صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب فَضْلِ الْعِبَادَةِ فِي الْهَرْجِ: باب: فساد کے وقت عبادت کرنے کی فضیلت۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ مُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ح وحَدَّثَنَاه قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ الْمُعَلَّى بْنِ زِيَادٍ ، رَدَّهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ ، رَدَّهُ إِلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ ، رَدَّهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْعِبَادَةُ فِي الْهَرْجِ كَهِجْرَةٍ إِلَيَّ " ،یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: ہمیں حماد بن زید نے خبر دی، انہوں نے معلیٰ بن زیاد سے، انہوں نے معاویہ بن قرہ سے، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید نے یہی حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: ہمیں حماد نے معلیٰ بن زیاد سے حدیث بیان کی، انہوں نے اس روایت کو معاویہ بن قرہ کی طرف لوٹایا، انہوں نے حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی طرف اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہوئے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا: ”کو طرف پھیلی ہوئی قتل و غارت گری کے دوران میں عبادت (پر توجہ مرکوز) کرنا، میری طرف ہجرت کرنے کی طرح ہے۔“
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .یہی روایت امام صاحب ایک اور استاد سے بیان کرتے ہیں،جو معناً اس جیسی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
معقل بن یسار رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قتل و خوں ریزی کے زمانہ میں عبادت کرنا میری طرف ہجرت کرنے کے مانند ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2201]
وضاحت:
1؎:
قتل وخوں ریزی یعنی فتنہ کے زمانہ میں فتنہ سے دوررہ کر عبادت میں مشغول رہنا مدینہ کی طرف ہجرت کرنے کے مثل ہے۔
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” فتنوں (کے ایام) میں عبادت کرنا ایسے ہی ہے جیسے میری طرف ہجرت کرنا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 3985]
فوائد و مسائل:
(1)
فتنہ وفساد کے ایام میں فتنوں میں شمولیت سے بہتر ہے کہ الگ تھلگ رہا جائے۔
اس کے لیے بہترطریقہ یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ وقت عبادت میں گزارا جائے۔
(2)
رہبانیت ممنوع ہے لیکن فتنوں کے ایام میں گوشہ نشینی رہبانیت میں شامل نہیں کیونکہ رہبانیت کا مطلب ہے کہ عوام سے جائز میل جول سے بھی اجتناب کیا جائے اور عبادت میں اس طرح کی سختی کی جائے جو سنت کے خلاف ہے جب کہ اس گوشہ نشینی کا مقصد اپنے آپ کو قتل وغارت اور فساد میں ملوث ہونے سے محفوظ رکھنا ہے۔
اس دوران میں مسنون نفلی عبادات میں اس حد تک مشغول ہوا جاسکتا ہے کہ اپنی ذات اور بیوی بچوں کے حقوق ادا کرنے کے علاوہ کسی اور مشکوک سر گرمی میں حصہ نہ لیا جاسکے۔
(3)
ہجرت میں وطن چھوڑا جاتا ہے اور گوشہ نشینی میں اہل وطن کی برائیوں اور شرارتوں سے دامن بچانے کے لیے ان سے تعلق محدود کیاجاتا ہے۔
اس لحاظ سے یہ دونوں عمل مشابہ ہیں۔
اوران دونوں کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