صحيح مسلم
كتاب الفتن وأشراط الساعة— فتنے اور علامات قیامت
باب فِي سُكْنَى الْمَدِينَةِ وَعِمَارَتِهَا قَبْلَ السَّاعَةِ: باب: قیامت سے پہلے مدینہ کی آبادی کا بیان۔
حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَبْلُغُ الْمَسَاكِنُ إِهَابَ أَوْ يَهَابَ " ، قَالَ زُهَيْرٌ : قُلْتُ لِسُهَيْلٍ : فَكَمْ ذَلِكَ مِنْ الْمَدِينَةِ ، قَالَ : كَذَا وَكَذَا مِيلًا .حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:"مکانات "اِهَابَ یا يَهَابَ" پہنچ جائیں گے (یعنی مدینہ کی آبادی بہت بڑھ جائے گی اور اس کے مکانات بہت دور تک پہنچ جائیں گے)زہیر کہتے ہیں میں نے سہیل رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا یہ مدینہ سے کس قدر فاصلہ پر ہے؟ انھوں نے کہا اتنے اتنے میل دور ہے(میلوں کی تحدید نہیں مل سکی) اور بقول علامہ صفی الرحمان رحمۃ اللہ علیہ یہ غربی حرۃ کی طرف وادی عقیق سے ایک میل کے فاصلے پر ہے لیکن آج کل مکانات اس سے بہت آگے جا چکے ہیں۔