حدیث نمبر: 2930
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ التُّجِيبِيُّ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ انْطَلَقَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَهْطٍ قِبَلَ ابْنِ صَيَّادٍ ، حَتَّى وَجَدَهُ يَلْعَبُ مَعَ الصِّبْيَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ ، وَقَدْ قَارَبَ ابْنُ صَيَّادٍ يَوْمَئِذٍ الْحُلُمَ ، فَلَمْ يَشْعُرْ حَتَّى ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ظَهْرَهُ بِيَدِهِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَيَّادٍ : " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّكَ رَسُولُ الْأُمِّيِّينَ ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَرَفَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ : " آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرُسُلِهِ " ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَاذَا تَرَى ؟ " ، قَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : يَأْتِينِي صَادِقٌ وَكَاذِبٌ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُلِّطَ عَلَيْكَ الْأَمْرُ " ، ثُمَّ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " ، فَقَالَ ابْنُ صَيَّادٍ : هُوَ الدُّخُّ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَهُ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنْهُ فَلَنْ تُسَلَّطَ عَلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْهُ فَلَا خَيْرَ لَكَ فِي قَتْلِهِ " ،

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ سالم بن عبداللہ نے انھیں بتایا، انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چند لوگوں میں ابن صیاد کے پاس گئے حتیٰ کہ اسے بنی مغالہ کے قلعے کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا، ان دنوں ابن صیاد جوانی کے قریب تھا۔ اس کو خبر نہ ہوئی یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی پیٹھ پر اپنا ہاتھ مارا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ کیا تو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ تم امیین کے رسول ہو (امی کہتے ہیں ان پڑھ اور بے تعلیم کو)۔ پھر ابن صیاد نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کا کچھ جواب نہ دیا (اور اس سے مسلمان ہونے کی درخواست نہ کی کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے مسلمان ہونے سے مایوس ہو گئے اور ایک روایت میں صاد مہملہ سے یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو لات سے مارا) اور فرمایا کہ میں اللہ پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا کہ تجھے کیا دکھائی دیتا ہے؟ وہ بولا کہ میرے پاس کبھی سچا آتا ہے اور کبھی جھوٹا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیرا کام گڑبڑ ہو گیا (یعنی مخلوط حق و باطل دونوں سے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تجھ سے پوچھنے کے لیے ایک بات دل میں چھپائی ہے۔ ابن صیاد نے کہا کہ وہ دخ (دھواں) ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذلیل ہو، تو اپنی قدر سے کہاں بڑھ سکتا ہے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! مجھے چھوڑیے میں اس کی گردن مارتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ وہی (یعنی دجال) ہے تو تو اس کو مار نہ سکے گا اور اگر یہ وہ (دجال) نہیں ہے تو تجھے اس کا مارنا بہتر نہیں ہے۔

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، قَالَ : انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ رَهْطٌ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، حَتَّى وَجَدَ ابْنَ صَيَّادٍ غُلَامًا قَدْ نَاهَزَ الْحُلُمَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مُعَاوِيَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ إِلَى مُنْتَهَى حَدِيثِ عُمَرَ بْنِ ثَابِتٍ ، وَفِي الْحَدِيثِ عَنْ يَعْقُوبَ ، قَالَ : قَالَ أُبَيٌّ يَعْنِي فِي قَوْلِهِ : لَوْ تَرَكَتْهُ بَيَّنَ ، قَالَ : لَوْ تَرَكَتْهُ أُمُّهُ بَيَّنَ أَمْرَهُ ،

صالح نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کی جماعت کے ساتھ جس میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، تشریف لے گئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کو دیکھا۔ وہ اس وقت بلوغت کی عمر کو پہنچنے کے قریب ایک لڑکا تھا، وہ بنو معاویہ کے مکانوں کے پاس لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ اور عمر بن ثابت کی حدیث کے اختتام تک یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ اور یعقوب سے روایت کردہ حدیث میں کہا: ابی (ابن کعب رضی اللہ عنہ) نے آپ صلی اللہ علی۔ہ وسلم کے فرمان: ”اگر وہ اسے چھوڑ دیتی تو واضح کر دیتا۔“ کے بارے میں کہا، اگر اس کی ماں اسے چھوڑ دیتی تو اپنا معاملہ وہ واضح کر دیتا۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، وَسَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ فِي نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فِيهِمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ عِنْدَ أُطُمِ بَنِي مَغَالَةَ وَهُوَ غُلَامٌ بِمَعْنَى حَدِيثِ يُونُسَ وَصَالِحٍ ، غَيْرَ أَنَّ عَبْدَ بْنَ حُمَيْدٍ لَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ ابْنِ عُمَرَ ، فِي انْطِلَاقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ إِلَى النَّخْلِ .

