صحيح مسلم
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور رقت انگیز باتیں
باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدٍ الْمُكْتِبِ ، عَنْ فُضَيْلٍ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِكَ ، فَقَالَ : " هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَكُ ؟ ، قَالَ : قُلْنَا : اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ ، قَالَ : مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ ، يَقُولُ يَا رَبِّ : أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ ؟ ، قَالَ : يَقُولُ : بَلَى ، قَالَ : فَيَقُولُ : فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَى نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي ، قَالَ : فَيَقُولُ : كَفَى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَهِيدًا ، وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُهُودًا ، قَالَ : فَيُخْتَمُ عَلَى فِيهِ ، فَيُقَالُ لِأَرْكَانِهِ انْطِقِي ، قَالَ : فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ ، قَالَ : ثُمَّ يُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ ، قَالَ : فَيَقُولُ : بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا ، فَعَنْكُنَّ كُنْتُ أُنَاضِلُ " .حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (بیٹھے ہوئے) تھے کہ آپ ہنس پڑے، پھر آپ نے پوچھا: ”کیا تمھیں یہ معلوم ہے کہ میں کس بات پر ہنس رہا ہوں؟“ ہم نے عرض کی: اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے بندے کی اپنے رب کے ساتھ کی گئی بات پر ہنسی آتی ہے، وہ کہے گا: اے میرے رب! کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وہ فرمائے گا: کیوں نہیں! فرمایا: بندہ کہے گا: میں اپنے خلاف اپنی طرف کے گواہ کے سوا اور کسی (کی گواہی) کو جائز قرار نہیں دیتا۔ تو وہ فرمائے گا: آج تم اپنے خلاف بطور گواہ خود کافی ہو اور کراماً کاتبین بھی گواہ ہیں، چنانچہ اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی۔ اور اس کے (اپنے) اعضاء سے کہا جائے گا: بولو، فرمایا: تو وہ اس کے اعمال کے بارے میں بتائیں گے، پھر اسے اور (اس کے اعضاء کے) بولنے کو اکیلا چھوڑ دیا جائے گا۔ فرمایا: تو (ان کی گواہی سن کر) وہ کہے گا: دور ہو جاؤ، میں تمھاری طرف سے (دوسروں کے ساتھ) لڑا کرتا تھا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
اركان: اعضاء جوارح (2)
افاضل: میں تمہارا دفاع اور بچاؤ کررہاتھا۔