حدیث نمبر: 2936
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ عَنِ الدَّجَّالِ حَدِيثًا مَا حَدَّثَهُ نَبِيٌّ قَوْمَهُ ، إِنَّهُ أَعْوَرُ ، وَإِنَّهُ يَجِيءُ مَعَهُ مِثْلُ الْجَنَّةِ وَالنَّارِ ، فَالَّتِي يَقُولُ إِنَّهَا الْجَنَّةُ هِيَ النَّارُ ، وَإِنِّي أَنْذَرْتُكُمْ بِهِ كَمَا أَنْذَرَ بِهِ نُوحٌ قَوْمَهُ " .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" کیا میں تمھیں دجال کے بارے میں ایسی بات نہ بتاؤں جو کسی نبی نے اپنی قوم کو نہیں بتائی؟وہ کانا ہو گا اور اس صورت حال میں آئے گا کہ اس کے ساتھ جنت اور دوزخ کی مثل ہو گی چنانچہ جس کو وہ جنت کہے گا وہ آگ ہوگی اور میں نے تمھیں دجال سے خبردار کر دیا، جیسا کہ اس سے حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کو متنبہ کیا تھا۔"
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3338 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
3338. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ کیا میں تمھیں دجال کے متعلق ایسی خبر نہ دوں جو کسی نبی نے آج تک اپنی قوم کو نہیں بتائی؟ بے شک وہ کانا ہے اور اپنے ساتھ جنت اور دوزخ کی شیبہ بھی لائے گا۔ درحقیقت جسے وہ جنت کہے گا وہ آگ ہوگی اور جس کووہ جہنم کہے گا وہ دراصل جنت ہوگی، نیز میں تمھیں اس سے خبردار کرتا ہوں جس طرح حضرت نوح ؑ نےاپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3338]
حدیث حاشیہ: اللہ پاک اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے دجال کو پہلے کچھ کاموں کی طاقت دے دے گا پھر بعد میں اس کی عاجزی ظاہر کردے گا، ایسی صورت خود بتادے گی کہ وہ خدا نہیں ہے۔
احادیث میں نوح ؑ کا ذکر آیا ہے باب سے یہی مناسبت ہے۔
احادیث میں نوح ؑ کا ذکر آیا ہے باب سے یہی مناسبت ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 3338 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3338 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3338. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ کیا میں تمھیں دجال کے متعلق ایسی خبر نہ دوں جو کسی نبی نے آج تک اپنی قوم کو نہیں بتائی؟ بے شک وہ کانا ہے اور اپنے ساتھ جنت اور دوزخ کی شیبہ بھی لائے گا۔ درحقیقت جسے وہ جنت کہے گا وہ آگ ہوگی اور جس کووہ جہنم کہے گا وہ دراصل جنت ہوگی، نیز میں تمھیں اس سے خبردار کرتا ہوں جس طرح حضرت نوح ؑ نےاپنی قوم کو اس سے ڈرایا تھا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3338]
حدیث حاشیہ:
1۔
دجال کا لفظ دجل سے ماخوذ ہے جس کے معنی جھوٹی بات کو خوبصورتی سے پیش کرنا ہیں۔
دجال کانام اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ بہت بڑا مکار، جھوٹ بولنے والا اور فریب کرنے والا ہوگا۔
ان احادیث میں حضرت نوح ؑ کی خصوصیت کی وجہ یہ ذکر ہوئی ہےکہ وہ پہلے نبی ہیں جنھوں نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایاہے۔
ان سے پہلے تمام انبیاء لوگوں کی تربیت کرتے تھے جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔
2۔
دجال کے متعلق بہت سے اوصاف دیگر احادیث میں بیان ہوئے ہیں لیکن ان میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ دجال کی ایک آنکھ ختم ہوگی اور دوسری میں عیب ہوگا اسے ہر صورت میں ایک چشم یعنی کانا کہا جاسکتا ہے جبکہ اللہ رب العزت ایسا نہیں ہے۔
3۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے دجال کو پہلے کچھ کاموں کی طاقت دے گا پھر بعد میں اس کی عاجزی ظاہر کر دے گا۔
ایسی صورت حال خود ظاہر کردے گی کہ وہ رب نہیں۔
چونکہ ان احادیث میں حضرت نوح ؑ کا ذکر ہے اس لیے عنوان سے اتنی سی مطابقت کافی ہے۔
واللہ أعلم۔
1۔
دجال کا لفظ دجل سے ماخوذ ہے جس کے معنی جھوٹی بات کو خوبصورتی سے پیش کرنا ہیں۔
