صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب فِي بَقِيَّةٍ مِنْ أَحَادِيثِ الدَّجَّالِ: باب: دجال کے باب میں باقی حدیثوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ الْعَلَاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا طُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، أَوِ الدُّخَانَ ، أَوِ الدَّجَّالَ ، أَوِ الدَّابَّةَ ، أَوْ خَاصَّةَ أَحَدِكُمْ ، أَوْ أَمْرَ الْعَامَّةِ " .علاء کے والد (عبدالرحمٰن) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک عمل کرنے میں سبقت کرو: سورج کے مغرب سے طلوع ہونے، دھوئیں، دجال، زمین کے چوپائے، خاص طور پر تم میں سے کسی ایک کو پیش آنے والے معاملے (بیماری، عاجز کر دینے والا بڑھاپا یا کوئی رکاوٹ) اور ہر کسی کو پیش آنے والا معاملہ (مثلاً: اجتماعی گمراہی، فتنے کے زمانے میں قتل عام، قیامت سے پہلے۔)“
حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ رِيَاحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَادِرُوا بِالْأَعْمَالِ سِتًّا الدَّجَّالَ ، وَالدُّخَانَ ، وَدَابَّةَ الْأَرْضِ ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَأَمْرَ الْعَامَّةِ وَخُوَيْصَّةَ أَحَدِكُمْ " ،شعبہ نے قتادہ سے، انہوں نے حسن سے، انہوں نے زیاد بن ریاح سے، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چھ چیزوں کے ظہور سے پہلے نیک اعمال میں سبقت کرو: دجال، دھواں، زمین کا چوپایہ، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا، عام لوگوں کے ساتھ پیش آنے والا معاملہ یا خصوصی طور پر تم سے کسی ایک کو پیش آنے والا معاملہ۔“
وحَدَّثَنَاه زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .یہی روایت امام صاحب اپنے دو اوراساتذہ سے بیان کرتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
امرالعامة: ایسا فتنہ جو سب کو لپیٹ میں لےلےگا اور سب اس میں مصروف ہوجائیں گے کسی کے پاس خیرواصلاح کے لیے وقت نہیں ہوگا۔
(2)
خاصة احدكم: اپنی شخصی مصروفیت ومشغولیت جس کی بنا پر نیکی نہیں کرسکے گااور دونوں جگہ موت بھی مراد ہوسکتی ہے یعنی قیامت قائم ہوجائے گی اس لیے اس نے اس کے بعد کسی عمل کا فائدہ نہیں ہوگا۔