صحيح مسلم
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور رقت انگیز باتیں
باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ ، عَنْ سِمَاكٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ : " أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ ؟ ، لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنَ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ " ، وَقُتَيْبَةُ لَمْ يَذْكُرْ بِهِ ،قتیبہ بن سعید اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا: ہمیں ابواحوص نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا: کیا تم لوگوں کو اپنی مرضی کا کھانا اور پینا میسر نہیں؟ میں نے تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا، آپ کے پاس روٹی کھجور بھی اتنی نہیں ہوتی تھی جس سے آپ اپنا پیٹ بھر لیں۔ اور قتیبہ نے (جس سے) کا ذکر نہیں کیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ . ح حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ كِلَاهُمَا ، عَنْ سِمَاكٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ : وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ .زہیر اور اسرائیل دونوں نے سماک سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق حدیث بیان کی اور زہیر کی حدیث میں مزید ہے: اور تم کھجوروں اور مکھن کی کئی قسموں کے بغیر راضی نہیں ہوتے۔