حدیث نمبر: 2965
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ ، وَاللَّفْظُ لِإِسْحَاقَ ، قَالَ عَبَّاسٌ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ ، قَالَ : كَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ ، فَجَاءَهُ ابْنُهُ عُمَرُ ، فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ ، قَالَ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاكِبِ ، فَنَزَلَ ، فَقَالَ لَهُ : أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِكَ وَغَنَمِكَ وَتَرَكْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْكَ بَيْنَهُمْ ، فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ ، فَقَالَ اسْكُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ " .

عامر رحمۃ اللہ علیہ بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اونٹوں کے پاس تھے کہ ان کےبیٹےعمر(بن سعد)ان کے پاس آئے جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا: میں اس سوار کے شرسے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں وہ اترے اور ان(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے کہا:آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس رہائش پذیر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ سلطنت کے بارے میں باہم لڑرہے ہیں (آپ کبھی اپناحصہ مانگیں) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے سینے پر ضرب لگائی اور کہا:خاموش رہو!میں نے رسول االلہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سناہے،"اللہ تعالیٰ اپنے اس بندے سے محبت رکھتا ہے جو متقی ہو، غنی ہو، گم نام(گوشہ نشیں)ہو۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الزهد والرقائق / حدیث: 2965
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
عامر رحمۃ اللہ علیہ بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے اونٹوں کے پاس تھے کہ ان کےبیٹےعمر(بن سعد)ان کے پاس آئے جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں دیکھا تو کہا: میں اس سوار کے شرسے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں وہ اترے اور ان(حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے کہا:آپ اپنے اونٹوں اور بکریوں کے پاس رہائش پذیر ہو گئے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے کہ وہ سلطنت کے بارے میں باہم لڑرہے ہیں (آپ کبھی اپناحصہ مانگیں) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7432]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے، جب فتنہ و فساد کا دور دورہ ہو، لوگ دینی مفادات کی خاطر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں اور ان پر وعظ و نصیحت کار گرنہ ہوتو ایسی صورت میں، سب سے الگ تھلگ ہوکر اللہ کی عبادت اور ذکرو فکر میں مشغول رہنا، اس سے بہتر ہے کہ انسان خود بھی مفادات کی جنگ میں شریک ہوجائے، ہاں اگر وہ لوگوں کے درمیان رہ کردار ادا کرسکتا ہو، تو پھر ان کے درمیان رہنا بہتر ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2965 سے ماخوذ ہے۔