دجال کانام اس لیے رکھا گیا ہے کہ وہ بہت بڑا مکار، جھوٹ بولنے والا اور فریب کرنے والا ہوگا۔
ان احادیث میں حضرت نوح ؑ کی خصوصیت کی وجہ یہ ذکر ہوئی ہےکہ وہ پہلے نبی ہیں جنھوں نے اپنی قوم کو دجال سے ڈرایاہے۔
ان سے پہلے تمام انبیاء لوگوں کی تربیت کرتے تھے جس طرح باپ اپنی اولاد کی تربیت کرتا ہے۔
2۔
دجال کے متعلق بہت سے اوصاف دیگر احادیث میں بیان ہوئے ہیں لیکن ان میں کوئی تضاد نہیں کیونکہ دجال کی ایک آنکھ ختم ہوگی اور دوسری میں عیب ہوگا اسے ہر صورت میں ایک چشم یعنی کانا کہا جاسکتا ہے جبکہ اللہ رب العزت ایسا نہیں ہے۔
3۔
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو آزمانے کے لیے دجال کو پہلے کچھ کاموں کی طاقت دے گا پھر بعد میں اس کی عاجزی ظاہر کر دے گا۔
ایسی صورت حال خود ظاہر کردے گی کہ وہ رب نہیں۔
چونکہ ان احادیث میں حضرت نوح ؑ کا ذکر ہے اس لیے عنوان سے اتنی سی مطابقت کافی ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3338 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7130 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
7130. سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دجال کے متعلق فرمایا: ”یقیناً اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی۔ اس کے آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کا پانی آگ ہوگی۔“ سیدنا ابو مسعود ؓ نے فرمایا: میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے-[صحيح بخاري، حديث نمبر:7130]
حدیث حاشیہ: دوسری روایت میں یوں ہے تم میں سے جو کوئی اس کا زمانہ پائے تو اس کی آگ میں چلا جائے۔
وہ نہایت شیریں، ٹھنڈا عمدہ پانی ہوگی۔
مطلب یہ ہے کہ دجال ایک شعبدہ باز اور ساحر ہوگا۔
پانی کو آگ، آگ کو پانی کر کے لوگوں کو بتلائے گا یا اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرنے کے لیے الٹا کر دے گا، جن لوگوں کو وہ پانی دے گا ان کے لیے وہ پانی آگ ہو جائے گا اور جن مسلمانوں کو وہ مخالف سمجھ کر آگ میں ڈالے گا ان کے حق میں آگ پانی ہو جائے گی۔
جن لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ آگ اور پانی دونوں مختلف حقیقیتیں ہیں۔
ان میں انقلاب کیسے ہوگا در حقیقت وہ پرلے سرے کے بیوقوف ہیں یہ انقلاب تو رات دن دنیا میں ہو رہا ہے۔
عناصر کا کون و فساد برابر جاری ہے۔
بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی دجال کا کہنا مانے گا وہ اس کو ٹھنڈا پانی دے گا تو درحقیقت یہ ٹھنڈا پانی آگ ہے یعنی قیادت میں وہ دوزخی ہوگا اور جس کو وہ مخالف سمجھ کر آگ میں ڈالے گا اس کے حق میں یہ آگ ٹھنڈا پانی ہوگی یعنی قیامت کے دن وہ بہشتی ہوگا۔
اس کو بہشت کا ٹھنڈا پانی ملے گا۔
وہ نہایت شیریں، ٹھنڈا عمدہ پانی ہوگی۔
مطلب یہ ہے کہ دجال ایک شعبدہ باز اور ساحر ہوگا۔
پانی کو آگ، آگ کو پانی کر کے لوگوں کو بتلائے گا یا اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرنے کے لیے الٹا کر دے گا، جن لوگوں کو وہ پانی دے گا ان کے لیے وہ پانی آگ ہو جائے گا اور جن مسلمانوں کو وہ مخالف سمجھ کر آگ میں ڈالے گا ان کے حق میں آگ پانی ہو جائے گی۔
جن لوگوں نے اعتراض کیا ہے کہ آگ اور پانی دونوں مختلف حقیقیتیں ہیں۔
ان میں انقلاب کیسے ہوگا در حقیقت وہ پرلے سرے کے بیوقوف ہیں یہ انقلاب تو رات دن دنیا میں ہو رہا ہے۔
عناصر کا کون و فساد برابر جاری ہے۔
بعضوں نے کہا مطلب یہ ہے کہ جو کوئی دجال کا کہنا مانے گا وہ اس کو ٹھنڈا پانی دے گا تو درحقیقت یہ ٹھنڈا پانی آگ ہے یعنی قیادت میں وہ دوزخی ہوگا اور جس کو وہ مخالف سمجھ کر آگ میں ڈالے گا اس کے حق میں یہ آگ ٹھنڈا پانی ہوگی یعنی قیامت کے دن وہ بہشتی ہوگا۔
