صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلاَءِ: باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
حدیث نمبر: 2917
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يُهْلِكُ أُمَّتِي هَذَا الْحَيُّ مِنْ قُرَيْشٍ " ، قَالُوا : فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ ، قَالَ : " لَوْ أَنَّ النَّاسَ اعْتَزَلُوهُمْ " ،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" میری امت کی ہلاکت و بربادی اس قریشی خاندان کے ہاتھوں ہو گی۔"صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پوچھا:"تو آپ کا ہمارے لیے کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا:"اے کاش!لوگ ان سے الگ رہیں۔"
وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ فِي مَعْنَاهُ .امام صاحب ایک دو اساتذہ سے مذکورہ بالا روایت کہ ہم معنی روایت بیان کرتے ہیں۔"
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 3604 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
3604. حضرت ابوہریرہ ؓسے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تم لوگوں کو یہ قبیلہ قریش ہلاک کردے گا۔ ‘‘ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کیا: ایسے حالات میں ہمارے لیے کیا حکم ہے؟آپ نے فرمایا: ’’کاش! اس وقت لوگ ان سے الگ رہیں۔‘‘ شعبہ کے ایک دوسرے طریق میں ابوالتیاح کی ابوزرعہ سے سماع کی تصریح ہے۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:3604]
حدیث حاشیہ:
1۔
یہ حدیث بھی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے مستقبل کے متعلق ایک پیش گوئی فرمائی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
2۔
حدیث میں (لَوْ)
شرط کے لیے ہے یعنی اگر لوگ ان سے علیحدہ رہیں تو ان کے لیے بہتر ہو گا۔
اس حدیث میں قریش کے ناپختہ کار اور نوخیز مراد ہیں جو اقتدار کے بھوکے ہوں گے اور ہوس ملک گیری کی خاطر قتل و غارت اور خونریزی سے اجتناب نہیں کریں گے ارشاد نبوی کے مطابق ایسے حالات میں حکمران وقت سے الجھنے کے بجائے اپنے دین کو بچانے کی فکر کرنی چاہیےکیونکہ ایمان بچانا انتہائی ضروری ہے۔
1۔
یہ حدیث بھی نبوت کی دلیل ہے کیونکہ اس میں رسول اللہ ﷺ نے مستقبل کے متعلق ایک پیش گوئی فرمائی جو حرف بہ حرف پوری ہوئی۔
2۔
حدیث میں (لَوْ)
شرط کے لیے ہے یعنی اگر لوگ ان سے علیحدہ رہیں تو ان کے لیے بہتر ہو گا۔
اس حدیث میں قریش کے ناپختہ کار اور نوخیز مراد ہیں جو اقتدار کے بھوکے ہوں گے اور ہوس ملک گیری کی خاطر قتل و غارت اور خونریزی سے اجتناب نہیں کریں گے ارشاد نبوی کے مطابق ایسے حالات میں حکمران وقت سے الجھنے کے بجائے اپنے دین کو بچانے کی فکر کرنی چاہیےکیونکہ ایمان بچانا انتہائی ضروری ہے۔
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 3604 سے ماخوذ ہے۔