عبدبن حمید اور سلمہ بن ثویب دونوں نے ہمیں عبدالرزاق سے حدیث بیان کی، (انہوں نے کہا:) ہمیں معمر نے زہری سے خبر دی، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے چند لوگوں کے ساتھ، جن میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے، ابن صیاد کے قریب سے گزرے، وہ اس وقت لڑکا تھا اور بنو مقالہ کے مکانوں کے قریب لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ (آگے) جس طرح یونس اور صالح کی حدیث ہے مگر عبدحمید نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ساتھ کھجوروں کے باغ میں جانے کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2930
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6618 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6618. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے (بتا وہ کیا ہے؟) اس نے کہا: وہ دخ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بد بخت، دور ہو جا! تو اپنی حیثیت سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکےگا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی: آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑاؤں۔ آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6618]
حدیث حاشیہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ اس لیے کہا کہ خس کم جہاں پاک آئندہ دجال کا اندیشہ ہی نہ رہے۔
اس حدیث کی مناسبت کتاب القدر سے یوں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر وہ دجال ہے تب تو تم اسے مار ہی نہ سکو گے کیوں کہ اللہ نے تقدیر یوں لکھی ہے کہ وہ قیامت کے قریب نکلے گا اور لوگوں کو گمراہ کرے گا آخر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہوگا۔
تقدیر کے خلاف نہیں ہو سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ دجال کے لفظی معنی کے لحاظ سے ابن صیاد بھی دجالوں کی فہرست ہی کا ایک فرد تھا اس کے سارے کاموں میں دجل اور فریب کا پورا پورا دخل تھا، ایسے لوگ امت میں بہت ہوئے ہیں اور آج بھی موجود ہیں اور آئندہ بھی ہوتے رہیں گے ان کو دجالون کذابون کہا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6618 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6618 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6618. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا: نبی ﷺ نے ابن صیاد سے فرمایا: میں نے تیرے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے (بتا وہ کیا ہے؟) اس نے کہا: وہ دخ ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بد بخت، دور ہو جا! تو اپنی حیثیت سے ہرگز آگے نہیں بڑھ سکےگا۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کی: آپ مجھے اجازت دیں، میں اس کی گردن اڑاؤں۔ آپ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو، اگر یہ وہی ہے تو تم اسے قتل نہیں کر سکتے اور اگر یہ وہ نہیں تو اس کے قتل کرنے میں تمہیں کوئی فائدہ نہیں۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6618]
حدیث حاشیہ:
(1)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ تھا کہ اگر یہ وہی دجال ہے جس کا خروج اور لوگوں کو گمراہ کرنا، اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے تو تمہارا خالق و مالک تمہیں اسے قتل کرنے کی قدرت نہیں دے گا بلکہ درمیان میں حائل ہو جائے گا۔
اگر تجھے اسے قتل کرنے کی قدرت دے دے تو اللہ تعالیٰ کے علم میں نقص آئے گا جو محال ہے۔
