صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب فِي خُرُوجِ الدَّجَّالِ وَمُكْثِهِ فِي الأَرْضِ وَنُزُولِ عِيسَى وَقَتْلِهِ إِيَّاهُ وَذَهَابِ أَهْلِ الْخَيْرِ وَالإِيمَانِ وَبَقَاءِ شِرَارِ النَّاسِ وَعِبَادَتِهِمُ الأَوْثَانَ وَالنَّفْخِ فِي الصُّورِ وَبَعْثِ مَنْ فِي الْقُبُورِ: باب: خروج دجال اور اس کا زمین میں ٹھہرنے اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے نزول اور اسے قتل کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيَّ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، وَجَاءَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : مَا هَذَا الْحَدِيثُ تُحَدِّثُ بِهِ ؟ ، تَقُولُ : إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ أَوْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهُمَا لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَ أَحَدًا شَيْئًا أَبَدًا إِنَّمَا ، قُلْتُ : إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا يُحَرَّقُ الْبَيْتُ وَيَكُونُ وَيَكُونُ ، ثُمَّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، فَيَمْكُثُ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ شَهْرًا ، أَوْ أَرْبَعِينَ عَامًا ، فَيَبْعَثُ اللَّهُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ ، كَأَنَّهُ عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ فَيَطْلُبُهُ فَيُهْلِكُهُ ، ثُمَّ يَمْكُثُ النَّاسُ سَبْعَ سِنِينَ لَيْسَ بَيْنَ اثْنَيْنِ عَدَاوَةٌ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ رِيحًا بَارِدَةً مِنْ قِبَلِ الشَّأْمِ ، فَلَا يَبْقَى عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ خَيْرٍ أَوْ إِيمَانٍ ، إِلَّا قَبَضَتْهُ حَتَّى لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ دَخَلَ فِي كَبِدِ جَبَلٍ لَدَخَلَتْهُ عَلَيْهِ حَتَّى تَقْبِضَهُ " ، قَالَ : سَمِعْتُهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " فَيَبْقَى شِرَارُ النَّاسِ فِي خِفَّةِ الطَّيْرِ وَأَحْلَامِ السِّبَاعِ ، لَا يَعْرِفُونَ مَعْرُوفًا ، وَلَا يُنْكِرُونَ مُنْكَرًا ، فَيَتَمَثَّلُ لَهُمُ الشَّيْطَانُ ، فَيَقُولُ : أَلَا تَسْتَجِيبُونَ ، فَيَقُولُونَ : فَمَا تَأْمُرُنَا فَيَأْمُرُهُمْ بِعِبَادَةِ الْأَوْثَانِ ، وَهُمْ فِي ذَلِكَ دَارٌّ رِزْقُهُمْ حَسَنٌ عَيْشُهُمْ ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ ، فَلَا يَسْمَعُهُ أَحَدٌ إِلَّا أَصْغَى لِيتًا وَرَفَعَ لِيتًا ، قَالَ وَأَوَّلُ مَنْ يَسْمَعُهُ : رَجُلٌ يَلُوطُ حَوْضَ إِبِلِهِ ، قَالَ : فَيَصْعَقُ وَيَصْعَقُ النَّاسُ ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ ، أَوَ قَالَ يُنْزِلُ اللَّهُ مَطَرًا كَأَنَّهُ الطَّلُّ أَوِ الظِّلُّ نُعْمَانُ الشَّاكُّ ، فَتَنْبُتُ مِنْهُ أَجْسَادُ النَّاسِ ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ أُخْرَى ، فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ ، ثُمَّ يُقَالُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَلُمَّ إِلَى رَبِّكُمْ ، وَقِفُوهُمْ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ ، قَالَ : ثُمَّ يُقَالُ أَخْرِجُوا بَعْثَ النَّارِ ، فَيُقَالُ : مِنْ كَمْ ، فَيُقَالُ : مِنْ كُلِّ أَلْفٍ تِسْعَ مِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ ، قَالَ : فَذَاكَ يَوْمَ يَجْعَلُ الْوِلْدَانَ شِيبًا وَذَلِكَ يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ " ،معاذ عنبری نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود ثقفی سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے سنا، ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: یہ کیا حدیث ہے جو آپ بیان کرتے ہیں کہ فلاں فلاں بات ہونے تک قیامت قائم ہو جائے گی، انہوں نے سبحان اللہ! یا لا إلہ إلا اللہ یا اس جیسا کوئی کلمہ کہا: (اور کہنے لگے) میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ میں کسی کو کبھی کوئی بات بیان نہیں کروں گا۔ میں نے یہ کہا تھا تم لوگ تھوڑے عرصے بعد بہت بڑا معاملہ دیکھو گے۔ بیت اللہ کو جلا دیا جائے گا اور یہ ہو گا، پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا اور چالیس، مجھے یاد نہیں کہ چالیس دن (فرمائے) یا چالیس مہینے یا چالیس سال رہے گا تو اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھیج دیں گے۔ وہ اس طرح ہیں جیسے حضرت عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، آپ اسے ڈھونڈیں گے اور اسے ہلاک کر دیں گے، پھر لوگ سات سال تک اس حالت میں رہیں گے کہ کسی دو آدمیوں کے درمیان دشمنی تک نہ ہو گی، پھر اللہ تعالیٰ شام کی طرف سے ایک ٹھنڈی ہوا چلائے گا تو روئے زمین پر ایک بھی ایسا آدمی نہیں رہے گا جس کے دل میں ذرہ برابر بھلائی یا ایمان ہو گا مگر وہ ہوا اس کی روح قبض کرے گی، یہاں تک کہ اگر تم میں سے کوئی شخص پہاڑ کے جگر میں گھس جائے گا تو وہاں بھی وہ (ہوا) داخل ہو جائے گی، یہاں تک کہ اس کی روح قبض کر لے گی۔“ انہوں نے کہا: یہ بات میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ نے فرمایا: ”پرندوں جیسا ہلکا پن اور درندوں جیسی عقلیں رکھنے والے بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے۔ نہ اچھائی کو اچھا سمجھیں گے نہ برائی کو برا جانیں گے۔ شیطان کوئی شکل اختیار کر کے ان کے پاس آئے گا اور کہے گا: کیا تم میری بات پر عمل نہیں کرو گے؟ وہ کہیں گے: تو ہمیں کیا حکم دیتا ہے؟ وہ انھیں بت پوجنے کا حکم دے گا، وہ اسی حالت میں رہیں گے، ان کا رزق اترتا ہو گا، ان کی معیشت بہت اچھی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا۔ جو بھی اسے سنے گا وہ گردن کی ایک جانب کو جھکائے گا اور دوسری جانب کو اونچا کرے گا (گردنیں ٹیڑھی ہو جائیں گی)، سب سے پہلا شخص جو اسے سنے گا وہ اپنے اونٹوں کے حوض کی لپائی کر رہا ہو گا۔ وہ پچھاڑ کھا کر گر جائے گا اور دوسرے لوگ بھی گر (کر مر) جائیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک بارش نازل فرمائے گا جو ایک پھوار کے مانند ہو گی یا سائے کی طرح ہو گی۔ شک کرنے والے نعمان (بن سالم) ہیں، اس سے انسانوں کے جسم اگ آئیں گے۔ پھر صور میں دوسری بار پھونک ماری جائے گی تو وہ سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے (زندہ ہو جائیں گے)، پھر کہا جائے گا: لوگو! اپنے پروردگار کی طرف آؤ! اور (فرشتوں سے کہا جائے گا: ان کو لاکھڑا کرو، ان سے سوال پوچھے جائیں گے۔ حکم دیا جائے گا: آگ میں بھیجے جانے والوں کو (اپنی صفوں سے) باہر نکالو، پوچھا جائے گا: کتنوں میں سے (کتنے؟) کہا جائے گا: ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے۔ انہوں نے کہا: تو یہ وہ دن ہو گا جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا اور وہی دن ہو گا جب پنڈلی سے پردہ ہٹا (کر دیدار جمال کرایا) جائے گا۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَالِمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَعْقُوبَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُرْوَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَجُلًا ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو : إِنَّكَ تَقُولُ : إِنَّ السَّاعَةَ تَقُومُ إِلَى كَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ : لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ لَا أُحَدِّثَكُمْ بِشَيْءٍ إِنَّمَا ، قُلْتُ : إِنَّكُمْ تَرَوْنَ بَعْدَ قَلِيلٍ أَمْرًا عَظِيمًا ، فَكَانَ حَرِيقَ الْبَيْتِ ، قَالَ شُعْبَةُ هَذَا : أَوْ نَحْوَهُ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍوَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِي أُمَّتِي ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : فَلَا يَبْقَى أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا قَبَضَتْهُ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ : حَدَّثَنِي شُعْبَةُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرَّاتٍ وَعَرَضْتُهُ عَلَيْهِ .محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے نعمان بن سالم سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے یعقوب بن عاصم بن عروہ بن مسعود سے سنا، انہوں نے کہا: میں نے ایک شخص کو سنا، اس نے حضرت عبداللہ بن عمرو سے کہا: آپ یہ کہتے ہیں کہ فلاں فلاں (بات پوری ہو جائے) پر قیامت قائم ہو جائے گی۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے یہ ارادہ کر لیا ہے کہ میں تم لوگوں کو کوئی حدیث نہ سناؤں، میں تو یہ کہا تھا کہ تم تھوڑی مدت کے بعد ایک بڑا معاملہ دیکھو گے تو بیت اللہ کے جلنے کا واقعہ ہو گیا۔ شعبہ نے یہ الفاظ کہے یا اس سے ملتے جلتے الفاظ کہے۔ حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں دجال نمودار ہو گا۔“ اور (اس کے بعد محمد بن جعفر نے) معاذ کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور اپنی حدیث میں کہا: ”کوئی ایک شخص بھی جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو، نہیں بچے گا مگر وہ (ہوا) اس کی روح قبض کر لے گی۔“ محمد بن جعفر نے کہا: شعبہ نے مجھے یہ حدیث کئی بار سنائی اور میں نے (کئی بار) اسے ان کے سامنے دہرایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
يحرق البيت: بیت اللہ جلایا جائے، حجاج کی منجنیقوں سے بیت اللہ جل چکا ہے۔
(2)
يبعث الله عيسيٰ ابن مريم: احادیث صحیحہ کی بنا پر اہل سنت کے نزدیک، حضرت عیسیٰ علیہ السلام آخری دور میں آسمان سے اتریں گے اور دجال کو قتل کریں گے، آپ کی شریعت پر عمل پیرا ہوں گے، بعض معتزلہ اور جہمیہ نے اللہ کے فرمان، خاتم النبين اور آپ کے قول، لانبي بعدي، سے ان احادیث کا انکار کیا ہے، حالانکہ آیت اور حدیث کا مطلب تو یہ ہے، میرے بعد کوئی نبی پیدا نہیں ہوگا، (اور عیسیٰ علیہ السلام آپ کے بعد تو پیدا نہیں ہوئے، ان کو تو نبوت آپ سے پہلے مل چکی ہے، آپ کے بعد کسی کو نبوت نہیں ملے گی، آپ کے بعد آنے والا ہر مدعی نبوت جھوٹا ہوگا۔
(3)
كبد جبل: پہاڑ کے درمیان، کیونکہ کسی چیز کا کبد اس کا درمیان ہوتا ہے، (4)
في خفة الطير، واحلام السباع، احلام، حلم کی جمع ہے، عقل، مقصد یہ ہے کہ وہ شروفساد اور خواہشات نفس کے پورا کرنے میں بڑے تیز اور جلد باز ہوں گے اور ایک دوسرے پر ظلم وزیادتی کرنے میں درندہ صفت ہوں گے۔
(5)
اصغي: جھکانا، (6)
ليت، گردن کی جانب، (7)
دار: موسلادھار، بہنے والا، یعنی رزق وافر ہوگا۔
(8)
يكشف ساق، اللہ تعالیٰ اپنے پنڈلی ظاہر کرے گا، اس کی حقیقت اور کیفیت کو جاننا، اس دنیا میں ممکن نہیں ہے۔
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے بڑے کارکن تھے۔
سنہ56ھ میں وفات پائی۔
رضي اللہ عنه و أرضاہ۔
