صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب فِي صِفَةِ الدَّجَّالِ وَتَحْرِيمِ الْمَدِينَةِ عَلَيْهِ وَقَتْلِهِ الْمُؤْمِنَ وَإِحْيَائِهِ: باب: دجال کے وصف اور اس پر مدینہ کی حرمت اور اس کا مومن کو قتل اور زندہ کرنے کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ ، وَالسِّيَاقُ لِعَبْدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي ، وقَالَ الْآخَرَانِ : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا حَدِيثًا طَوِيلًا عَنِ الدَّجَّالِ ، فَكَانَ فِيمَا حَدَّثَنَا ، قَالَ : " يَأْتِي وَهُوَ مُحَرَّمٌ عَلَيْهِ أَنْ يَدْخُلَ نِقَابَ الْمَدِينَةِ ، فَيَنْتَهِي إِلَى بَعْضِ السِّبَاخِ الَّتِي تَلِي الْمَدِينَةَ ، فَيَخْرُجُ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ رَجُلٌ هُوَ خَيْرُ النَّاسِ ، أَوْ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ ، فَيَقُولُ لَهُ : أَشْهَدُ أَنَّكَ الدَّجَّالُ الَّذِي حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثَهُ ؟ ، فَيَقُولُ الدَّجَّالُ : أَرَأَيْتُمْ إِنْ قَتَلْتُ هَذَا ثُمَّ أَحْيَيْتُهُ أَتَشُكُّونَ فِي الْأَمْرِ ؟ ، فَيَقُولُونَ : لَا ، قَالَ : فَيَقْتُلُهُ ثُمَّ يُحْيِيهِ ، فَيَقُولُ : حِينَ يُحْيِيهِ وَاللَّهِ مَا كُنْتُ فِيكَ قَطُّ أَشَدَّ بَصِيرَةً مِنِّي الْآنَ ، قَالَ : فَيُرِيدُ الدَّجَّالُ أَنْ يَقْتُلَهُ ، فَلَا يُسَلَّطُ عَلَيْهِ ، قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ : يُقَالُ إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ هُوَ الْخَضِرُ عَلَيْهِ السَّلَام " ،صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ دجال کے بارے میں لمبی گفتگو فرمائی۔ اس میں آپ نے ہمارے سامنے جو بیان کیا اس میں (یہ بھی) تھا کہ آپ نے فرمایا: ”وہ آئے گا، اس پر مدینہ کے راستے حرام کر دیے گئے ہوں گے۔ وہ مدینہ سے متصل ایک نرم شوریلی زمین تک پہنچے گا، اس کے پاس ایک آدمی (مدینہ سے) نکل کر جائے گا جو لوگوں میں سے بہترین یا بہترین لوگوں میں سے ایک ہو گا اور اس سے کہے گا: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو وہی دجال ہے جس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گفتگو میں ہمیں بتایا تھا۔ تو دجال (اپنے ساتھ موجود لوگوں سے) کہے گا: تم لوگوں کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اس شخص کو قتل کر دوں اور پھر اسے زندہ کر دوں تو کیا اس معاملے میں تمھیں کوئی شک (باقی) رہے گا؟ وہ کہیں گے: نہیں۔ وہ اس شخص کو قتل کرے گا اور دوبارہ زندہ کر دے گا۔ جب وہ اس شخص کو زندہ کرے گا تو وہ اس سے کہے گا: اللہ کی قسم! تمھارے بارے میں مجھے اب سے پہلے اس سے زیادہ بصیرت کبھی حاصل نہیں تھی۔ فرمایا: دجال اسے قتل کرنا چاہے گا لیکن اسے اس شخص پر تسلط حاصل نہیں ہو سکے گا۔
وحَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .شعیب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی۔