مقصد یہ ہے کہ تقدیر کا فیصلہ قطعی اور اٹل ہے۔
اگر کہیں کسی کے لیے ٹل سکتا تو آج حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہہ کر مایوس نہ کیا جاتا کہ تم اس بچے (ابن صیاد)
کو قتل کر ہی نہیں سکتے۔
(2)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا دنیا میں دوبارہ آنا اور تشریف لا کر دجال کو قتل کرنا تقدیر کے ان حتمی فیصلوں میں داخل ہو چکا ہے جو اٹل ہیں۔
یہاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے بہادر کی قوت آزمائی بھی بے کار ہے۔
یہ قدرت کے راز ہیں، اگر وہ کسی قید و شرط کو بیان کر کے اپنے فیصلے کو ٹال دیتا تو آج ہی یہ امت ان ہولناک مصائب سے نجات پا لیتی جن کے تصور سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، مگر اس ذات بے نیاز کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔
(3)
اس وضاحت کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ وسوسہ بھی پیدا نہیں ہوا کہ لاؤ، ذرا آزمائش تو کر کے دیکھوں کہ مجھ میں اس کے قتل کی طاقت ہے یا نہیں۔
بہرحال تقدیر میں جس طرح دجال کا قتل مقدر ہو چکا ہے۔
اسی طرح اس کا قاتل بھی مقدر ہو چکا ہے، یہ ناممکن ہے کہ وہ قتل تو ہو جائے مگر ہو کسی اور سبب سے، وہ یقیناً قتل ہو گا مگر اسی سبب سے جو اس کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔
واللہ أعلم
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6618 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2638 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
2638. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابی بن کعب انصاری ؓ اس نخلستان کا قصد کر کے چلے جس میں ابن صیاد تھا۔ رسول اللہ ﷺ جب باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کی آڑ میں چھپ چھپ کر چلنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ اس کی کچھ باتیں اس کے دیکھنے سے پہلے سننا چاہتے تھے۔ ابن صیاد اپنے بستر پر چادر میں منہ لپیٹے لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ چنانچہ نبی ﷺ درختوں کی آڑ میں آرہے تھے کہ ابن صیاد کی ماں نے آپ کو دیکھ لیا۔ اس نے (فوراً) ابن صیاد سے کہا: اے صاف! یہ محمد (ﷺ آرہے) ہیں۔ یہ سن کر ابن صیاد گنگناہٹ سے رک گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر وہ اسے (اس حال پر) چھوڑ دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2638]
حدیث حاشیہ: ابن صیاد مدینہ میں ایک یہودی لڑکا تھا جو بڑ مارا کرتا تھا کہ مجھ پر بھی وحی اترتی ہے۔
حالانکہ اس پر شیطان سوار تھا۔
اکثر نیم بے ہوشی میں رہتا تھا اور دیوانگی کی باتیں کرتا تھا۔
آنحضرت ﷺ نے ایک مرتبہ چاہا چھپ کر اس کی بڑ کو سنیں اور وہ آپ کو دیکھ نہ سکے۔
یہی واقعہ یہاں مذکور ہے اور اسی سے حضرت امام ؒ نے ترجمۃ الباب کو ثابت فرمایا ہے۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 2638 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 2638 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
2638. حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابی بن کعب انصاری ؓ اس نخلستان کا قصد کر کے چلے جس میں ابن صیاد تھا۔ رسول اللہ ﷺ جب باغ میں داخل ہوئے تو کھجوروں کی آڑ میں چھپ چھپ کر چلنے لگے۔ رسول اللہ ﷺ اس کی کچھ باتیں اس کے دیکھنے سے پہلے سننا چاہتے تھے۔ ابن صیاد اپنے بستر پر چادر میں منہ لپیٹے لیٹا ہوا تھا اور کچھ گنگنا رہا تھا۔ چنانچہ نبی ﷺ درختوں کی آڑ میں آرہے تھے کہ ابن صیاد کی ماں نے آپ کو دیکھ لیا۔ اس نے (فوراً) ابن صیاد سے کہا: اے صاف! یہ محمد (ﷺ آرہے) ہیں۔ یہ سن کر ابن صیاد گنگناہٹ سے رک گیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ’’اگر وہ اسے (اس حال پر) چھوڑ دیتی تو معاملہ واضح ہو جاتا۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:2638]