دجال موعود کا آنا برحق ہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ اصول ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کو مختلف آزمائشوں سے دوچار کر کے ان کا امتحان لیتا ہے۔
ابھی آزمائشوں میں سے ایک فتنہ دجال بھی ہے۔
اسے اللہ تعالیٰ نے بہت قدرت دی ہو گی۔
وہ اپنے ماننے والوں کے لیے ٹھنڈی ہوائیں چلائے گا۔
بارشیں برسائے گا۔
زمین سے پیداوار اور اناج اگائےگا۔
الغرض ان کے لیے وہ خوشحالی کا سامان مہیا کرے گا اور جو لوگ اسے جھوٹا کہیں گے وہ انھیں قحط سالی اور فقرہ و فاقے میں مبتلا کر دے گا۔
اور انھیں اپنے ایک ہاتھ مین موجود آگ میں پھینک دے گا جو در حقیقت جنت ہوگی۔
لیکن یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہوگا اور اگر اللہ تعالیٰ کی اجازت نہ ہوتو وہ کچھ بھی نہیں کر سکے گا ایک حدیث میں ہے کہ جسے لوگ آگ سمجھیں گے وہ دراصل ٹھنڈا پانی ہو گا۔
(صحیح البخاري، أحادیث الأنبیاء، حدیث: 3450)
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنے سوالات میں نے کئے ہیں، اتنے کسی اور نے نہیں کئے، (ابن نمیر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں «أشد سؤالا مني» یعنی ” مجھ سے زیادہ سوال اور کسی نے نہیں کئے “، آخر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ” تم اس کے بارے میں کیا پوچھتے ہو “؟ میں نے عرض کیا: لوگ کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ کھانا اور پانی ہو گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ تعالیٰ پر وہ اس سے بھی زیادہ آسان ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الفتن/حدیث: 4073]
فوائد و مسائل:
(هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ)
کا ایک مفہوم تو یہ ہے جو ترجمے میں اختیار کیا گیا ہے، یعنی دجال اتنا ذلیل ہے کہ اللہ اسے یہ چیزیں عطا نہیں فرمائے گا بلکہ یہ محض ظاہری دھوکا ہو گا۔
اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ممکن ہے کہ جب اللہ کے ہاں ذلیل ہونے کے باوجود اسے بڑے بڑے شعبدے دکھانے کا اختیار دیا گیا ہے تو کھانا اور پانی تو معمولی چیز ہے۔
حافظ ابن حجر عسقلانی نے اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا ہے کہ دجال اتنا ذلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان شعبدوں کو اس کی سچائی کا ثبوت نہیں بننے دے گا بلکہ ایسی چیزیں ظاہر فرما دے گا جن سے اس کا جھوٹا ہونا واضح ہو جائے، مثلاً: اس کے کفر کی واضح علامت (پیشانی پر ’’ ک، ف، ر‘‘ لکھا ہونا)
، جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ شخص پڑھ لے گا۔ (فتح الباری: 13/ 116)
صحيح بخاری (7122) میں اس حدیث کے آخر میں اضافہ ہے کہ میں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں: اس کے ساتھ روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کی نہر ہو گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ اللہ پر اس سے بھی زیادہ آسان ہے۔ “
قیامت کی علامات کبریٰ میں سے ایک علامت فتنہ دجال ہے۔ لفظ دجال دجل سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں: دھوکہ دینا، حق کو چھپانا اور شعبدہ بازی دکھانا۔ قرب قیامت دجال ظاہر ہوگا اور مختلف شعبدے دکھاۓ گا، یہاں تک اپنے آپ کو الٰہ کہنے کا دعوی کرے گا لیکن وہ خود کانا ہوگا۔ اس کی پیشانی پرک ف ر لکھا ہوگا۔ دجال کو سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگو! جب سے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو بسایا ہے بلاشبہ زمین میں دجال کے فتنے سے بڑا فتنہ نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ نے جو بھی نبی بھیجا ہے اس نے اپنی امت کو اس سے خبردار کیا ہے “۔ [سنن ابن ماجه: 4077]