حدیث نمبر: 2979
حَدَّثَنِي حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ ، سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ " أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ ؟ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ : " أَلَكَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : أَلَكَ مَسْكَنٌ تَسْكُنُهُ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَنْتَ مِنَ الْأَغْنِيَاءِ ، قَالَ : فَإِنَّ لِي خَادِمًا ، قَالَ : فَأَنْتَ مِنَ الْمُلُوكِ " .

ابوہانی نے ابوعبدالرحمٰن کو کہتے ہوئے سنا: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے کسی آدمی نے پوچھا تھا: کیا ہم فقراء مہاجرین میں سے نہیں ہیں؟ تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تمھاری بیوی ہے جس کے پاس تم آرام کرنے کے لیے جاتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ پوچھا: کیا تمھارے پاس رہائش گاہ ہے جہاں تم رہتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں۔ کہا: پھر تو تم بادشاہوں میں سے ہو۔

(حديث موقوف) قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ : وَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَأَنَا عِنْدَهُ ، فَقَالُوا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ : إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ ، لَا نَفَقَةٍ ، وَلَا دَابَّةٍ ، وَلَا مَتَاعٍ ، فَقَالَ لَهُمْ : مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا ، فَأَعْطَيْنَاكُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَكُمْ ، وَإِنْ شِئْتُمْ ذَكَرْنَا أَمْرَكُمْ لِلسُّلْطَانِ ، وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ فُقَرَاءَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا " ، قَالُوا : فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا .

ابوعبدالرحمٰن نے کہا: حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے پاس تین شخص آئے جبکہ میں ان کے ہاں تھا، وہ کہنے لگے: ابومحمد! اللہ کی قسم! ہمیں کوئی چیز میسر نہیں ہے، نہ خرچ، نہ سواری اور نہ سامان (وہ لوگ واقعتاً فقیر تھے)۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ اگر تم پسند کرو تو دوبارہ ہمارے پاس آؤ، اللہ تعالیٰ جو تمھارے لیے مہیا کرے گا ہم تمھیں دے دیں گے۔ اگر چاہو تو ہم تمھارا ذکر بااختیار حاکم کے پاس کر دیں گے (وہ تمھاری ضرورتوں کا خیال رکھے گا)۔ اور اگر تم چاہو تو صبر کرو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”بے شک ہجرت کر کے آنے والے فقیر قیامت کے روز اغنیاء کی نسبت چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے۔“ ان (صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے کہا: ہم صبر کریں گے، کوئی چیز نہیں مانگیں گے۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2979
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»