صحيح مسلم
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور رقت انگیز باتیں
باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ ، قَالَ : خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : " أَمَّا بَعْدُ ، فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ ، وَوَلَّتْ حَذَّاءَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ كَصُبَابَةِ الْإِنَاءِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا ، وَإِنَّكُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَى دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا ، فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِكُمْ ، فَإِنَّهُ قَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَى مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لَا يُدْرِكُ لَهَا قَعْرًا ، وَوَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ أَفَعَجِبْتُمْ وَلَقَدْ ذُكِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ كَظِيظٌ مِنَ الزِّحَامِ ، وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّى قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا ، فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ ، فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا ، فَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرٍ مِنَ الْأَمْصَارِ ، وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَكُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا ، وَإِنَّهَا لَمْ تَكُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّى يَكُونَ آخِرُ عَاقِبَتِهَا مُلْكًا ، فَسَتَخْبُرُونَ وَتُجَرِّبُونَ الْأُمَرَاءَ بَعْدَنَا " ،شیبان بن فروخ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حمید بن بلال نے خالد بن عمیر عدوی سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ایک دن (حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے بصرہ کے عامل) حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی، پھر کہا: حمد و ثنا کے بعد بے شک یہ دنیا خاتمے کے قریب ہو گئی ہے اور اس (کی مہلت) میں سے تھوڑا سا حصہ باقی رہ گیا ہے جس طرح برتن کے آخری قطرے ہوتے ہیں جنھیں برتن والا انڈیل رہا ہوتا ہے اور تم اس دنیا سے اس گھر کی طرف منتقل ہو رہے ہو جس پر زوال نہیں آئے گا۔ جو تمھارے پاس ہے اس میں سے بہترین متاع کے ساتھ آگے جاؤ۔ کیونکہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ جہنم کے کنارے سے ایک پتھر پھینکا جاتا ہے تو وہ ستر سال گرتا رہتا ہے۔ اس کی تہ تک نہیں پہنچتا۔ اور اللہ کی قسم! یہ (جہنم) پوری طرح بھر جائے گی۔ کیا تمھیں اس پر تعجب ہے؟ اور ہمیں بتایا گیا کہ جنت کے کواٹروں میں سے دو کواٹروں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے اور اس پر ایک دن آئے گا جب وہ ازدحام کے سبب تنگ پڑ جائے گا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں میں تھا، ہمارے پاس درختوں کے پتوں کے سوا کھانے کی کوئی چیز نہیں ہوتی تھی یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔ میں نے ایک چادر اٹھائی تو اسے اپنے اور سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کر لیا، آدھی میں نے کمر پر باندھی اور آدھی سعد رضی اللہ عنہ نے، اب ہم میں سے ہر کوئی شہروں میں سے کسی شہر کا امیر بن گیا ہے۔ میں اس بات سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں کہ میں اپنے دل میں بڑا اور اللہ کے نزدیک چھوٹا ہو جاؤں اور کبھی کوئی نبوت نہیں تھی، مگر ختم ہو گئی۔ یہاں تک کہ اس کا پچھلا حصہ بادشاہت میں بدل گیا۔ جلد ہی تمھیں (اس کا) پتہ چل جائے گا اور ہمارے بعد کے امیروں کا (بھی تم لوگ خود) تجربہ کر لو گے۔
وحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، وَقَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ ، قَالَ : خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى الْبَصْرَةِ ، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَيْبَانَ .خالد بن عمیر،جنھوں نے جاہلیت کا دور پایا ہے،بیان کرتے ہیں،حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطاب کیا،جبکہ وہ بصرہ کے گورنرتھے،آگے مذکورہ بالا حدیث ہے۔
وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُ : " لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّى ، قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا " .قرہ بن خالد نے حمید بلال سے اور انہوں نے خالد بن عمیر سے روایت کی، کہا: میں نے حضرت عتبہ بن غزوان رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے، میں نے دیکھا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (ایمان لانے والے) سات لوگوں میں سے ساتواں شخص تھا، خاردار درختوں کے پتوں کے سوا ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہو گئیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
آذنت بصوم: اس نے انقطاع وخاتمہ کا اعلان کردیا ہے اور (2)
ولت حداء، تیز رفتاری سے پیچھے کو بھاگ رہی ہے (3)
صبابة: برتن میں بچ رہ جانے والا اور آخری قطرہ۔
(4)
يتصابها: آخری قطرہ کوپی رہاہے، (5)
مابحضرتكم: جو تمہارے پاس ہے، (6)
كظيظ: بھری ہوئی۔
(7)
قرحت، چھل گئے، زخمی ہوگئے،۔
(8)
اشداق، شدق کی جمع ہے، باچھیں(پتوں کی خشکی اور حرارت وگرمی سے زخمی ہوگئے تھے) (9)
لم تكن نبوة قط الاتنا سخت، نبوت، خلافت نبوت سے گزر کر، بادشاہت کی شکل اختیار کرگئی، نبی کے ماننے والے، اس کے خلفاء کے خاتمہ کے بعد بادشاہ بن گئے اور بادشاہوں والا وطیرہ اختیارکیا اور تم(10)
ستخبرون، اس تبدیلی کاتجربہ اور مشاہدہ کرلوگے، جب ہمارے بعد آنے والے امراء سے تمہیں واسطہ پڑے گا۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نبی کی موجودگی میں جو سیرت و کردار بنتا ہے، دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کا رحجان نمایاں ہوتا ہے، وہ نبی کی وفات کےبعد آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو جاتا ہے، خلافت تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں، پھر ان میں نمایاں تبدیلی ہوجاتی ہے اور امت میں بادشاہت کے اثرات نمایاں ہوجاتے ہیں۔