حدیث نمبر: 2912
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ " .

سفیان نے زہری سے، انہوں نے سعید (بن مسیب) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے اور قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں (اون) کے ہوں گے۔“

وحَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلَكُمْ أُمَّةٌ يَنْتَعِلُونَ الشَّعَرَ ، وُجُوهُهُمْ مِثْلُ الْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ " .

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم ایک ایسی امت سے جنگ کرو گے جو بالوں کے جوتے پہنتے ہوں گے اور ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا صِغَارَ الْأَعْيُنِ ذُلْفَ الْآنُفِ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم تک پہنچاتے ہیں،آپ نے فرمایا:" قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم ایسی قوم سے جنگ لڑو گے، جن کے جوتے بالوں کے ہیں اور قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے،جن کی آنکھیں چھوٹی اور ناک چپٹی ہو گی۔"

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى يُقَاتِلَ الْمُسْلِمُونَ التُّرْكَ قَوْمًا ، وُجُوهُهُمْ كَالْمَجَانِّ الْمُطْرَقَةِ يَلْبَسُونَ الشَّعَرَ وَيَمْشُونَ فِي الشَّعَرِ " .

سہیل کے والد (ابوصالح) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ مسلمان ترکوں سے جنگ کریں گے، یہ ایسی قوم ہے جن کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے، یہ لوگ بالوں کا لباس پہنتے ہوں گے، بالوں (کے جوتوں) میں چلتے ہوں گے۔“

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُقَاتِلُونَ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ قَوْمًا نِعَالُهُمُ الشَّعَرُ ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ حُمْرُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ " .

قیس بن ابی حازم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت سے پہلے تم ایسی قوم سے جنگ کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، ان کے چہرے کوٹی ہوئی ڈھالوں کی طرح ہوں گے، وہ سرخ چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے ہوں گے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2912
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"قیامت قائم نہیں ہو گی،حتی کہ تم سے ایسی قوم جنگ کرے گی، جن کے چہرے گویا کہ دوہری ڈھال ہیں اور قیامت قائم نہیں ہو گی حتی کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے، جن کی جوتیاں بالوں کی ہوں گی۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7310]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
مجان، مجن کی جمع ہے۔
(2)
مطرقه: جن پر چمڑا چڑھایاگیا ہو، یعنی ان کے چہرے گول مٹول اور بھرپورہوں گے۔
(3)
نعالهم الشعر، ان کے جوتے بالوں کی رسیوں سے بنے ہوں گے۔
فوائد ومسائل: حدیث میں بیان کردہ، قوم سے مراد، ترک ہیں، جن سے ان کے کفر کے دور میں جنگیں ہوئیں، یہ بالوں کے جوتے اور لباس پہنتے تھے اور ایک دوسری قوم، بابک خرمی کے ساتھی بھی بالوں کے جوتے پہنتے تھے، یہ 201ھ میں نکلا اور 222ھ میں قتل کردیا گیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2912 سے ماخوذ ہے۔