صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يَمُرَّ الرَّجُلُ بِقَبْرِ الرَّجُلِ فَيَتَمَنَّى أَنْ يَكُونَ مَكَانَ الْمَيِّتِ مِنَ الْبَلاَءِ: باب: قیامت کے قریب فتنوں کی وجہ سے انسان کا قبرستان سے گزرتے ہوئے موت کی تمنا کرنا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا نَضْرَةَ يُحَدِّثُ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَمَّارٍ حِينَ جَعَلَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ ، وَجَعَلَ يَمْسَحُ رَأْسَهُ ، وَيَقُولُ : " بُؤْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ تَقْتُلُكَ فِئَةٌ بَاغِيَةٌ " ،محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے ابومسلمہ سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: میں نے ابونضرہ سے سنا، وہ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کر رہے تھے، انہوں نے کہا: ایک ایسے شخص نے مجھے بتایا جو مجھ سے بہتر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے خندق کھودنے کا آغاز کیا تو عمار رضی اللہ عنہ سے ایک بات ارشاد فرمائی، آپ ان کے سر پر ہاتھ پھیرنے اور فرمانے لگے: ”سمیہ کے بیٹے کی مصیبت! تمھیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ ، وَهُرَيْمُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ . ح وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَمَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ ، قَالُوا : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ كِلَاهُمَا ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي مَسْلَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ النَّضْرِ ، أَخْبَرَنِي مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي أَبُو قَتَادَةَ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدِ بْنِ الْحَارِثِ ، قَالَ : أُرَاهُ يَعْنِي أَبَا قَتَادَةَ ، وَفِي حَدِيثِ خَالِدٍ ، وَيَقُولُ : يَا وَيْسَ ابْنِ سُمَيَّةَ .اور خالد بن حارث اور نضر بن شمیل دونوں نے شعبہ سے روایت کی، انہوں نے ابومسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی، البتہ نضر کی حدیث میں ہے: مجھے مجھ سے بہتر شخص ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی۔ اور خالد بن حارث کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا: میرا خیال ہے ان کی مراد ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے تھی۔ اور خالد کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”افسوس!“ یا فرمایا: ”وائے افسوس ابن سمیہ پر!“