صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ: باب: ابن صیاد کا بیان۔
حدیث نمبر: 2928
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُفَضَّلٍ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ : " مَا تُرْبَةُ الْجَنَّةِ ، قَالَ : دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ يَا أَبَا الْقَاسِمِ ، قَالَ : صَدَقْتَ " .ابومسلمہ نے ابونضرہ سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا: ”جنت کی مٹی کیسی ہے؟“ اس نے کہا: اے ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وسلم)! باریک سفید، کستوری (جیسی) ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے سچ کہا۔“
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ ابْنَ صَيَّادٍ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ تُرْبَةِ الْجَنَّةِ ؟ ، فَقَالَ : " دَرْمَكَةٌ بَيْضَاءُ مِسْكٌ خَالِصٌ " .حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ابن صیاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنت کی مٹی کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے فرمایا:" خالص سفید، خالص کستوری۔"
حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2928
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عبد العزیز علوی
ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے پوچھا،"جنت کی مٹی کیسی ہے؟"اس نے کہا،باریک سفید،کستوری اے ابو القاسم!آپ نے فرمایا:"تو نے سچ کہا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7351]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
درملة: باریک سفید، ملائم ونرم مٹی۔
درملة: باریک سفید، ملائم ونرم مٹی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2928 سے ماخوذ ہے۔