حدیث نمبر: 2904
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَتِ السَّنَةُ بِأَنْ لَا تُمْطَرُوا ، وَلَكِنْ السَّنَةُ أَنْ تُمْطَرُوا ، وَتُمْطَرُوا وَلَا تُنْبِتُ الْأَرْضُ شَيْئًا " .

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قحط یہ نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو، بلکہ قحط یہ ہے کہ بارش ہو، پھر بارش ہو، لیکن زمین کوئی چیز نہ اگائے۔“

حوالہ حدیث صحيح مسلم / كتاب الفتن وأشراط الساعة / حدیث: 2904
درجۂ حدیث محدثین: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
تخریج حدیث «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عبد العزیز علوی
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"خشک سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ برسے لیکن قحط یہ ہے کہ مسلسل بارشیں ہوتی رہیں اور زمین سے کوئی پیداوار حاصل نہ ہو سکے۔"یعنی زمین کوئی چیز نہ اگائے۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:7291]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: عام طور پر خشک سالی کی صورت یہی ہوتی ہے کہ بارش نہیں ہوتی اور زمین سیراب نہیں ہوتی، اس لیے وہ کوئی چیز نہیں اگاتی، لیکن قیامت کے قریب قحط کی شکل یہ ہوگی کہ بارش خوب خوب برسے گی، جس سے زمین کو کاشت نہیں کیا جاسکے گا اور جوکچھ ہوگا، وہ بارش کی کثرت سے گل سر جائے گا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2904 سے ماخوذ ہے۔