صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلاَءِ: باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ ، عَنْ ثَوْرٍ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " سَمِعْتُمْ بِمَدِينَةٍ جَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَرِّ ، وَجَانِبٌ مِنْهَا فِي الْبَحْرِ ؟ " ، قَالُوا : نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَغْزُوَهَا سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ بَنِي إِسْحَاقَ ، فَإِذَا جَاءُوهَا نَزَلُوا ، فَلَمْ يُقَاتِلُوا بِسِلَاحٍ وَلَمْ يَرْمُوا بِسَهْمٍ ، قَالُوا : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَيَسْقُطُ أَحَدُ جَانِبَيْهَا ، قَالَ : ثَوْرٌ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا ، قَالَ : الَّذِي فِي الْبَحْرِ ، ثُمَّ يَقُولُوا الثَّانِيَةَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَيَسْقُطُ جَانِبُهَا الْآخَرُ ، ثُمَّ يَقُولُوا الثَّالِثَةَ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ ، فَيُفَرَّجُ لَهُمْ فَيَدْخُلُوهَا ، فَيَغْنَمُوا فَبَيْنَمَا هُمْ يَقْتَسِمُونَ الْمَغَانِمَ إِذْ جَاءَهُمُ الصَّرِيخُ ، فَقَالَ : إِنَّ الدَّجَّالَ قَدْ خَرَجَ فَيَتْرُكُونَ كُلَّ شَيْءٍ وَيَرْجِعُونَ " ،عبدالعزیز بن محمد نے ثور بن زید دیلی سے، انہوں نے ابوالغیث سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسے شہر کے بارے میں سنا ہے جس کی ایک جانب خشکی میں ہے اور دوسری جانب سمندر میں ہے؟“ انہوں (صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین) نے عرض کی، جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ اس کے خلاف بنو اسحاق میں سے ستر ہزار لوگ جہاد کریں گے، وہاں پہنچ کر وہ اتریں گے تو نہ ہتھیار سے جنگ کریں گے نہ تیر اندازی کریں گے، وہ کہیں گے: لا إله إلا الله والله أكبر، تو اس (شہر) کی ایک جانب گر جائے گی۔“ ثور نے کہا: میں ہی جانتا ہوں کہ انہوں (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) نے وہی (کنارہ) کیا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو سمندر میں ہے، پھر وہ دوسری بار لا إله إلا الله والله أكبر کہیں گے تو اس (شہر) کا دوسرا کنارہ بھی گر جائے گا، پھر وہ تیسری بار لا إله إلا الله والله أكبر کہیں گے تو ان کے لیے راستہ کھل جائے گا اور وہ اس (شہر) میں داخل ہو جائیں گے اور غنائم حاصل کریں گے۔ جب وہ مال غنیمت تقسیم کر رہے ہوں گے تو ایک چیختی ہوئی آواز آئے گی جو کہے گی: دجال نمودار ہو گیا۔ چنانچہ وہ (مسلمان) ہر چیز چھوڑ دیں گے اور واپس پلٹ پڑیں گے۔“
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ .سلیمان بن بلال نے کہا: ہمیں ثور بن زید دیلی نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی۔