حدیث حاشیہ:
(1)
جس نے چھپ کر کوئی واقعہ دیکھا یا سنا تو کیا اس کی گواہی معتبر ہو گی یا نہیں؟ بعض حضرات کا خیال ہے کہ جو شخص چھپ کر کسی کے حالات معلوم کرتا ہے، اس کی عدالت مجروح ہے، لہذا اس کی شہادت قبول نہیں ہو گی لیکن بعض اوقات ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ حالات کا صحیح علم ہو سکے، چنانچہ ابن صیاد چھپ کر نافرمانی اور فریب کرتا تھا، ایسے لوگوں کا کسی بھی حیلے سے کلام سننا جائز ہے تاکہ پوری وضاحت کے بعد کوئی حکم لگایا جائے، چنانچہ رسول اللہ ﷺنے چھپ کر ابن صیاد کے حالات معلوم کرنے کا پروگرام بنایا اور اس کی گفتگو چھپ کر سنی، نیز فرمایا: ’’اگر اس کی ماں اسے خبردار نہ کرتی تو اس کے متعلق کئی امور کا انکشاف ہوتا۔
‘‘ (2)
اگر چھپ کر بات سننے والے کی شہادت قبول نہ کی جائے تو سراغ رسانی کا محکمہ اور اس کی کارکردگی فضول ہو گی۔
اب تو دنیا اتنی ترقی کر گئی ہے کہ کسی مقام پر چھوٹا سا آلہ لگایا جاتا ہے جس میں اہل مجلس کی تمام گفتگو ریکارڈ ہو جاتی ہے، ایسی شہادت قبول تو ہو گی، البتہ اس پر جرح کی جا سکتی ہے تاکہ کوئی فاسق و فاجر اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا سکے۔
جہاں آوازوں کے اشتباہ کا اندیشہ ہو تو ایسی گواہی پر مکمل انحصار نہیں کیا جائے گا جس کی بنیاد صرف سماعت ہے۔
بہرحال ایسے معاملات میں جرح کا حق محفوظ رہنا چاہیے تاکہ حقیقت حال تک رسائی حاصل ہو سکے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 2638 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2249 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´ابن صائد (ابن صیاد) کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب بھی تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، اس وقت وہ بچوں کے ساتھ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس کھیل رہا تھا، وہ ایک چھوٹا بچہ تھا اس لیے اسے آپ کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس کی پیٹھ پر مارا، پھر فرمایا: کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ ابن صیاد نے آپ کی طرف دیکھ کر کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن صیاد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: کیا۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2249]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
آپ اس دن کے منتظر رہیں جب کہ آسمان ظاہر دھواں لائے گا۔

2؎:
بعض صحابہ کرام یہ سمجھتے تھے کہ یہی وہ مسیح دجال ہے جس کے متعلق قرب قیامت میں ظہور کی خبردی گئی ہے، لیکن فاطمہ بنت قیس کی روایت سے جس میں تمیم داری نے اپنے سمندری سفر کا حال بیان کیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ قطعیت اس بات میں ہے کہ ابن صیاد دجال اکبر نہیں بلکہ کوئی اور ہے، ابن صیاد تو ان دجاجلہ، کذابین میں سے ایک ہے جن کے ظہور کی رسول اللہ ﷺ نے خبردی تھی، اور ان میں سے اکثر کا ظہور ہوچکا ہے، رہے وہ صحابہ جنہوں نے وثوق کے ساتھ قسم کھا کر ابن صیاد کو دجال کہا حتی کہ آپ ﷺ کے سامنے بھی اسے دجال کہا گیا اور آپﷺ خاموش رہے تو یہ سب تمیم داری والے واقعہ سے پہلے کی باتیں ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2249 