صحيح مسلم
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور رقت انگیز باتیں
باب النَّهْيِ عَنْ هَتْكِ الإِنْسَانِ سِتْرَ نَفْسِهِ: باب: انسان کو اپنا پردہ کھولنا منع ہے۔
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَ وَعَبْدُ بْنُ حميدٍ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : قَالَ سَالِمٌ ، سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " كُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ، ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ ، فَيَقُولُ يَا فُلَانُ : قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا ، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ ، فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ " ، قَالَ زُهَيْرٌ : وَإِنَّ مِنَ الْهِجَارِ .سالم نے کہا: میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”میری تمام امت کو (گناہوں پر) معافی ملے گی، سوائے ان لوگوں کے جو (اپنے گناہوں کا) اعلان کرنے والے ہیں۔ اعلان میں یہ ہے کہ بندہ رات کو ایک کام کرے، پھر صبح ہو تو اللہ نے اس کا پردہ رکھا ہوا ہو اور وہ خود کہے: اے فلاں! میں نے پچھلی رات ایسا ایسا کام کیا، حالانکہ اس نے رات گزاردی اس کے رب نے اس پر پردہ ڈالے رکھا اور وہ صبح کرتا ہے تو وہ اپنے رب کا ڈالا ہوا پردہ خود اتار دیتا ہے۔“ زہیر نے (اجہار یعنی اعلان کے بجائے) وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَةِ (یہ بڑی بے حیائی کی بات ہے) کہا۔
تشریح، فوائد و مسائل
«. . . سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: كُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ، وَإِنَّ مِنَ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا، ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ، فَيَقُولُ يَا فُلَانُ: قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ كَذَا وَكَذَا، وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ، وَيُصْبِحُ يَكْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ . . .»
”. . . سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”میری تمام امت کے گناہ بخشے جائیں گے مگر ان لوگوں کے جو اپنے گناہوں کو فاش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ آدمی رات کو ایک گناہ کا کام کرے، پھر صبح ہو اور پروردگار نے اس کا گناہ پوشیدہ رکھا ہو وہ دوسرے سے کہے: اے فلانے! میں نے گزشتہ رات کو ایسا ایسا کام کیا، رات کو تو پروردگار نے اس کو چھپایا اور رات بھر چھپاتا رہا، صبح کو اس نے پردہ کھول دیا . . .“ [صحيح مسلم/كِتَاب الزُّهْدِ وَالرَّقَائِقِ: 7485]
پوشیدہ گناہوں کو لوگوں پر ظاہر کرنا ایسا سخت گناہ کبیرہ ہے کہ معاف نہ ہو گا اس واسطے کہ اس میں گناہ پر جرات اور بےپروا ہی ثابت ہوتی ہے اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ظاہر کرنے والا اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا اور یہ جو بعض نادان کہتے ہیں کہ صاحب جس کا اللہ سے پردہ نہیں اس کا آدمی سے پردہ کرنا کیا ضروری ہے؟ سو غلط سمجھے ہیں کہ اگر وہ شرماتا اور ظاہر نہ کرتا البتہ اللہ تعالیٰ اس کی پردہ پوشی کرتا اور جب کہ اس نے بےحیا بن کر خود اپنا پردہ فاش کیا تو مغفرت اور پردہ پوشی کے لائق نہ رہا اور حدیث میں آیا ہے کہ پوشیدہ گناہ کی پوشیدہ توبہ کرے اور ظاہر گناہ کی ظاہر ہو کر توبہ کرے تاکہ نیک لوگ خوش ہو کر اس کی توبہ کے گواہ ہوں یا اور گناہ گار اس کو دیکھ کر توبہ پر مستعد ہوں۔ [تحفته الاخيار]
(1)
اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ایک صفت "سِتير'' بھی ہے کہ وہ پردہ پوشی کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ دنیا میں بندے کے بہت سے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے، اسی طرح آخرت میں بھی وہ اپنے بندوں کو ذلیل ورسوا نہیں کرے گا لیکن کچھ آدمی ایسے ہوتے ہیں کہ وہ خود اپنی پردہ دری کرتے ہیں، وہ چوری پھر سینہ زوری کرتے ہوئے اپنے گناہوں کا چرچا کرتے ہیں کہ ہم نے آج رات فلاں فلاں گناہ کیا ہے۔
یہ تو بے حیائی اور بے باکی ہے جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا۔
(2)
اللہ تعالیٰ بندے کے گناہ پر پردہ اسی صورت میں ڈالتا ہے کہ بندہ اپنے گناہ پر خود بھی پردہ ڈالنے والا ہو۔
اس کے برعکس جو انسان اپنے گناہوں کا چرچا کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ بھی اس کے گناہوں پر پردہ نہیں ڈالے گا۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اور لوگوں سے حیا کرتے ہوئے اپنے گناہوں کی تشہیر نہ کرے تاکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے پناہ میں رکھے اور اسے ذلیل وخوار نہ کرے۔