حدیث نمبر: 2924
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَقَالَ : لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ " .

حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے چنانچہ ہمارا گزر بچوں کے پاس سے ہوا جن میں ابن صیاد بھی تھا تو بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا۔ سو گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کو پسند نہ کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا:"تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟" تو اس نے کہا نہیں، بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ سو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیجیے تاکہ میں اس کو قتل کردوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر یہ وہی ہے جو تم سمجھتے ہو۔ یعنی دجال ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔"(کیونکہ دجال کو حضرت عیسیٰ نے قتل کرنا ہے)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " ، فَقَالَ : دُخٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ ، فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ " .

حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے۔کہ آپ کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے تیرے (امتحان کے)لیے ایک چیز دل میں پوشیدہ رکھی ہے۔" اس نے کہا وہ دخ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ذلیل وخواررہ تو ہر گز اپنی حیثیت سے تجاوز نہیں کر سکے گا۔"چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے چھوڑئیے کہ میں اس کی گردن ماردوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اسے چھوڑئیے اگر یہ وہ ہے جس کا تمھیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔"

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2924
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت عبد اللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے چنانچہ ہمارا گزر بچوں کے پاس سے ہوا جن میں ابن صیاد بھی تھا تو بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا۔ سو گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کو پسند نہ کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا:"تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟" تو اس نے کہا نہیں، بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:7344]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: ابن صیاد جس کانام صاف ہے، اس کی ولادت اور ہیئت کذائی عام بچوں سے الگ تھلگ تھی اور بعض صفات، دجال کی صفات سے ملتی جلتی تھیں، اس لیے بعض صحابہ کو اس سے دجال ہونے کا شبہ پڑتا تھا اور آپ نے اس کو قتل اس لیے نہیں کروایا کہ وہ یہودی تھا اور یہودیوں کے ساتھ آپ نے معاہدہ کیا تھا کہ وہ ان کے ساتھ امن و سلامتی سے رہیں گے، بعد میں ان کی ریشہ دوانیوں اور شرارتوں کی بنا پر، ان کو مدینہ منورہ سے نکال دیا گیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2924 سے ماخوذ ہے۔