صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الأَرْضِ وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالإِيمَانِ وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الأَوْثَانَ وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ: باب: خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اسے قتل کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ أَوَّلَ الْآيَاتِ خُرُوجًا طُلُوعُ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا ، وَخُرُوجُ الدَّابَّةِ عَلَى النَّاسِ ضُحًى ، وَأَيُّهُمَا مَا كَانَتْ قَبْلَ صَاحِبَتِهَا ، فَالْأُخْرَى عَلَى إِثْرِهَا قَرِيبًا " ،محمد بن بشیر نے ابوحیان سے، انہوں نے ابوزرعہ سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک ایسی حدیث سنی ہے جس کو سننے کے بعد میں اسے بھولا نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”نمودار ہونے والی سب سے پہلی نشانی مغرب سے سورج کا طلوع ہونا اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے زمین کے چوپائے کا نکلنا ہے۔ ان میں سے جو بھی نشانی دوسری سے پہلے ظاہر ہو گی، دوسری اس کے بعد جلد نمودار ہو جائے گی۔“
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : جَلَسَ إِلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ بِالْمَدِينَةِ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَسَمِعُوهُ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَنِ الْآيَاتِ أَنَّ أَوَّلَهَا خُرُوجًا الدَّجَّالُ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لَمْ يَقُلْ مَرْوَانُ شَيْئًا قَدْ حَفِظْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا لَمْ أَنْسَهُ بَعْدُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ ،عبداللہ بن نمیر نے کہا: ہمیں ابوحیان نے ابوزرعہ سے بیان کیا، کہا: مسلمانوں میں سے تین شخص مدینہ میں مروان بن حکم کے پاس بیٹھے تھے اور اسے قیامت کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے سن رہے تھے کہ ان میں سے پہلی دجال کا ظہور ہو گا، اس پر حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: (تم لوگ یوں سمجھو کہ) مروان نے کچھ بھی نہیں کہا (کیونکہ اس کی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق نہیں)، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث سنی تھی جسے میں بھولا نہیں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ پھر اسی (سابقہ حدیث) کے مانند بیان کیا۔
وحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، قَالَ : تَذَاكَرُوا السَّاعَةَ عِنْدَ مَرْوَانَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَمْ يَذْكُرْ ضُحًى .سفیان نے ابوحیان سے اور انہوں نے ابوزرعہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: لوگوں نے مروان کی موجودگی میں قیامت کے بارے میں مذاکرہ کیا تو حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا۔ (آگے) ان دونوں کی حدیث کے مانند بیان کیا اور ”دن چڑھنے کے وقت“ کا ذکر نہیں کیا۔