حدیث نمبر: 2905
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ ، يَقُولُ : " أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، أَلَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ، مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .

لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی، انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جبکہ آپ مشرق کا رخ کیے ہوئے فرما رہے تھے: ”سنو! فتنہ یہاں ہو گا، سنو! یہاں ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى . ح وحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ يَحْيَى الْقَطَّانِ ، قَالَ الْقَوَارِيرِيُّ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عِنْدَ بَابِ حَفْصَةَ ، فَقَالَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ : " الْفِتْنَةُ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ ، قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا " ، وقَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ فِي رِوَايَتِهِ : قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ بَابِ عَائِشَةَ .

عبیداللہ بن عمر قواریری، محمد بن مثنیٰ اور عبیداللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی، ان سب نے یحییٰ (بن سعید) قطان سے روایت کی، قواریری نے کہا: مجھے یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ بن عمر سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا: مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے تھے: ”فتنہ اس سمت میں ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“ یہ بات آپ نے دو یا تین بار ارشاد فرمائی۔ عبیداللہ بن سعید نے اپنی روایت میں کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے دروازے کے پاس کھڑے تھے۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ مُسْتَقْبِلُ الْمَشْرِقِ : " هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ " .

حضرت سالم بن عبداللہ رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق کی طرف منہ کر کے فرمایا:"خبردار!فتنہ ادھر ہے، خبردار!فتنہ ادھر ہے، خبردار!فتنہ ادھر ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔"

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِ عَائِشَةَ ، فَقَالَ : " رَأْسُ الْكُفْرِ مِنْ هَاهُنَا مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنُ الشَّيْطَانِ يَعْنِي الْمَشْرِقَ " .

عکرمہ بن عمار نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر سے باہر تشریف لائے اور فرمایا: ”کفر کا سر ادھر سے ظاہر ہو گا جہاں سے شیطان کا سینگ نمودار ہوتا ہے۔“ آپ کی مراد مشرق (کی سمت) سے تھی۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ ، وَيَقُولُ : " هَا إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا هَا ، إِنَّ الْفِتْنَةَ هَاهُنَا ثَلَاثًا حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ " .

حنظلہ نے کہا: میں نے سالم سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشرق کی طرف ہاتھ سے اشارہ کر کے فرماتے ہوئے سنا: ”یاد رکھو! فتنہ اس طرف سے ہے، یاد رکھو! فتنہ اسی طرف سے ہے۔“ تین بار (فرمایا) ”جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔“ آپ کی مراد مشرق (کی سمت) سے تھی۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبَانَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، قَالُوا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، يَقُولُ : يَا أَهْلَ الْعِرَاقِ مَا أَسْأَلَكُمْ عَنِ الصَّغِيرَةِ ، وَأَرْكَبَكُمْ لِلْكَبِيرَةِ ، سَمِعْتُ أَبِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " إِنَّ الْفِتْنَةَ تَجِيءُ مِنْ هَاهُنَا ، وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ مِنْ حَيْثُ يَطْلُعُ قَرْنَا الشَّيْطَانِ ، وَأَنْتُمْ يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ ، وَإِنَّمَا قَتَلَ مُوسَى الَّذِي قَتَلَ مِنْ آلِ فِرْعَوْنَ خَطَأً ، فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا سورة طه آية 40 " ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ فِي رِوَايَتِهِ : عَنْ سَالِمٍ ، لَمْ يَقُلْ سَمِعْتُ .

فضیل رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں میں نے سالم بن عبداللہ بن عمر کو یہ فرماتے ہوئےسنا:"اے اہل عراق (تم کسی قدرزیرہ چھانتے ہو اور اونٹ نگلتے ہو) تم چھوٹے گناہوں کو کریدتے ہو اور بڑے گناہوں کا ارتکاب کرتے ہو میں نے اپنے باپ عبداللہ بن عمر کو یہ کہتے ہوئے سنا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا:"فتنہ ادھر سےآئےگا۔"آپ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔" جہاں سے شیطان کے دو سینگ نمو دار ہوتے ہیں۔" اور تم ایک دوسرے کی گردنیں اڑاتے ہو اور موسیٰ ؑ نے تو بس ایک فرعونی کو چوک کر قتل کیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا:"اور تونے ایک نفس کو قتل کیا تو ہم نے تجھے اس غم سے نجات دی اور ہم نے تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا۔"(طہ آیت نمبر40۔)احمد بن عمر کی روایت میں سالم نے سمعت نہیں کہا۔

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2905
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا، جبکہ آپ کا رخ (مدینہ سے)مشرق کی طرف تھا:"خبردار!یقیناً فتنہ کی سر زمین ادھر ہے خبردار، فتنہ ادھر ہے، جہاں سے شیطان کا سینگ طلوع ہوتا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:7292]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: مدینہ سے مشرق میں عراق واقع ہے اور اسلام کی ابتدائی تاریخ میں تمام بدعتی فرقوں کا ظہور اس سرزمین سے ہوا ہے اور امت میں یہ فرقے اختلاف وانتشار کا باعث بنے ہیں اور نجد بلند علاقہ کو کہتے ہیں، اس لیے علامہ خطابی نے لکھا ہےُُ ُ من كان بالمدينة كان نجده بادية العراق ونواحيها، وهی مشرق اهل المدين (تکملہ ج 6 ص 315)
مدینہ میں رہنے والے کا نجد، عراق کا صحراء اور اس کے اطراف ہیں اور یہی اہل مدینہ کا مشرق ہے، اس لیے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے بیٹے حضرت سالم رحمہُ اللہُ نے اس کا مصداق اہل عراق کو ٹھہرایا، جیسا کے آگے آرہاہے۔
(تفصیل کیلئےدیکھئے منعتہ المنھم ج 4 ص 357، یہ تفصیل قابل دید ہے)
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 7292 سے ماخوذ ہے۔