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُهْزَاذَ مِنْ أَهْلِ مَرْوَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ أَبِي الْوَدَّاكِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَخْرُجُ الدَّجَّالُ ، فَيَتَوَجَّهُ قِبَلَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ، فَتَلْقَاهُ الْمَسَالِحُ مَسَالِحُ الدَّجَّالِ ، فَيَقُولُونَ لَهُ : أَيْنَ تَعْمِدُ ، فَيَقُولُ : أَعْمِدُ إِلَى هَذَا الَّذِي خَرَجَ ، قَالَ : فَيَقُولُونَ لَهُ : أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِرَبِّنَا ؟ ، فَيَقُولُ : مَا بِرَبِّنَا خَفَاءٌ ، فَيَقُولُونَ : اقْتُلُوهُ ، فَيَقُولُ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ : أَلَيْسَ قَدْ نَهَاكُمْ رَبُّكُمْ أَنْ تَقْتُلُوا أَحَدًا دُونَهُ ؟ ، قَالَ : فَيَنْطَلِقُونَ بِهِ إِلَى الدَّجَّالِ ، فَإِذَا رَآهُ الْمُؤْمِنُ ، قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ هَذَا الدَّجَّالُ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَيَأْمُرُ الدَّجَّالُ بِهِ فَيُشَبَّحُ ، فَيَقُولُ : خُذُوهُ وَشُجُّوهُ فَيُوسَعُ ظَهْرُهُ وَبَطْنُهُ ضَرْبًا ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَوَ مَا تُؤْمِنُ بِي ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَنْتَ الْمَسِيحُ الْكَذَّابُ ، قَالَ : فَيُؤْمَرُ بِهِ فَيُؤْشَرُ بِالْمِئْشَارِ مِنْ مَفْرِقِهِ حَتَّى يُفَرَّقَ بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، قَالَ : ثُمَّ يَمْشِي الدَّجَّالُ بَيْنَ الْقِطْعَتَيْنِ ، ثُمَّ يَقُولُ لَهُ : قُمْ فَيَسْتَوِي قَائِمًا ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ لَهُ أَتُؤْمِنُ بِي ؟ ، فَيَقُولُ : مَا ازْدَدْتُ فِيكَ إِلَّا بَصِيرَةً ، قَالَ : ثُمَّ يَقُولُ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا يَفْعَلُ بَعْدِي بِأَحَدٍ مِنَ النَّاسِ ، قَالَ : فَيَأْخُذُهُ الدَّجَّالُ لِيَذْبَحَهُ ، فَيُجْعَلَ مَا بَيْنَ رَقَبَتِهِ إِلَى تَرْقُوَتِهِ نُحَاسًا ، فَلَا يَسْتَطِيعُ إِلَيْهِ سَبِيلًا ، قَالَ : فَيَأْخُذُ بِيَدَيْهِ وَرِجْلَيْهِ ، فَيَقْذِفُ بِهِ فَيَحْسِبُ النَّاسُ أَنَّمَا قَذَفَهُ إِلَى النَّارِ ، وَإِنَّمَا أُلْقِيَ فِي الْجَنَّةِ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ " .حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"دجال نکلےگا تو مومنوں میں سے ایک شخص اس کا رخ کرے گااسے اسلحہ بردارمحافظ یعنی دجال کے اسلحہ بردارمحافظ ملیں گے اور اس سے پوچھیں گے۔کہا: جانا چاہتے ہو؟وہ کہے گا۔میں اس شخص کی طرف جانا چاہتا ہوں جو(اب) نمودار ہوا ہے وہ اس سے کہیں گے۔ کیا تم ہمارے رب پر ایمان نہیں رکھتے؟وہ کہے گا، ہمارے رب(کی ربوبیت اور صفات) میں کوئی پوشیدگی نہیں وہ (اس کی بات پر مطمئن نہ ہوتے ہوئے)کہیں گے۔ اس کو قتل کردو۔پھر وہ ایک دوسرے سے کہیں گے۔ کیا ہمارے رب نے ہمیں منع نہیں کیا تھا کہ اس (کے سامنے پیش کرنے) سےپہلے کسی کو قتل نہ کرو۔وہ اسے دجال کے پاس لے جائیں گے۔وہ مومن جب اسے دیکھے گا تو کہے گا لوگو!یہ وہی دجال ہے جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتھا۔فرمایا:تودجال اس کے بارے میں حکم دے گا تو اس(کے اعضاء)کو کھینچ کر باندھ دیا جا ئے گا پھر وہ کہے گا۔اسے پکڑواور اس کاسر اور منہ توڑ دو،تو (مارمارکر)اس کا پیٹ اور اس کی کمر چوڑی کردی جائے گی۔فرمایا:پھر وہ (دجال) کہے گا۔کیا تم مجھ پر ایمان نہیں لاؤگے؟فرمایا:"تو وہ کہے گا تم جھوٹے (بناوٹی)مسیح ہو۔فرمایا:"پھر اس کے بارے میں حکم دیا جا ئے گا۔تو اس کی پیشانی سے اسے آری کے ساتھ چیرا جائے گا۔یہاں تک کے اس کے دونوں پاؤں الگ الگ کر دیے جائیں گے۔ فرمایا:"پھر دجال دونوں ٹکڑوں کے درمیان چلے گا۔ پھر اس سےکہے گا۔کھڑے ہوجاؤچنانچہ وہ سید ھا کھڑا ہو جا ئے گا۔ فرمایا: وہ پھر اس سے کہے گا کیا مجھ پر ایمان لاتے ہو؟وہ کہے گا۔ (اس سب کچھ سے) تمھارے بارے میں میری بصیرت میں اضافے کے سوا اور کچھ نہیں ہوا۔