اس کو بہشت کا ٹھنڈا پانی ملے گا۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 7130 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 7130 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
7130. سیدنا حذیفہ ؓ سے روایت ہے وہ نبی ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے دجال کے متعلق فرمایا: ”یقیناً اس کے ساتھ پانی اور آگ ہوگی۔ اس کے آگ ٹھنڈا پانی ہوگا اور اس کا پانی آگ ہوگی۔“ سیدنا ابو مسعود ؓ نے فرمایا: میں نے بھی یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے-[صحيح بخاري، حديث نمبر:7130]
حدیث حاشیہ:
1۔
ایک روایت میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہو گا؟ اس کے ساتھ وہ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی۔
ایک تو دیکھنے میں سفید پانی معلوم ہوگی۔
اور دوسری بھڑکتی ہوئی آگ نظر آئے گی پھر جو کوئی موقع پائے وہ اس نہر میں چلا جائےجسے وہ آگ دیکھے گا۔
وہ اپنی آنکھ بند کرے اور سر جھکا کر اس سے پیے، وہ ٹھنڈا پانی ہو گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7367(2934)
مطلب یہ ہے کہ دجال ایک شعبدہ باز جادو گر ہو گا کہ پانی کو آگ اور آگ کو پانی کر کے لوگوں کو گمراہ کرے گا۔
2۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کرنے کے لیے اس کی شعبدہ بازی کو الٹا کر دے جن لوگوں کو وہ پانی دے گا۔
وہ ان کے لیے آگ بن جائے گی اور جن مسلمانوں کو مخالف خیال کر کے آگ میں ڈالے گا ان کے حق میں وہ آگ پانی بن جائے گی۔
واللہ أعلم۔
1۔
ایک روایت میں اس کی مزید وضاحت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں خوب جانتا ہوں کہ دجال کے ساتھ کیا ہو گا؟ اس کے ساتھ وہ بہتی ہوئی نہریں ہوں گی۔
ایک تو دیکھنے میں سفید پانی معلوم ہوگی۔
اور دوسری بھڑکتی ہوئی آگ نظر آئے گی پھر جو کوئی موقع پائے وہ اس نہر میں چلا جائےجسے وہ آگ دیکھے گا۔
وہ اپنی آنکھ بند کرے اور سر جھکا کر اس سے پیے، وہ ٹھنڈا پانی ہو گا۔
‘‘ (صحیح مسلم، الفتن، حدیث: 7367(2934)
مطلب یہ ہے کہ دجال ایک شعبدہ باز جادو گر ہو گا کہ پانی کو آگ اور آگ کو پانی کر کے لوگوں کو گمراہ کرے گا۔
2۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے ذلیل کرنے کے لیے اس کی شعبدہ بازی کو الٹا کر دے جن لوگوں کو وہ پانی دے گا۔
وہ ان کے لیے آگ بن جائے گی اور جن مسلمانوں کو مخالف خیال کر کے آگ میں ڈالے گا ان کے حق میں وہ آگ پانی بن جائے گی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 7130 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3450 کی شرح از محمد حسین میمن ✍️
´بنی اسرائیل کے واقعات کا بیان`
«. . . قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ" إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌنِ . . .»
”. . . عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے لیکن لوگوں کو جو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور لوگوں کو جو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا تو وہ جلانے والی آگ ہو گی۔ اس لیے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں ہو تو اسے اس میں گرنا چاہئے جو آگ ہو گی کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہو گا“[صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ: 3450]
«. . . قَالَ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو لِحُذَيْفَةَ أَلَا تُحَدِّثُنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ" إِنَّ مَعَ الدَّجَّالِ إِذَا خَرَجَ مَاءً وَنَارًا فَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهَا النَّارُ فَمَاءٌ بَارِدٌ وَأَمَّا الَّذِي يَرَى النَّاسُ أَنَّهُ مَاءٌ بَارِدٌ فَنَارٌ تُحْرِقُ فَمَنْ أَدْرَكَ مِنْكُمْ فَلْيَقَعْ فِي الَّذِي يَرَى أَنَّهَا نَارٌ فَإِنَّهُ عَذْبٌ بَارِدٌنِ . . .»
”. . . عقبہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا، کیا آپ وہ حدیث ہم سے نہیں بیان کریں گے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی؟ انہوں نے کہا کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جب دجال نکلے گا تو اس کے ساتھ آگ اور پانی دونوں ہوں گے لیکن لوگوں کو جو آگ دکھائی دے گی وہ ٹھنڈا پانی ہو گا اور لوگوں کو جو ٹھنڈا پانی دکھائی دے گا تو وہ جلانے والی آگ ہو گی۔ اس لیے تم میں سے جو کوئی اس کے زمانے میں ہو تو اسے اس میں گرنا چاہئے جو آگ ہو گی کیونکہ وہی انتہائی شیریں اور ٹھنڈا پانی ہو گا“[صحيح البخاري/كِتَاب أَحَادِيثِ الْأَنْبِيَاءِ: 3450]
باب اور حدیث میں مناسبت
صحیح بخاری کا باب: «بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ}:»
باب اور حدیث میں مناسبت
ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت مشکل بلکہ انتہائی مشکل دکھلائی دیتی ہے، بلکہ کئی شارحین نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ والی مندرجہ بالا حدیث پر کسی قسم کی کوئی تطبیق کا ذکر نہیں فرمایا، یہاں تک کہ علامہ عینی نے صاف طور پر کہہ دیا: «هذا الحديث مشتمل على ثلاثة احاديث: الاول حديث الدجال . والثاني و الثالث: فى رجلين كل واحد فى رجل، والمطابقة للترجمة فى الثاني والثالث .» [عمده القاري 65/16]
”یہ حدیث تین احادیث پر مشتمل ہے، پہلی حدیث دجال کے بارے میں، دوسری اور تیسری دو آدمیوں کے بارے میں کہ ہر ایک میں ایک آدمی ہے، (جن کا تعلق بنی اسرائیل کے ساتھ تھا)، لہٰذا مطابقت ترجمۃ الباب سے دوسری اور تیسری حدیث سے ہے، (یعنی پہلی حدیث سے مطابقت نہیں ہے)۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں فرمایا: «الحديث ياتي الكلام عليه مستوفي فى كتاب الفتن، والغرض منه هنا ايراد ما يليه و هو قصة الرجل الذى كايبايع الناس وقصة الرجل الذى اوصي بنيه ان يحرقوه .» [فتح الباري 413/7]
حافظ صاحب کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دجال والی حدیث دیگر دو احادیث سے تعلق رکھتی ہیں، کیونکہ بقیہ دونوں کے راوی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی ہیں، لیکن مناسبت کے لئے میرے خیال سے یہ کافی نہیں ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے دجال کی حدیث کے بعد دو احادیث حذیفہ بن یمان سے نقل فرمائی ہیں اور صحیح بخاری میں مختلف جگہوں پر مختلف اسناد سے ان تینوں احادیث کو نقل فرمایا ہے۔
دجال کی حدیث 7130 میں۔۔۔۔۔
دوسری حدیث کو 2077 میں۔۔۔۔
تیسری حدیث کو 9480 میں۔۔۔۔۔
ذکر کیا ہے۔
علامہ عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: تحت الباب تین احادیث کا ذکر فرمایا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ پہلی حدیث دجال کے بارے میں، دوسری حدیث خریدوفروخت کے بارے میں، تیسری حدیث نباش (کفن چور) کے بارے میں نقل کرتے ہیں، مزید لکھتے ہیں کہ: «والمطابقة للترجمة فى الثاني و الثالث.» [لب اللباب 69/3]
”ترجمۃ الباب سے مطابقت، دوسری اور تیسری حدیث میں ہے، (کیونکہ ان حدیثوں میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر ہے۔“
لیکن پہلی حدیث جس میں دجال کا ذکر ہے، اس میں کون سی مطابقت ہو گی اور اتفاق ہے کہ کئی شارحین نے اس حدیث کی مطابقت پر گفتگو نہیں فرمائی۔۔۔۔۔
یہ حقیر بندہ کہتا ہے کہ دجال کی حدیث سے ترجمۃ الباب کو مناسبت بہت گہرے انداز میں موجود ہے، وہ اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ما من نبي الا وقد انذر امته الاعور الكذاب الا انه اعور وان ربكم ليس باعور مكتوب بين عينيه ك- ف. ر.» [صحيح مسلم باب الرجال 4933]
