صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب ذِكْرِ ابْنِ صَيَّادٍ: باب: ابن صیاد کا بیان۔
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَاللَّفْظُ لِعُثْمَانَ ، قَالَ إِسْحَاقُ : أَخْبَرَنَا ، وقَالَ عُثْمَانُ : حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَرْنَا بِصِبْيَانٍ فِيهِمْ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَفَرَّ الصِّبْيَانُ وَجَلَسَ ابْنُ صَيَّادٍ ، فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ ذَلِكَ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَرِبَتْ يَدَاكَ أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " ، فَقَالَ : لَا بَلْ تَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : ذَرْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ حَتَّى أَقْتُلَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنْ يَكُنِ الَّذِي تَرَى فَلَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ " .حضرت عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے چنانچہ ہمارا گزر بچوں کے پاس سے ہوا جن میں ابن صیاد بھی تھا تو بچے بھاگ گئے اور ابن صیاد بیٹھا رہا۔ سو گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے فعل کو پسند نہ کیا، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کہا:"تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں، کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟" تو اس نے کہا نہیں، بلکہ کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ سو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اجازت دیجیے تاکہ میں اس کو قتل کردوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اگر یہ وہی ہے جو تم سمجھتے ہو۔ یعنی دجال ہے تو تم اس کو قتل نہیں کر سکتے۔"(کیونکہ دجال کو حضرت عیسیٰ نے قتل کرنا ہے)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِأَبِي كُرَيْبٍ ، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا ، وقَالَ الْآخَرَانِ : أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : كُنَّا نَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَمَرَّ بِابْنِ صَيَّادٍ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا " ، فَقَالَ : دُخٌّ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اخْسَأْ فَلَنْ تَعْدُوَ قَدْرَكَ " ، فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، دَعْنِي فَأَضْرِبَ عُنُقَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهُ ، فَإِنْ يَكُنِ الَّذِي تَخَافُ لَنْ تَسْتَطِيعَ قَتْلَهُ " .حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جارہے تھے۔کہ آپ کا گزر ابن صیاد کے پاس سے ہوا۔چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"میں نے تیرے (امتحان کے)لیے ایک چیز دل میں پوشیدہ رکھی ہے۔" اس نے کہا وہ دخ ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"ذلیل وخواررہ تو ہر گز اپنی حیثیت سے تجاوز نہیں کر سکے گا۔"چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا،اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے چھوڑئیے کہ میں اس کی گردن ماردوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" اسے چھوڑئیے اگر یہ وہ ہے جس کا تمھیں اندیشہ ہے تو تم اسے قتل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔"