حدیث نمبر: 2952
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ الْأَعْرَابُ إِذَا قَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، سَأَلُوهُ عَنِ السَّاعَةِ مَتَى السَّاعَةُ ؟ فَنَظَرَ إِلَى أَحْدَثِ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " إِنْ يَعِشْ هَذَا لَمْ يُدْرِكْهُ الْهَرَمُ قَامَتْ عَلَيْكُمْ سَاعَتُكُمْ " .

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، کہا: اعراب (بدو لوگ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے تو آپ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے کہ قیامت کب آئے گی؟ آپ ان میں سب سے کم عمر انسان کی طرف دیکھ کر فرماتے: ”اگر یہ زندہ رہا تو یہ بوڑھا نہیں ہوا ہو گا کہ تم پر تمہاری (قیامت کی) گھڑی آ جائے گی۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2952
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں بدو جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے،تو آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے،قیامت کب ہوگی؟تو آپ ان میں سے سب سے نوخیز(عمر) انسان کو دیکھ کر فرماتے،"اگر یہ زندہ رہا،تو اس کوبوڑھا ہونے سےپہلے،تمہاری قیامت یعنی موت واقع ہوجائے گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7409]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ہر انسان کے لیے مدت عمل، اس کی زندگی ہے، اس کی موت سے اس کی قیامت قائم ہوگئی، حساب و کتاب کا آغاز ہوگیا اور یہی قیامت ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2952 سے ماخوذ ہے۔