حدیث نمبر: 2908
وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ ، عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِي أَيِّ شَيْءٍ قَتَلَ ، وَلَا يَدْرِي الْمَقْتُولُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ قُتِلَ " .

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس ذات کی قسم! جس کےہاتھ میں میری جان ہے لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا،قاتل کو پتہ نہیں ہوگا، اس نے قتل کیوں،کس سبب کی بنا پر کیا ہے اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا، اسے اس وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔

وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ الْأَسْلَمِيِّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتَّى يَأْتِيَ عَلَى النَّاسِ يَوْمٌ لَا يَدْرِي الْقَاتِلُ فِيمَ قَتَلَ ، وَلَا الْمَقْتُولُ فِيمَ قُتِلَ " ، فَقِيلَ : كَيْفَ يَكُونُ ذَلِكَ ؟ ، قَالَ : " الْهَرْجُ الْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ " ، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبَانَ ، قَالَ هُوَ يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ : عَنْ أَبِي إِسْمَاعِيلَ ، لَمْ يَذْكُرْ الْأَسْلَمِيَّ .

عبداللہ بن عمر بن ابان اور واصل بن عبدالاعلیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی، دونوں نے کہا: ہمیں محمد بن فضیل نے ابواسماعیل اسلمی سے حدیث بیان کی، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! دنیا ختم نہیں ہو گی یہاں تک کہ لوگوں پر ایسا دن آ جائے جس میں قاتل کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس نے کیوں قتل کیا اور مقتول کو یہ پتہ نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا گیا۔“ عرض کی گئی: یہ کیسے ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اندھا دھند خونریزی ہو گی، قاتل اور مقتول دونوں (جہنم کی) آگ میں جائیں گے۔“ ابن ابان کی روایت میں (اس طرح) ہے: کہا: وہ یزید بن کیسان ہے (جس کے بارے میں کہا گیا ہے) ابواسماعیل سے روایت ہے (اس کا پورا نام ابواسماعیل یزید بن کیسان ہے) انہوں نے (اس کی نسبت) ”اسلمی“ کا ذکر نہیں کیا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2908
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"اس ذات کی قسم! جس کےہاتھ میں میری جان ہے لوگوں پر ایک ایسا وقت آئے گا،قاتل کو پتہ نہیں ہوگا، اس نے قتل کیوں،کس سبب کی بنا پر کیا ہے اور نہ مقتول کو پتہ ہوگا، اسے اس وجہ سے قتل کیا گیا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7303]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوا، ایک ایساوقت ہوگا، جس میں قتل و غارت عام ہو جائے گی اور اس کو کوئی عیب یا گناہ نہیں سمجھا جائے گا، بلکہ بلا سبب یا بغیر کسی وجہ سے قتل کا ارتکاب کیا جائے گا، شاید جس دور سے ہم گزر رہے ہیں، اس میں یہ کام شروع ہو چکا ہو، معمولی معمولی اور حقیر باتوں پر قتل ہورہے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2908 سے ماخوذ ہے۔