”کوئی نبی ایسا نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کو دجال کے بارے میں ڈرایا تھا اور تمہارا رب کانا نہیں، وہ اس (دجال) کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر، لکھا ہوا ہے۔“
صحیح مسلم کی اس حدیث پر غور فرمائیں، جسے خود امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی (کتاب الفتن رقم الحدیث 7131) میں ذکر فرمایا ہے، مذکورہ حدیث میں تمام نبیوں کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو دجال کے فتنے سے آگاہی فراہم کی، لہٰذا موسیٰ علیہ السلام بھی ایک صاحب شریعت نبی تھے اور کیوں کر آپ نے بھی اپنی امت کو اس کے فتنے نہ ڈرایا ہو گا؟ لہٰذا حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی امت بنی اسرائیل ہے تو جب بنی اسرائیل ثابت ہوئے تو اس موقع پر بالاولیٰ موسیٰ علیہ السلام کا بھی ہونا ثابت ہوا اور ان کا دجال سے اپنی امت کو ڈرانا بھی ثابت ہوا، لہٰذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت کا اشارہ ملتا ہے۔
(الحمد للہ یہ توفیق صرف اللہ کی طرف سے ہے۔)
صحیح بخاری کا باب: «بَابُ مَا ذُكِرَ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ}:»
باب اور حدیث میں مناسبت
ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت مشکل بلکہ انتہائی مشکل دکھلائی دیتی ہے، بلکہ کئی شارحین نے سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ والی مندرجہ بالا حدیث پر کسی قسم کی کوئی تطبیق کا ذکر نہیں فرمایا، یہاں تک کہ علامہ عینی نے صاف طور پر کہہ دیا: «هذا الحديث مشتمل على ثلاثة احاديث: الاول حديث الدجال . والثاني و الثالث: فى رجلين كل واحد فى رجل، والمطابقة للترجمة فى الثاني والثالث .» [عمده القاري 65/16]
”یہ حدیث تین احادیث پر مشتمل ہے، پہلی حدیث دجال کے بارے میں، دوسری اور تیسری دو آدمیوں کے بارے میں کہ ہر ایک میں ایک آدمی ہے، (جن کا تعلق بنی اسرائیل کے ساتھ تھا)، لہٰذا مطابقت ترجمۃ الباب سے دوسری اور تیسری حدیث سے ہے، (یعنی پہلی حدیث سے مطابقت نہیں ہے)۔“
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں فرمایا: «الحديث ياتي الكلام عليه مستوفي فى كتاب الفتن، والغرض منه هنا ايراد ما يليه و هو قصة الرجل الذى كايبايع الناس وقصة الرجل الذى اوصي بنيه ان يحرقوه .» [فتح الباري 413/7]
حافظ صاحب کی اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دجال والی حدیث دیگر دو احادیث سے تعلق رکھتی ہیں، کیونکہ بقیہ دونوں کے راوی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہی ہیں، لیکن مناسبت کے لئے میرے خیال سے یہ کافی نہیں ہے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے دجال کی حدیث کے بعد دو احادیث حذیفہ بن یمان سے نقل فرمائی ہیں اور صحیح بخاری میں مختلف جگہوں پر مختلف اسناد سے ان تینوں احادیث کو نقل فرمایا ہے۔
دجال کی حدیث 7130 میں۔۔۔۔۔
دوسری حدیث کو 2077 میں۔۔۔۔
تیسری حدیث کو 9480 میں۔۔۔۔۔
ذکر کیا ہے۔
علامہ عبدالحق الہاشمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: تحت الباب تین احادیث کا ذکر فرمایا ہے، امام بخاری رحمہ اللہ پہلی حدیث دجال کے بارے میں، دوسری حدیث خریدوفروخت کے بارے میں، تیسری حدیث نباش (کفن چور) کے بارے میں نقل کرتے ہیں، مزید لکھتے ہیں کہ: «والمطابقة للترجمة فى الثاني و الثالث.» [لب اللباب 69/3]
”ترجمۃ الباب سے مطابقت، دوسری اور تیسری حدیث میں ہے، (کیونکہ ان حدیثوں میں بنی اسرائیل کے ایک شخص کا ذکر ہے۔“
