صحيح مسلم
كتاب الزهد والرقائق— زہد اور رقت انگیز باتیں
باب مَا جَاءَ أَنَّ الدُّنْيَا سِجْنُ الْمُؤْمِنِ وَجَنَّةُ الْكَافِرِ باب: دنیا مومن کے لئے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيَّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيفُ بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيٍّ ، وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ ، فَقَدِمَ أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ ، فَسَمِعَتْ الْأَنْصَارُ بِقُدُومِ أَبِي عُبَيْدَةَ ، فَوَافَوْا صَلَاةَ الْفَجْرِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ ، فَتَعَرَّضُوا لَهُ فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَآهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : " أَظُنُّكُمْ سَمِعْتُمْ أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ قَدِمَ بِشَيْءٍ مِنْ الْبَحْرَيْنِ ؟ ، فَقَالُوا : أَجَلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " فَأَبْشِرُوا وَأَمِّلُوا مَا يَسُرُّكُمْ ، فَوَاللَّهِ مَا الْفَقْرَ أَخْشَى عَلَيْكُمْ ، وَلَكِنِّي أَخْشَى عَلَيْكُمْ أَنْ تُبْسَطَ الدُّنْيَا عَلَيْكُمْ كَمَا بُسِطَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ ، فَتَنَافَسُوهَا كَمَا تَنَافَسُوهَا وَتُهْلِكَكُمْ كَمَا أَهْلَكَتْهُمْ " ،یونس نے ابن شہاب سے، انہوں نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ عمرو بن عوف جو بنی عامر کے حلیف تھے، انہوں نے جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شرکت کی تھی، انہوں نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین بھیجا تاکہ وہاں کا جزیہ لے آئیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بذات خود اہل بحرین سے صلح کی تھی اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کیا تھا، حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ بحرین سے مال لے آئے، انصار نے حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب صبح کی نماز میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کر لی، واپس ہوئے تو وہ (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب انھیں دیکھا تو مسکرا دیے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا خیال ہے کہ تم لوگوں نے سن لیا ہے کہ ابوعبیدہ بحرین سے کچھ لے کر آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ نے بجا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خوش ہو جاؤ اور اس کی امید رکھو جس سے تمھیں خوشی ہو گی۔ اللہ کی قسم! مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں (کہ تمھیں اس سے نقصان پہنچے گا) لیکن مجھے تم پر اس بات کا خوف ہے کہ دنیا اسی طرح تم پر کشادہ کر دی جائے گی جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کشادہ کر دی گئی تھی۔ پھر تم اس میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرو گے جس طرح ان لوگوں نے ایک دوسرے کا مقابلہ کیا اور یہ تمھیں بھی تباہ کر دے گی جس طرح اس نے ان کو تباہ کر دیا تھا۔“
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ كِلَاهُمَا ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ يُونُسَ ، وَمِثْلِ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ صَالِحٍ ، وَتُلْهِيَكُمْ كَمَا أَلْهَتْهُمْ .صالح اور شعیب دونوں نے زہری سے یونس کی سند کے ساتھ اس کی حدیث کے مانند روایت کی،مگر صالح کی حدیث میں ہے:"اور یہ تمھیں بھی اس طرح لبھائے گی (دنیا میں مگن اور آخرت سے غافل کردے گی) جس طرح اس نے ان کو لبھایا تھا۔"