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4329 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ابن صیاد کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ جس میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے ابن صیاد کے پاس سے گزرے، وہ بنی مغالہ کے ٹیلوں کے پاس بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، وہ ایک کمسن لڑکا تھا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کا احساس اس وقت تک نہ ہو سکا جب تک آپ نے اپنے ہاتھ سے اس کی پشت پر مار نہ دیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ تو ابن صیاد نے آپ کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا، اور بولا: ہاں، میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ امیوں کے رسول ہیں، پھر ابن۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الملاحم /حدیث: 4329]
فوائد ومسائل:
علامہ ابنِ اثیر النہایہ میں لکھتے ہیں کہ یہ ایک یہودی تھا جو ان کے ساتھ ملا جلا رہتا تھا۔
اس کا نام صَا فُ کہا گیا ہے۔
اس کے پاس کہانت اور جادو کا علم تھا اور وہ اپنے وقت میں اللہ کے نیک بندوں کے لیئے ایک امتحان تھا تا کہ جو ہلاک ہو دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جو زندہ رہے دلیل ک ساتھ زندہ رہے۔
اکثر کہتے ہیں کہ یہ مدینہ میں مرا اور یہ بھی کہا گیا کہ واقعہ حرا کے مو قعے پر اسے گم پایا گیا اور پھر ملا نہیں۔
واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4329 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: بلوغ المرام / حدیث: 1126 کی شرح از الشیخ صفی الرحمن مبارکپوری ✍️
´جزیہ اور صلح کا بیان`
سیدنا عائذ بن عمرو المذنی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ اسلام غالب رہتا ہے مغلوب نہیں ہوتا۔ (سنن دارقطنی) «بلوغ المرام/حدیث: 1126»
تخریج:
«أخرجه الدار قطني: 3 /252 وسنده ضعيف، وللحديث شواهد عند الطحاوي في معاني الآثار:2 /150 وغيره، وعلقه البخاري، الجنائز، قبل حديث:1354.»
تشریح: 1. اس حدیث میں خبر و اطلاع بھی ہے اور پیش گوئی بھی کہ اسلام ہمیشہ غالب بن کر رہنے کے لیے آیا ہے‘ مغلوب بن کر رہنے کے لیے نہیں‘ لہٰذا اہل اسلام کو چاہیے کہ نظریاتی اور عملی طور پر اسے غالب رکھنے کی کوشش کرتے رہیں۔
اسلام کی صحیح تبلیغ و اشاعت کریں۔
اور اس کے مطابق پہلے خود اپنی عملی زندگی ڈھالیں تاکہ ان کے عمل و کردار اور اخلاق و اطوار سے متاثر ہو کر غیر مسلم دائرۂ اسلام میں داخل ہوں۔
2.اس حدیث کو ہدنہ (صلح) کی تمہید اور ابتدا کے طور پر ذکر کیا گیا ہے کہ باہمی مصالحت میں اگر بفرض محال کوئی شرط بظاہر اسلام کے ماننے والے کے مفاد کے خلاف بھی معلوم ہو تو پریشان ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔
3. اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے۔
وہ اسے ہمیشہ سربلند و بالاتر اور اعلیٰ و غالب رکھے گا۔
اس کے ماننے والے اگر اس کے مطابق عمل کریں گے تو سرخرو ہوں گے اور اللہ تعالیٰ اسلام اور اہل اسلام کی نصرت و مدد فرمائے گا۔
4. اسلام کا دلائل و براہین کے اعتبار سے سب پر غالب رہنا تو ایک مسلمہ حقیقت ہے۔

راویٔ حدیث:
«حضرت عائذ بن عمرو مزنی رضی اللہ عنہ» ابو ہبیرہ ان کی کنیت تھی۔
بصرہ میں فروکش ہوگئے تھے۔
نیک ترین صحابہ میں سے تھے۔
بیعت رضوان میں حاضر تھے۔
یزید بن معاویہ کے عہد میں وفات پائی۔
درج بالا اقتباس بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 1126 سے ماخوذ ہے۔