صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب فِي الدَّجَّالِ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: باب: دجال کا اللہ کے نزدیک حقیر ہونے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ الرُّؤَاسِيُّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ ، قَالَ : " وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ ؟ " ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّهُمْ يَقُولُونَ إِنَّ مَعَهُ الطَّعَامَ وَالْأَنْهَارَ ، قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " .حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، دجال کے بارے میں مجھ سے زیادہ کسی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت نہیں کیا، آپ نے فرمایا:"تم اس کے بارے میں میں کیوں تھکتےہو؟ (کیوں فکر مند ہو) وہ تمھیں نقصان نہیں پہنچائےگا۔"میں نے کہا،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم!ساتھی کہتے ہیں اس کے ساتھ کھانا اور دریا ہوں گے۔"آپ نے فرمایا:"وہ اللہ کے نزدیک اس سے ہلکا اور حقیر ہے کہ وہ اس کے ذریعہ کسی مسلمان کو گمراہ کر سکے یا ان پر ان چیزوں کی حقیقت چھپ سکے۔"
حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ : مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ ، قَالَ : " وَمَا سُؤَالُكَ ؟ ، قَالَ : قُلْتُ : إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ جِبَالٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ وَنَهَرٌ مِنْ مَاءٍ ، قَالَ : " هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَلِكَ " ،ہشیم نے اسماعیل سے، انہوں نے قیس سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دجال کے بارے میں جتنا میں نے پوچھا اس سے زیادہ کسی نے نہیں پوچھا، آپ نے فرمایا: ”تمھارے سوال کا (سبب) کیا ہے؟“ کہا: میں نے عرض کی: وہ (لوگ) کہتے ہیں اس کے ہمراہ روٹی اور گوشت کے پہاڑ اور پانی کا دریا ہو گا، فرمایا: ”وہ اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ حقیر ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حُمَيْدٍ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ يَزِيدَ ، فَقَالَ لِي : أَيْ بُنَيَّ .وکیع، جریر، سفیان، یزید بن ہارون اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ابراہیم بن حمید کی طرح روایت کی اور یزید کی حدیث میں مزید یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”میرے بیٹے!“