے ساتھ) اس کے علاوہ میری کوئی بات (حدیث) لکھی وہ اس کو مٹا دے، البتہ میری حدیث (یاد رکھ کر آگے) بیان کرو، اس میں کوئی حرج نہیں، اور جس نے مجھ پر۔“ ہمام نے کہا: میرا خیال ہے کہ انہوں (زید بن اسلم) نے کہا: جان بوجھ کر جھوٹ باندھا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَكْتُبُوا عَنِّي، وَمَنْ كَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ، فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي، وَلَا حَرَجَ وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ "، قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسِبُهُ، قَالَ: مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ. . .»
”. . . سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مت لکھو میرا کلام اور جس نے لکھا کچھ مجھ سے سن کر تو وہ اس کو مٹا دے مگر قرآن کو نہ مٹائے۔ البتہ میری حدیث بیان کرو اس میں کچھ حرج نہیں اور جو شخص قصداً میرے اوپر جھوٹ باندھے وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے . . .“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ: 7510]
قاضی عیاض نے کہا: سلف صحابہ اور تابعین میں بڑا اختلاف تھا علم کے لکھنے میں۔ بہتوں نے اس کو مکروہ رکھا لیکن اکثر نے جائز رکھا پھر اس کے بعد اجماع ہو گیا اس کے جواز پر اور اختلاف جاتا رہا اور اس حدیث میں جو ممانعت ہے وہ محمول ہے اس شخص پر جو اچھا حافظہ رکھتا ہو لیکن لکھنے میں اس کو ڈر ہو کتابت پر اعتماد کرنے کا اور جس کا حافظہ اچھا نہ ہو اس کو لکھنے کی اجازت ہے اور حکم دیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوشاہ کے لیے لکھنے کا اور اسی قسم میں سے صحیفہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا اور کتاب عمرو بن حزم کی اور کتاب صدقہ کی اور زکوٰۃ کی۔ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ لکھتے تھے اور میں لکھتا نہ تھا اور بعض نے کہا کہ یہ حدیث منسوخ ہے ان حدیثوں سے اور یہ اس وقت کی حدیث ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ڈر تھا کہ کہیں قرآن اور حدیث نہ مل جائے۔ جب اس سے اطمینان ہو گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کتابت کی اور بعض نے کہا کہ مطلب اس حدیث کا یہ ہے کہ قرآن اور میری حدیث ایک کتاب میں ملا کر نہ لکھوتا کہ پڑھنے والے کو شبہ نہ ہو۔ (نووی رحمہ اللہ)
اور کاغذ عام نہ تھے، نیز لکھنے کی ممانعت اس لیے بھی تھی کہ عربوں کا حافظہ بہت تیز تھا اور سب چیزوں کو زبانی یاد رکھتے تھے، اس لیے ان کو یاد رکھنے کا حکم دیا، تاکہ قوت حافظہ عدم استعمال کی وجہ سےضائع نہ ہوجائے، اس لیے آپ نےاحادیث بیان کرنے کی تلقین فرمائی کہ حَدِثوا میری باتیں بیان کرو۔