فرمایا: پھر وہ شخص کہے گا لوگو!یہ(دجال) اب میرے بعد لوگوں میں کسی کے ساتھ ایسا نہیں کر سکے گا۔فرمایا:دجال اسے ذبح کرنے کے لیے پکڑے گا تو اس کی گردن سے اس کی ہنسلی کی ہڈیوں تک (کاحصہ)تانبے کا بنایا جا ئے گا وہ کسی طریقے سے (اسے ذبح)نہ کر سکے گا۔ فرمایا۔تو وہ اس کے دونوں پاؤں اور دونوں ہاتھوں سے پکڑ کراسے پھینکےگا۔لوگ سمجھیں گےاس (دجال)نے اسے آگ میں پھینک دیا ہے جبکہ (اصل میں وہ) جنت میں ڈال دیا جائے گا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہ رب العالمین کے ہاں سب سے بڑا(عظیم درجے والا)شہید ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
(1)
نقاب، نقب کی جمع ہے، درہ، راستہ، (2)
سباخ، سبخة کی جمع ہے، شوریلی زمین۔
(3)
يقولون لي: اس کے ساتھی یہودی کہیں گے، تیرے معاملہ میں شک نہیں رہے گا، اگر مسلمان مراد ہیں تو معنی ہوگا، تیرے دجل وفریب میں کوئی شک نہیں رہے گا۔
(4)
يقال هذا، هوالخضر: قائل کون ہے، اس کی تعیین نہیں ہے، ہاں، یہ ان لوگوں کا نظریہ ہے، جو حضرت خضر علیہ السلام کو زندہ مانتے ہیں، اس کے سوا کوئی دلیل نہیں ہے۔
جبکہ اگلی حدیث میں آرہا ہے، ”رجل من المومنين“وہ اس دور کے مومنوں میں سے ہوگا۔
1۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ دجال ایک نوجوان کو بلائے گا۔
اور اس کے دو ٹکڑے کردے گا۔
جس طرح نشانہ لگانے کی غرض سے لگائی گئی چیز دو ٹکڑے ہو جاتی ہے پھر اسے زندہ کر کے بلائے گا۔
تو وہ نوجوان چمکتے دمکتے اور مسکراتے چہرے کے ساتھ اس کی طرف چلا آئے گا۔
(صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 2937(7373)
2۔
دجال کی شعبدہ بازی بار بار نہیں چلے گی وہ جو کام ایک مرتبہ کرے گا۔
اسے دوبارہ نہیں کر سکے گا۔
حدیث میں مذکورہ شخص امت کا بہترین مومن ہو گا جس کے ذریعے سے دجال کو شکست فاش ہوگی۔
3۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کا اس حدیث سے مقصود یہ ہے کہ دجال مدینہ طیبہ میں داخل نہیں ہو سکے گا۔
اس کی وضاحت آئندہ حدیث میں ہو گی۔
واللہ المستعان۔
نادان لوگ دجال کی خدائی کے قائل ہوجائیں گے لیکن جو سچے ایمان دار ہیں اوراپنے معبود حقیقی کو پہچانتے ہیں وہ اس سے متاثر نہ ہوں گے بلکہ اس کے کافر دجال ہونے پر ان کا ایمان اور بڑھ جائے گا۔
(1)
عصر حاضر کے دجالوں نے ایسی ایجادات بنا ڈالی ہیں کہ چند گھنٹوں میں ساری دنیا کا چکر لگا لیتے ہیں پھر حقیقی دجال جس وقت آئے گا اس وقت نہ جانے ایجادات کا سلسلہ کہاں تک پہنچ چکا ہو گا، اس لیے تھوڑی سی مدت میں اس کا روئے زمین کا چکر لگانا کوئی بعید نہیں، البتہ مدینہ طیبہ اور مکہ مکرمہ میں اس کا سرکاری طور پر داخلہ ممنوع ہو گا۔
مدینہ طیبہ کی شوریلی زمین پر اپنے ڈیرے لگائے گا۔
لوگ خوف کے مارے اس کی ہاں میں ہاں ملائیں گے لیکن اس کے دجال ہونے میں، پھر دین سے خارج ہونے میں انہیں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہو گا۔
(2)
دجال میں اتنی طاقت نہیں کہ وہ کسی کو مار کر دوبارہ زندہ کر سکے کیونکہ مُردوں کو زندہ کرنا تو اللہ کی صفت ہے لیکن اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا امتحان لینے کے لیے دجال کے ہاتھوں یہ کرشمہ ظاہر کرے گا تاکہ اہل ایمان اور منافقین کے درمیان خط امتیاز ثابت ہو، چنانچہ اس کی شعبدہ بازی دیکھ کر نادان لوگ اس کی الوہیت کے قائل ہو جائیں گے لیکن سچے اہل ایمان اس سے ذرہ بھر متاثر نہیں ہوں گے بلکہ اس کے کافر اور دجال ہونے پر ان کا ایمان اور زیادہ بڑھ جائے گا۔
(3)
اس حدیث پر کتاب الفتن میں ہم تفصیل سے گفتگو کریں گے۔
بإذن اللہ