صحيح مسلم
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور رقت انگیز باتیں
باب فِي الْفَأْرِ وَأَنَّهُ مَسْخٌ: باب: چوہوں کے بیان میں اور وہ مسخ شدہ ہیں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، ومحمد بن عبد الله الرزي جميعا ، عَنْ الثَّقَفِيِّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يُدْرَى مَا فَعَلَتْ ، وَلَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْهُ ، وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّاءِ شَرِبَتْهُ " ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ كَعْبًا ، فَقَالَ : آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ : ذَلِكَ مِرَارًا ، قُلْتُ : أَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ ، وقَالَ إِسْحَاقُ فِي رِوَايَتِهِ : لَا نَدْرِي مَا فَعَلَتْ .حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"بنی اسرائیل کی ایک امت گم ہوگئی تھی،معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہے اور مجھے اس کے سوا اور کوئی بات نظر نہیں آئی کہ وہ لوگ(یہی) چوہے ہیں۔تم دیکھتے نہیں کہ جب ان کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تووہ اس کو نہیں پیتے۔اگر ان کے لئے بکری کا دودھ رکھا جائے تو وہ اسے پی لیتے ہیں۔"حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا:میں نے یہ حدیث کعب(احبار) کو سنائی تو انھوں نے کہا:کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سناتھا؟میں نے کہا:انھوں نے باربار یہی کہا تو میں نے کہا:(نہیں تو) کیا میں تورات پڑھتا ہوں۔اسحاق کی روایت میں "لايُدرٰي"کی جگہ"لاندري" ہے،ہم نہیں جانتے۔
وحَدَّثَنِي أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " الْفَأْرَةُ مَسْخٌ وَآيَةُ ذَلِكَ أَنَّهُ يُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الْغَنَمِ ، فَتَشْرَبُهُ وَيُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الْإِبِلِ ، فَلَا تَذُوقُهُ ، فَقَالَ لَهُ كَعْبٌ : أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : أَفَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ .ہشام نے محمد (بن سیرین) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: چوہیا مسخ شدہ ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ اس کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جائے تو یہ پی لیتی ہے اور اس کے سامنے اونٹنی کا دودھ رکھا جائے تو یہ اس کو منہ تک نہیں لگاتی۔ تو کعب (احبار) نے ان سے کہا: آپ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تو کیا مجھ پر تورات نازل ہوئی تھی؟
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . عن النبى صلى الله عليه وسلم، قال:" فقدت امة من بني إسرائيل لا يدرى ما فعلت وإني لا اراها إلا الفار إذا وضع لها البان الإبل لم تشرب، وإذا وضع لها البان الشاء شربت . . .»
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے۔ (ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا۔ کیونکہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے (کیونکہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب بَدْءِ الْخَلْقِ: 3305]
یہ روایت صحیح بخاری [3305] کے علاوہ درج ذیل کتابوں میں موجود ہے: صحیح مسلم [2997 وترقيم دارالسلام: 7496، 7497]
صحيح ابن حبان [الاحسان 8؍52 ح6225 دوسرا نسخه: 6258]
الرقاق لابي عوانه [اتحاف المهرة 15؍555 ح19872]
مسند ابي يعليٰ [10؍420 ح6031]
شرح السنة للبغوي [12؍200 ح3271 وقال: ”هذا حديث متفق على صحته“ مشكل الآثار للطحاوي 8؍339 ح6008]
اسے امام بخاری رحمہ اللہ سے پہلے امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے:
[المسند 2؍234، 279، 289، 411، 497، 507]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث مشہور تابعی محمد بن سیرین نے بیان کی ہے۔ اس کی دوسری سند «عن أبي سلمة عن أبي هريرة» کے لئے دیکھئے مشکل الآثار [طبعه جديده، تحفةالاخيار: 6009]
↰ معلوم ہوا کہ یہ روایت اصول حدیث کی رو سے بالکل صحیح ہے۔ اسے محدثین کرام نے بغیر کسی اختلاف کے صحیح قرار دیا ہے۔
یہ حدیث دوسری صحیح حدیث کی وجہ سے منسوخ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «إن الله عزوجل لم يهلك قومًا أو يعذب قومًا فيجعل لهم نسلًا» ”بے شک اللہ تعالیٰ جب کسی قوم کو ہلاک کرتا ہے تو پھر ان کی نسل باقی نہیں رکھتا۔“ [صحيح مسلم: 2663 وترقيم دارالسلام: 6772]، نیز دیکھئے فتح الباری [7؍160] ومشکل الآثار[8؍339، 341، 6؍381] منسوخ روایت کو پیش کر کے صحیح احادیث کا مذاق اڑانا ان لوگوں کا ہی (منکرین حدیث کا) کام ہے جو قرآن کو ”بلا رسول“ سمجھنے کا دعویٰ رکھتے ہیں۔!
(وحیدی)
1۔
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چوہے دراصل مسخ شدہ انسان ہیں۔
قبل ازیں چوہوں کا وجود نہیں تھا جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت میں صراحت ہے۔
(صحیح مسلم، الزھد والرقائق، حدیث: 7497(2997)
لیکن ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بندروں اور خنزیروں کا ذکر کیا گیا (کہ یہ بھی انسانوں سے مسخ شدہ ہیں)
تو آپ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مسخ شدہ قوموں کو نسل باقی نہیں رکھی، بندر اور خنزیر ان سے پہلے بھی موجود تھے۔
‘‘ (صحیح مسلم، القدر، حدیث: 6772(2663)
ان دونوں میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت کعب ؓ کو یہ حدیث نہیں پہنچی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے یہ بات اپنے خیال سے ارشاد فرمائی۔
بعد میں بذریعہ وحی بتایا گیا کہ مسخ شدہ قوموں کی نسل باقی نہیں رہتی بلکہ انھیں چند دنوں کے بعدصفحہ ہستی سے مٹادیاجاتا ہے۔
(فتح الباري: 426/6)
2۔
چونکہ اس حدیث میں چوہوں کاذکر ہے، اس لیے امام بخاری ؒنے اسے بیان کیا ہے۔
اس حدیث کا بنیادی عنوان سے تعلق واضح ہے۔
واللہ أعلم۔