حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَقُومُ السَّاعَةُ وَالرَّجُلُ يَحْلُبُ اللِّقْحَةَ ، فَمَا يَصِلُ الْإِنَاءُ إِلَى فِيهِ حَتَّى تَقُومَ وَالرَّجُلَانِ يَتَبَايَعَانِ الثَّوْبَ ، فَمَا يَتَبَايَعَانِهِ حَتَّى تَقُومَ وَالرَّجُلُ يَلِطُ فِي حَوْضِهِ ، فَمَا يَصْدُرُ حَتَّى تَقُومَ " .

حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت آئے گی تو ایک آدمی اونٹنی کا دودھ نکال رہا ہوگا وہ برتن اس کے منہ تک نہ پہنچا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائےگی اور دو آدمی کپڑے کا سودا کررہے ہوں گے انھوں نے خریدوفروخت(مکمل) نہیں کی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی،ایک شخص اپنے حوض میں لپائی کررہا ہوگا وہ باہر نہیں نکل پایا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2954
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت آئے گی تو ایک آدمی اونٹنی کا دودھ نکال رہا ہوگا وہ برتن اس کے منہ تک نہ پہنچا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائےگی اور دو آدمی کپڑے کا سودا کررہے ہوں گے انھوں نے خریدوفروخت(مکمل) نہیں کی ہوگی کہ قیامت قائم ہوجائے گی،ایک شخص اپنے حوض میں لپائی کررہا ہوگا وہ باہر نہیں نکل پایا ہوگا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7413]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
يلط، يليط، يلوط، يلط: سب کا معنی لیپنا پوچنا ہے۔
فوائد ومسائل: اس حدیث کا مقصد یہ ہے کہ قیامت اچانک قائم ہوجائےگی اس کے وقوع میں کوئی دیر نہیں لگے گی جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے: وَمَا أَمْرُ السَّاعَةِ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ (سورة النحل: 77) (نحل، ص 77)
اور قیامت کا معاملہ نہیں ہے مگر آنکھ جھپکنے کی یاوہ اس سے بھی زیادہ قریب ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2954 سے ماخوذ ہے۔