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
فوافوا صلاة الفجر: انہوں نے نماز فجر کوپایا، اس میں حاضر ہوئے، کیونکہ عام حالات میں وہ اپنے اپنے محلوں کی مساجد میں نماز پڑھتے تھے، کسی اجتماعی ضرورت کے لیے، سارے آپ کی مسجد میں حاضر ہوتے تھے۔
(2)
تنافسوها: یعنی تتنافسوها: اس میں رغبت اور چاہت کرو گے، زیادہ سے زیادہ سمیٹنے کی کوشش کروگے۔
ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرگے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو امت کے فقرو ناداری میں مبتلا ہونے کا زیادہ خطرہ نہیں تھا، بلکہ زیادہ خطرہ اس بات کا تھا کہ زیادہ دولت مندی آئے گی، جس سے دنیوی حرص اور دولت کی رغبت و چاہت میں اضافہ ہوگا، لوگ دنیا کے دیوانے اور متوالے ہوکر مقصد زندگی کو بھلا بیٹھیں گے، دنیا کی عیش و عشرت میں مگن ہوکر، باہمی حسد و بغض کا شکار ہوں گے اور دنیا پرستی میں مبتلا ہوکر تباہ و برباد ہوں گے اور آج کل ہم سر کی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
جتنی دولتیں اور ریاستیں تباہ ہوئیں وہ اسی آپس کے رشک اور حسد اور نااتفاقی کی وجہ سے۔
آج بھی عرب ممالک کو دیکھا جاسکتا ہے کہ یہودی ان کی چھاتیوں پر سوار ہیں اور وہ آپس میں لڑ لڑ کر کمزور ہورہے ہیں۔
1۔
رسول اللہ ﷺ نے ہجری میں اہل بحرین سے صلح کی تھی۔
اس وقت بحرین کے لوگ مجوسی تھے۔
2۔
موادعت سے مراد ترک قتال ہے۔
اہل بحرین کے خلاف اقدام قتال سے باز رہنا اوران سے جزیہ لینے پر صلح کرنا موادعت ہے۔
وہاں حضرت علاء بن حضرمی ؓکو گورنر مقرر کیا تھا تاکہ وہ ان کی نقل وحرکت پر نظر رکھیں۔
3۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہواکہ دنیا کی رغبت کبھی ہلاکت تک پہنچا دیتی ہے۔
مسلمانوں کا قومی سطح پر جتنا بھی نقصان ہوا اگر اس کا بغور جائز ہ لیاجائے تو وہاں دنیا طلبی کے متعلق منفی جذبات ہی کارفرمانظرآتے ہیں۔
رسول اللہ ﷺنے اس حدیث میں اس مرض کی نشاندہی کی ہے اور اس کاعلاج بھی تجویز کیا ہے۔
افسوس کہ آج بھی عرب ممالک کو دیکھا جاسکتا ہے کہ یہودی ان کی چھاتیوں پر سوار ہیں اور وہ دنیا طلبی میں ایک دوسرے سے آگے بڑھ رہے ہیں اور آپس میں لڑلڑ کرکمزور ہورہے ہیں۔
واللہ المستعان۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کچھ اگلی قوموں اور امتوں کا تجربہ تھا کہ جب ان کے ہاں دنیا کی ریل پیل ہوئی تو ان میں دنیوی حرص اور دولت کی چاہت اور زیادہ بڑھ گئی، پھر وہ دنیا کے دیوانے اور متوالے ہو گئے اور اصل مقصد زندگی کو فراموش کر دیا، پھر اس وجہ سے ان میں باہمی حسد و بغض بھی پیدا ہوا، بالآخر دنیا پرستی نے انہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی امت کے متعلق بھی اس قسم کا اندیشہ تھا، اس لیے آپ نے اس خطرے سے آگاہ کیا اور فرمایا: '’’مجھے تم پر فقر و ناداری کے حملے کا اتنا ڈر نہیں بلکہ اس کے برعکس دنیا پرستی میں مبتلا ہو کر تمہارے ہلاک ہونے کا مجھے زیادہ خوف اور ڈر ہے۔
‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مدعا اس خوش نما فتنے کی خطرناکی سے امت کو آگاہ کرنا ہے۔
بعد میں آنے والے حالات سے یہ واضح ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور مسلمان دنیاوی محبت میں پھنس کر اسلام اور فکر آخرت سے غافل ہو گئے جس کے نتیجے میں بے دینی اور انحطاط نے دنیائے اسلام کو گھیر رکھا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بجا طور پر فرمایا ہے: ’’اگر ابن آدم کے پاس خزانوں سے بھری ہوئی دو وادیاں ہوں تو وہ تیسری وادی کی تلاش میں نکل کھڑا ہو گا۔
