صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلاَءِ: باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَتُقَاتِلُنَّ الْيَهُودَ ، فَلَتَقْتُلُنَّهُمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ فَتَعَالَ فَاقْتُلْهُ " ،محمد بن بشیر نے کہا: ہمیں عبیداللہ نے نافع سے، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہود تم سے جنگ کریں گے اور تم انھیں اچھی طرح قتل کرو گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ یہودی ہے، آگے بڑھ، اس کو قتل کر۔“
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ : هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي .یحییٰ نے ہمیں عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی حدیث میں کہا: ”یہ یہودی میرے پیچھے ہے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تَقْتَتِلُونَ أَنْتُمْ وَيَهُودُ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي تَعَالَ فَاقْتُلْهُ " .عمر بن حمزہ نے کہا: میں نے سالم کو کہتے ہوئے سنا: ہمیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اور یہود آپس میں جنگ کرو گے، یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! یہ میرے پیچھے ایک یہودی ہے، آگے بڑھ، اسے قتل کر دے۔“
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُقَاتِلُكُمْ الْيَهُودُ فَتُسَلَّطُونَ عَلَيْهِمْ حَتَّى يَقُولَ الْحَجَرُ : يَا مُسْلِمُ هَذَا يَهُودِيٌّ وَرَائِي فَاقْتُلْهُ " .حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"یہودی تمھارے کے ساتھ جنگ کریں گےچنانچہ تمھیں ان پر غلبہ دیا جائے گا،، حتی کہ پتھر کہے گا۔اے مسلمان!یہ یہودی میرے پیچھے ہے،اس کو قتل کردے۔"
تشریح، فوائد و مسائل
حضرت عیسیٰ ؑ باب لد کے پاس دجال کو ماریں گے اور اس کے لشکر والے جابجا مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوں گے۔
1۔
مسند امام احمد میں اس حدیث کی تفصیل بیان ہوئی ہے کہ مسیح الدجال مدینہ طیبہ سے باہر ایک شوریلی زمین میں پڑاؤ کرے گا۔
وہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس پر مسلط کرے گا حتی کہ وہاں اس کے پیرو کار قتل ہو جائیں گے یہودی پتھروں اور درختوں کی اوٹ میں چھپتے پھیریں گے۔
اس وقت درخت اور پتھر بول کر کہیں گے۔
اے مسلمان!میرے پیچھے یہودی چھپا بیٹھا ہےاسے قتل کرو۔
(مسند أحمد: 67/2)
سنن ابن ماجہ میں ان الفاظ کا اضافہ ہے دجال کے ساتھ اس وقت ستر ہزار یہودی ہوں گے حضرت عیسیٰ ؑ " اب لد"کے پاس دجال کو قتل کریں گے اس طرح یہودیوں کو سخت ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
(سنن ابن ماجة، الفتن، حدیث: 4077)
2۔
اس میں رسول اللہ ﷺ کی ایک پیش گوئی کا بیان ہے جو قرب قیامت پوری ہو گی۔
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یہود تم سے لڑیں گے اور تم ان پر غالب ہو جاؤ گے یہاں تک کہ پتھر کہے گا: اے مسلمان! میرے پیچھے یہ یہودی ہے اسے قتل کر دو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الفتن/حدیث: 2236]
وضاحت: 1 ؎: دیگراحادیث کے مطالعہ سے اس ضمن میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسا مہدی اور عیسیٰ بن مریم علیہم السلام کے دور میں جاری جہاد کے وقت ہوگا۔