لیکن پہلی حدیث جس میں دجال کا ذکر ہے، اس میں کون سی مطابقت ہو گی اور اتفاق ہے کہ کئی شارحین نے اس حدیث کی مطابقت پر گفتگو نہیں فرمائی۔۔۔۔۔
یہ حقیر بندہ کہتا ہے کہ دجال کی حدیث سے ترجمۃ الباب کو مناسبت بہت گہرے انداز میں موجود ہے، وہ اس طرح کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «ما من نبي الا وقد انذر امته الاعور الكذاب الا انه اعور وان ربكم ليس باعور مكتوب بين عينيه ك- ف. ر.» [صحيح مسلم باب الرجال 4933]
”کوئی نبی ایسا نہیں گزرا مگر اس نے اپنی امت کو دجال کے بارے میں ڈرایا تھا اور تمہارا رب کانا نہیں، وہ اس (دجال) کی دونوں آنکھوں کے درمیان ک، ف، ر، لکھا ہوا ہے۔“
صحیح مسلم کی اس حدیث پر غور فرمائیں، جسے خود امام بخاری رحمہ اللہ نے بھی (کتاب الفتن رقم الحدیث 7131) میں ذکر فرمایا ہے، مذکورہ حدیث میں تمام نبیوں کا ذکر ہے کہ انہوں نے اپنی امت کو دجال کے فتنے سے آگاہی فراہم کی، لہٰذا موسیٰ علیہ السلام بھی ایک صاحب شریعت نبی تھے اور کیوں کر آپ نے بھی اپنی امت کو اس کے فتنے نہ ڈرایا ہو گا؟ لہٰذا حدیث سے یہ ثابت ہوا کہ موسیٰ علیہ السلام کی امت بنی اسرائیل ہے تو جب بنی اسرائیل ثابت ہوئے تو اس موقع پر بالاولیٰ موسیٰ علیہ السلام کا بھی ہونا ثابت ہوا اور ان کا دجال سے اپنی امت کو ڈرانا بھی ثابت ہوا، لہٰذا یہیں سے ترجمۃ الباب اور حدیث میں مناسبت کا اشارہ ملتا ہے۔
(الحمد للہ یہ توفیق صرف اللہ کی طرف سے ہے۔)
درج بالا اقتباس عون الباری فی مناسبات تراجم البخاری ، جلد دوئم، حدیث/صفحہ نمبر: 31 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3450 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3450. حضرت عقبہ بن عمرو انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا: کیا آپ ہم سے وہ حدیث بیان نہیں کریں گےجو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی؟ انھوں نے (حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)نے کہا: میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’جب دجال خروج کرے گا تو اس کے ساتھ پانی اور آگ ہو گی لیکن جس کو لوگ دیکھیں گے کہ آگ ہے وہ در حقیقت ٹھنڈا پانی ہوگا اور جسے لوگ ٹھنڈا پانی خیال کریں گے وہ آگ ہو گی جو جلائے گی لہٰذا تم میں سے جو شخص اسے پائے تو اسے چاہیے کہ جس کو وہ آگ خیال کرتا ہے، اس میں کود جائے کیونکہ وہ تو بہت ٹھنڈا اور شریں پانی ہو گا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:3450]
حدیث حاشیہ:
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث تین احادیث پر مشتمل ہے۔
یہ پہلی حدیث دجال سے متعلق ہے باقی دواحادیث میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کے حالات بیان ہوں گے۔
اس حدیث کے مطابق دجال اکبر کو اللہ تعالیٰ کچھ خرق عادت اشیاء دے گا۔
اس قسم کی شعبدہ بازی سے بندوں کا امتحان لیا جائے گا۔
بالآخر اس ملعون کی عاجزی اور درماندگی کو اللہ تعالیٰ نمایاں کر دے گا۔
اسے برسرعام ذلیل وخوار کرے گا اور حضرت عیسیٰ ؑ اسے قتل کریں گے۔
حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی حدیث تین احادیث پر مشتمل ہے۔
یہ پہلی حدیث دجال سے متعلق ہے باقی دواحادیث میں بنی اسرائیل کے دو آدمیوں کے حالات بیان ہوں گے۔
اس حدیث کے مطابق دجال اکبر کو اللہ تعالیٰ کچھ خرق عادت اشیاء دے گا۔
اس قسم کی شعبدہ بازی سے بندوں کا امتحان لیا جائے گا۔
بالآخر اس ملعون کی عاجزی اور درماندگی کو اللہ تعالیٰ نمایاں کر دے گا۔
اسے برسرعام ذلیل وخوار کرے گا اور حضرت عیسیٰ ؑ اسے قتل کریں گے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3450 سے ماخوذ ہے۔