ابن آدم کا پیٹ کو صرف قبر کی مٹی ہی بھرے گی، اللہ تعالیٰ تو اپنی مہربانی اس پر کرتا ہے جو اپنا رخ اس کی طرف کر لیتا ہے۔
‘‘ (صحیح البخاري، الرقاق، حدیث: 6436)
یہاں صرف یہ بتانا ہے کہ حضرت عمرو بن عوف ؓ صحابی بدری تھے۔
1۔
اس حدیث میں ذکر ہے کہ حضرت عمرو بن عوف ؓ نے غزوہ بدر میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شرکت کی تھی۔
وہ غزوہ احد، خندق اور دیگر غزوات میں بھی شریک ہوئے تھے۔
حضرت عمر ؓ کے دور حکومت میں فوت ہوئے اور حضرت عمر ؓ ہی نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
2۔
بحرین بصرہ اور عمان کے درمیان ایک مقام کا نام ہے۔
ان کے باشندوں سے جزیے کی ادائیگی پر صلح کر لی گئی تھی۔
وہاں کے گورنر حضرت علاء بن حضرمی ؓ تھے ان کی وفات کے بعد حضرت عمر ؓ نے حضرت ابو ہریرہ ؓ کو وہاں کا حاکم مقرر فرمایا۔
3۔
رسول اللہ ﷺ نے بڑی قیمتی نصیحت فرمائی ہے کہ فقر اور تنگ دستی اس قدر نقصان دی نہیں جس ققدر مال و دولت کی فراوانی نقصان دہ ہے کیونکہ غربت میں اللہ یادر رہتا ہے جبکہ دولت کے نشے میں اللہ بھول جاتا ہے۔
مسور بن مخرمہ رضی الله عنہ نے خبر دی ہے کہ عمرو بن عوف رضی الله عنہ (یہ بنو عامر بن لوی کے حلیف اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاضر تھے) نے مجھے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی الله عنہ کو بھیجا پھر وہ بحرین (احساء) سے کچھ مال غنیمت لے کر آئے، جب انصار نے ابوعبیدہ کے آنے کی خبر سنی تو وہ سب فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ہوئے، ادھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر سے فارغ ہو کر واپس ہوئے تو لوگ آپ کے سامنے آئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب کو دیکھا تو مسکرائے اور فرمایا: ” شاید تم لوگوں۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب صفة القيامة والرقائق والورع/حدیث: 2462]
وضاحت:
1؎:
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال واسباب کی فراوانی دینی اعتبار سے فقرو تنگ دستی سے کہیں زیادہ خطرناک ہے، یہی وجہ ہے کہ نبی اکرمﷺ نے اپنی امت کو اس فتنہ سے آگاہ کیا، تاکہ لوگ اس کے خطرناک نتائج سے اپنے آپ کو بچا کر رکھیں، لیکن افسوس صد افسوس مال واسباب کی اسی کثرت نے لوگوں کی اکثریت کو دین سے غافل کردیا، اور آج وہ چیز ہمارے سامنے ہے جس کا آپﷺ کو اندیشہ تھا، حالاں کہ مال جمع کرنے سے آدمی سیر نہیں ہوتا بلکہ مال کی فروانی کے ساتھ ساتھ اس کے اندر مال کی بھوک بڑھتی جاتی ہے یہاں تک کہ قبر کی مٹی ہی اس کا پیٹ بھرسکتی ہے۔
عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ جو بنو عامر بن لوی کے حلیف تھے اور جنگ بدر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بحرین کا جزیہ وصول کرنے کے لیے بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کر لی تھی، اور ان پر علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کو امیر مقرر کیا تھا، ابوعبیدہ (ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ) بحرین سے مال لے کر آئے، اور جب انصار نے ان کے آنے کی خبر سنی تو سب نماز فجر میں آئے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، پھر جب آپ نماز پڑھ کر لوٹے، تو راستے م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3997]
فوائد و مسائل:
(1)
دولت ایک آزمائش ہے۔
اس کی حرص کی وجہ سے ظلم اور گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے۔
(2)
مال حلال طریقے سے حاصل ہو اور اس پر قناعت کی جائے تو برا نہیں۔