حدیث نمبر: 2985
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : أَنَا أَغْنَى الشُّرَكَاءِ عَنِ الشِّرْكِ ، مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَكَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَكْتُهُ وَشِرْكَهُ " .

حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے،میں شریکوں کی شراکت اور حصہ داروں سے بالکل بے نیاز ہوں،جس نے کوئی کام کیا،جس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا،میں اس کو اس کےشریک کے ساتھ چھوڑدوں گا۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2985
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 4202

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے،میں شریکوں کی شراکت اور حصہ داروں سے بالکل بے نیاز ہوں،جس نے کوئی کام کیا،جس میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کیا،میں اس کو اس کےشریک کے ساتھ چھوڑدوں گا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7475]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: کوئی انسان، کوئی اچھا اور نیک کام کرتا ہے اور اس کی نیت میں صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا حصول نہیں بلکہ کسی اور کو خوش کرنایاکوئی مفاد مطلوب ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے عمل کو اس کے شریک کے لیے رہنے دیتا ہے، اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت نہیں بخشتا یا اس انسان کو اس کے شرک کے حوالہ کردیتا ہے اور وہ آدمی آہستہ آہستہ اللہ تعالیٰ سے لوٹ جاتا ہے، یعنی صرف اپنے مفادات کا اور دوسروں کی رضا کا اسیر بن کر رہ جاتا ہے، اس لیے شرک کا لفظ مصدری معنی اور شریک کے معنی دونوں کے لیے استعمال ہوسکتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2985 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 4202 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´ریا اور شہرت کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ عزوجل فرماتا ہے: میں تمام شرکاء کے شرک سے مستغنی اور بے نیاز ہوں، جس نے کوئی عمل کیا، اور اس میں میرے علاوہ کسی اور کو شریک کیا، تو میں اس سے بری ہوں، اور وہ اسی کے لیے ہے جس کو اس نے شریک کیا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزهد/حدیث: 4202]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
کسی اور کو شریک کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دکھاوے کے لیے کام کیا جائے جس کے ذریعے سے اسے دنیوی مفاد حاصل ہو یا لوگوں کی نظر میں متقی اور پارسا کہلائے۔

(2)
ایسا عمل اللہ کے ہاں قبول نہیں ہوتا۔

(3)
وہ عمل دوسرے کے لیے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی اس کا کوئی ثواب نہیں دیتا۔
اگر ریا کار ثواب کا طالب ہے تو اسی انسان سے ثواب لے جس کو دکھانے کے لیے اس نے کام کیا ہے۔
ظاہر ہے انسان دوسرے انسان کو نیکی کا بدلہ نہیں دے سکتا اس لیے قیامت کے دن ریا کار کو شرمندگی ہوگی۔
اور اسے عمل کا کوئی ثواب یا فائدہ نہیں ملے گا۔

(4)
ریاکاری شرک اصغر ہے، اس سے وہ عمل تباہ ہوجاتا ہے جس میں ریا شامل ہو تاہم یہ شرک اکبر نہیں جس کی سزا دائمی جہنم ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 4202 سے ماخوذ ہے۔